Jadid Khabar

اس سال 8000 افغانی شہری ہلاک ہوئے : اقوام متحدہ

Thumb

نیویارک، 11 اکتوبر (یواین آئی) اقوام متحدہ کے مطابق اس سال اب تک افغانستان میں 8050 شہری یا تو مارے گئے یا پھر زخمی ہوئے ۔اقوام متحدہ کی بدھ کو جاری تازہ رپورٹ میں یہ تفصیلات دی گئی ہے ۔ افغانستان میں اقوام متحدہ امدادی مشن (یوناما) کے سربراہ اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے تادامیچي یاماموتو نے کہا''افغانستان میں جاری جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہو سکتا ہے ، لہذا اقوام متحدہ افغانیوں کے مصائب کو ختم کرنے کے لئے فوری طور پر اور پرامن معاہدے کی اپنی مانگ کو دوہراتا ہے ''۔'نیوز 8000 ڈاٹ کوم 'کی رپورٹ میں مسٹر یاماموتو کے حوالہ سے کہا گیا''سبھی فریق امن کی تمام اجتماعی کوششوں کے ذریعہ شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر سکتے ہیں اور انہیں ایسا کرنا چاہئے ''۔رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح تصادم کے دوران شہریوں کے مارے جانے اور زخمی ہونے کی بڑی وجہ حکومت مخالف عناصر کی طرف سے خود کش اور غیر خودکش حملوں کے دوران آئی ای ڈی استعمال بنا۔ یوناما نے کہا کہ جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنانا اور شہریوں کے قتل بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے جو کہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے ۔رپورٹ میں اس سال 65 فیصد ہلاک لوگوں کے لئے طالبان، داعش اور دیگر سرکارمخالف عناصر کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ۔ ایک طرف خودکش حملوں اور آئی ای ڈی سے ہونے والے جانی نقصانات میں اضافہ ہوا ہے وہیں زمینی جنگ کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں 18 فیصد کمی کے ساتھ یہ 2،311 (605 اموات اور 1،706 زخمی) ہوگئی ہے ۔ اس کے علاوہ فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں 39 فیصدکے اضافہ کے ساتھ ہلاکتوں کی کل تعداد 649 (313 اموات اور 336 زخمی) ہوگئی ہے ۔

Ads