Jadid Khabar

مرد اپنی بیویوں کی جوتوں سے خاطر کریں: مصری میڈیا پرسن کا مطالبہ

Thumb

قاہرہ ،14ستمبر (ایجنسی ) مصر میں خاتون میڈیا پرسن منی ابو شنب کی جانب سے چند روز قبل سوشل میڈیا پر دیے جانے والے بیان نے بڑے تنازع اور شدید غم وغصّے کی لہر کو جنم دیا ہے۔ منی نے فیس بک پر اپنے پیج پر پوسٹ کی گئی وڈیو میں مردوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بیویوں کو ادب سکھانے کے واسطے جوتوں سے اْن کی پٹائی کریں۔ منی کا کہنا تھا کہ اگر بیویاں شوہروں کے حقوق کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوں تو مردوں کو چاہیے کہ اْن کے سروں پر جوتے برسائیں۔ منْی کی اس وڈیو کو اْن کے لاکھوں فالوورز نے دیکھا جس کے آخر میں مصری میڈیا پرسن نے باور کرایا کہ اْن کی یہ بات شریعت کے مطابق ہے۔منی ابو شنب کے اس موقف کو مصری خواتین کی جانب سے وسیع پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اس پر شدید غم و غصے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ تاہم منی کا کہنا ہے کہ وہ اس نکتہ چینی پر دھیان نہیں دیتیں اور وہ جن آرائ￿  کو مناسب سمجھتی ہیں اْن کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ خصوصی گفتگو میں مصری ٹیلی وڑن میں کام کرنے والی منی ابو شنب نے کہا کہ بعض لوگوں نے بیویوں کو جوتے سے مارنے کے مطالبے کو عمومی دعوت بنا کر اْس میں تمام خواتین کو شامل کر لیا جو کہ صحیح نہیں ہے۔منی نے واضح کیا کہ اْن کی مراد "صرف نافرمان بیویاں ہیں اور جو اپنے شوہروں کے ساتھ مار پیٹ کرتی ہیں۔ جو شوہروں کے لیے مسائل کا باعث بنتی ہیں اور معاشی حالات کا سامنا کرنے کے لیے مردوں کی مدد نہیں کرتی ہیں۔ لہٰذا مردوں کا حق ہے کہ اْن کو ادب سکھائیں۔ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں مردوں کو خواتین پر قوّام یعنی کہ نگراں مقرر کیا ہے"۔منی کے مطابق "سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مصر میں 50% بیویاں اپنے شوہروں کی پٹائی کرتی ہیں۔ یہ انتہائی شرم کی بات ہے جو ہمارے رواج اور مذہب کے ساتھ کسی طور بھی مناسبت نہیں رکھتی۔ لہذا جھگڑالو قسم کی نافرمان بیویاں جو اپنے شوہر پر ہاتھ بھی اٹھاتی ہیں ،،، ان کے مردوں کو کہا گیا کہ وہ فیصلہ کن موقف اختیار کریں اور بیویوں کو مار لگائیں خواہ سر پر جوتے ہی کیوں نہ برسانا پڑیں تا کہ ایسی بیویاں راہ راست پر آ سکیں"۔مْنی نے واضح کیا کہ وہ شوہر کی فرماں بردار بیویوں کا دل سے احترام کرتی ہیں اور ایسی بیویاں اْن کے بیان میں شامل نہیں۔یاد رہے کہ مذکورہ مصری میڈیا پرسن نے ایک برس پہلے بھی ایک سے زیادہ شادیوں کے متعلق بیان دے کر ہنگامہ کھڑا کیا تھا۔ منی ابو شنب نے مردوں کو تعدّدِ ازواج یعنی ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی دعوت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ شریعت نے بھی اس پر زور دیا ہے مگر عدل و انصاف کی شرط کے ساتھ ،،، مْنی کے مطابق ایک سے زیادہ شادیوں میں عورت کا اعزاز ہے اور اس کے لیے تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مطالبے کے شریعت کے عین مطابق ہونے کے باوجود اْن کی بات کو خواتین کے حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

Ads