Jadid Khabar

جیش محمد سے وابستہ 2 پاکستانی جنگجو ہلاک

Thumb

سری نگر ، 13 ستمبر (یو ا ین آئی) شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے شیخ پورہ سوپور میں جمعرات کو جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہونے والے ایک مسلح تصادم میں جیش محمد سے وابستہ دو غیرملکی جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا۔ ریاستی پولیس نے مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت پاکستانی شہریوں علی عرف اطہر اور ضیاں الرحمان کے بطورکی ہے ۔ پولیس کے مطابق مارے گئے جنگجوؤں میں سے علی رواں برس 6 جنوری کو سوپور میں کئے گئے دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) دھماکہ کا ماسٹر مائنڈ تھا جس میں ریاستی پولیس کے چار اہلکار جاں بحق ہوئے تھے ۔ جموں وکشمیر پولیس نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا 'سوپور مسلح تصادم میں جیش محمد سے وابستہ دو غیرملکی جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے ۔ دونوں کا تعلق پاکستان سے تھا۔ مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت علی عرف اطہر اور ضیاں الرحمان کے بطورکی گئی ہے ۔ علی سوپور آئی ای ڈی دھماکے کا ماسٹر مائنڈ تھا جس میں ریاستی پولیس کے چار اہلکار جاں بحق ہوئے تھے '۔ فوج کی چنار کور نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا 'سوپور آپریشن کے دوران دو جنگجو مارے گئے ہیں'۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شیخ پورہ سوپور کے چکی پورہ نامی گاؤں میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملنے پر فوج کی 22 راشٹریہ رائفلز (آر آر)، جموں وکشمیر کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے مذکورہ گاؤں میں گذشتہ رات تلاشی آپریشن شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تلاشی آپریشن کے دوران گاؤں میں موجود جنگجوؤں نے سیکورٹی فورسز پر گرینیڈ پھینکا اور فائرنگ کی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے جوابی فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے مابین فائرنگ کا تبادلہ وقفہ وقفہ سے گھنٹوں تک جاری رہا۔ انہوں نے بتایا کہ مسلح تصادم کے دوران دو جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے جن کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ ریاستی پولیس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ مسلح تصادم کے مقام سے برآمد ہوئے ممنوعہ مواد کی بناء پر مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت پاکستانی شہریوں علی عرف اطہر اور ضیاں الرحمان کے بطورکی گئی ہے ۔ بیان میں کہا گیا 'مارے گئے جنگجو کالعدم تنظیم جیش محمد سے وابستہ تھے ۔ علی جیش محمد کے اہم کمانڈروں میں سے تھا اور سنہ 2014 سے سرگرم تھا۔ وہ سوپور آئی ای ڈی دھماکے کا ماسٹر مائنڈ تھا جس میں ریاستی پولیس کے چار اہلکار جاں بحق ہوئے تھے ۔ مارے گئے دونوں جنگجو سیکورٹی فورسزتنصیبات اور شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے '۔ بتادیں کہ ایپل ٹاون سوپور میں 6 جنوری 2018 ء کی صبح ہوئے ایک ہلاکت خیز آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں جموں وکشمیر پولیس کے چاراہلکار ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے تھے ۔ یہ 2015 ء کے بعد کشمیر میں ہونے والا پہلا آئی ای ڈی دھماکہ تھا۔ 'جیش محمد' نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ جیش محمد نے کہا تھا کہ آئی ای ڈی دھماکہ تنظیم کے 'شہید افضل گورو اسکواڈ' نے انجام دیا۔ ایپل ٹاون سوپور میں جنگجوؤں کی جانب سے یہ دھماکہ اس وقت انجام دیا گیا تھا جب قصبہ میں سنہ 1993 میں 6 جنوری کے دن پیش آنے والے قتل عام کی برسی منائی جارہی تھی۔ 6 جنوری 1993 ء کو جنگجوؤں نے سوپور میں ایک بی ایس ایف اہلکار کو ہلاک کیا تھا جس کے بعد مبینہ طور پر بی ایس ایف نے اشتعال میں آکرعام شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 50 سے زائد عام شہری جاں بحق جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوئے تھے ۔ دریں اثنا انتظامیہ کی طرف سے ایپل ٹاون سوپور میں موبائیل انٹرنیت خدمات منقطع کرائی گئی ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے کا اقدام احتیاطی طور پر اٹھایا گیا ہے ۔ انٹرنیٹ خدمات کے علاوہ ریلوے حکام کی طرف سے سری نگر اور بارہمولہ کے درمیان چلنے والی ریل خدمات کو معطل کیا گیا ہے ۔ ریلوے ذرائع نے بتایا کہ شمالی کشمیر میں ریل خدمات ریاستی پولیس کے مشورے پر معطل کی گئی ہیں۔ اس دوران قصبہ سوپور میں جمعرات کو انتظامیہ کے احکامات پر تمام تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل معطل رہا۔

Ads