Jadid Khabar

ہاردک پٹیل کی 19ویں دن بھوک ہڑتال ختم

Thumb

احمدآباد،12ستمبر(یواین آئی)پاٹی دار آرکشن آندولن سمیتی(پاس)نے آج اعلان کیا ہے کہ کسانوں کی قرض معافی،پاٹی دار آرکشن اور غداری کے معاملے میں جیل میں بند اپنے ایک ساتھی کی رہائی کے مطالبے کے سلسلے میں گزشتہ 25اگست سے یہاں بھوک ہڑتال پر بیٹھے اس کے لیڈر ہاردک پٹیل آج 19ویں دن اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں گے ۔پاس کے ترجمان منوج پنارا نے کہا کہ ان کی برادری کے سینئر لوگوں اور پاس کے کنوینروں کے اتفاق رائے سے ہاردک کا صحت مند رہنا مستقبل کے مظاہروں کے لئے ضروری ہے ۔طبقے کی دو بڑی تنظیموں کھوڈل دھام اور امیادھام کے سربراہوں کے ہاتھوں سے کچھ کھاکر وہ آج دوپہر بعد تین بجے بھوک ہڑتال ختم کریں گے ۔تینوں مطالبات کے سلسلے میں احتجاج جاری رہے گا۔اسی دوران،ہاردک کے سابق ساتھی اور بی جے پی لیڈر کیتن پٹیل نے کہا کہ پاٹی دار سماج نے اب سمجھ لیا ہے کہ ہاردک پٹیل سیاسی وجوہات سے تحریک کو کسی طرح زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ریاستی حکومت نے پہلے ہی پاٹی دار آندولن سے متعلق زیادہ تر ممکن مطالبات کو مان لیا تھا اور تحریک تبھی ختم ہوجانی چاہئے تھی لیکن ہاردک اپنے ذاتی مفادات کو حاصل کرنے کے لئے اس تحریک کو جاری رکھنا چاہتے تھے ۔اس لئے اب انہیں کوئی حمایت نہیں مل رہی ہے ۔ان کے گزشتہ پروگراموں کے دوران ہوئی توڑ پھوڑ اور تشدد کے پیش نظر باہر بھوک ہڑتال کی اجازت نہ ملنے پر یہاں اپنے گرین ووڈ ریسورٹ میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہاردک پٹیل کو 14ویں دن سات ستمبر کو پہلے سرکاری اسپتال میں اور بعد میں پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایاگیا تھا۔علاج کے بعد 9ستمبر کو واپس وہ اپنی رہائش گاہ پر بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ۔آج کل ملا کر ان کی بھوک ہڑتال کا 19واں دن ہے ۔انہوں نے اس دوران دو بار پانی بھی نہیں پیا تھا لیکن بعد میں پھر سے پانی پینا شروع کردیا تھا۔ہاردک کیمپ کی طرف سے بار بار دئے گئے الٹی میٹم کے باوجود ریاست کی بی جے پی حکومت نے اس بار سخت رخ اختیار کر رکھا ہے ۔اس نے کہا کہ ہاردک نے گزشتہ انتخابات میں کانگریس کی حمایت کی تھی اور اب بھی وہ اسی کے اشارے پر آئندہ ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں اسے فائدہ پہنچانے کے ارادے سے یہ مظاہرہ کررہے ہیں۔ہاردک سے ملنے والوں میں زیادہ تر کانگریس کے لیڈر تھے ،اس کے علاوہ وزیراعظم نریندر مودی کے کٹر مخالف مانے جانے والے سابق وزیر یشونت سنہا ،شتروگھن سنہا اور کئی دیگر ایسے چہرے شامل تھے ۔

Ads