Jadid Khabar

بلجیم میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے خلاف ’جمہوری‘ قوتیں متحد!

Thumb

برسلز،11ستمبر (ایجنسی) یورپی ملک بلجیم کے سیاسی اکھاڑے کی چار بڑی جمہوری سیاسی جماعتوں نے ملک میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے کوشاں ’اسلام‘ پارٹی پرپابندی لگانے کی کوششیں شروع ہیں۔’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘کے مطابق بیلجیم کی دائیں بازو،اعتدال پسند اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی چار سیاسی جماعتوں نے دستور میں ایک ترمیمی بل پیش کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں مذہبی بنیادوں پر سیاست میں سرگرم ہونے اور اسلامی شریعت کے نفاذ کامطالبہ کرنے سے روکنے کی سفارش کی جائے گی۔ اس مجوزہ آئینی ترمیم کا مقصد ملک کے دستور کے لیے خطرہ بننے والی جماعتوں پر پابندی عاید کرنا ہے۔بیلجین رْکن پارلیمنٹ رچرڈ میللر کا کہنا ہے کہ’اسلام‘پارٹی کے نمائندوں نے کھلے بندوں ملک کا عدالتی نظام تبدیل کرکے اسلامی شرعی عدالتی نظام نافذ کرنے کی خواہش اظہار کیا ہے، تاہم ان کیغیرجمہوری نظریات پر منفی رد عمل کے خدشے کے پیش نظرانہوں نے اپنے پروگرام کے بعض نکات تبدیل کیے ہیں۔’اسلام‘ پارٹی کے سربراہ نے اپنے حامیوں کی بیلجیم کے معاشریمیں اسلامی شرعی قوانین کے نفاذ کوششوں کا برملا اظہار کیا ہے۔’اسلام’پارٹی کے مراکشی نڑاد رْکن عبدالحی بقالی طاھری نے ’العربیہ‘ کی ٹیم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہاں میں پورے وثوق اور وضاحت کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہماری جماعت کا منشور بیلجیئم کے دستور کو اسلامی سانچے میں ڈھالنا اور بیلجیم معاشرے میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی کوشش کرنا ہے‘ انہوں نیمزید وضاحت کی کہ اسلامی شرعی قوانین دنیا کے کئی دوسرے ملکوں میں بھی رائج ہیں۔ ہم اسلامی قوانین کو ایک رول ماڈل کیطورپر پیش کرنا چاہتے ہیں۔’اسلام‘ پارٹی کی بیلجیئم میں اسلامی شریعت کے نفاذ کی کوششوں پر ملک کے سیاسی اور سماجی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید جاری ہے۔ عوامی حلقوں میں بھی بیلجیئم کی اسلامی جماعت اور اس کی ملک میں تبدیلی کی کوششوں کو مشکوک قرار دیا ہے۔ ملک کی چار بڑی جمہوری سیاسی جماعتوں سوشلسٹ پارٹی،ہیومن ڈیموکریٹک پارٹی،ریفارمر موومنٹ اور چیلنج پارٹی نے ’اسلام‘ پارٹی کی راہ روکنے کی کوششیں تیزکردی ہیں اور ملک کر پارلیمنٹ میں اسلام پارٹی کوششو کوناکام بنایا جائے گا۔

Ads