Jadid Khabar

کلدیپ نیرکی صحافتی وراثت کو سنبھال کر رکھنا ہے : اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن

Thumb

ممبئی، 30 اگست(یواین آئی) معروف صحافی اور دانشور آنجہانی کلدیپ نیرنے ہمیشہ اظہاررائے کی آزادی اورجمہوریت وسیکولرزم کی لڑائی لڑی اور ظلم و ناانصافی کے ساتھ ساتھ حق وانصاف کی آوازکو دبانے والے ارباب اقتدار کیخلاف سینہ سپر ہوگئے ، چاہے ایمرجنسی ہویا پریس ایکٹ ،انہوں نے باطل قوتوں کے آگے کبھی سر نہیں جھکایا۔مذکورہ خیالات کا اظہار آج یہاں اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن اور پریس کلب ممبئی کے ایک مشترکہ تعزیتی جلسہ میں مقررین نے کیا اور اس بات کا عزم کیاکہ کلدیپ نیر کی اس جدوجہداور لڑائی کو مزید آگے بڑھایا جائے گا تاکہ اظہاررائے کو دبانے اور مظلوم وناانصافی کا شکار لوگوں کے لیے آواز بلند کی جائے ۔اس تعزیتی جلسہ سے بزرگ کہنہ مشق صحافی حسن کمال، صحافی اورواجپئی کے سیاسی صلاح کار سدھیندرکلکرنی، پریس کلب کے چیئرمین گربیر سنگھ، مراٹھی پترکار سنگھ کے صدرنریندراوبلے ، سنیئر ہندی صحافی ابھیلاش اوستھی، یوجے اے کے صدر خلیل زاہد، سکریٹری سرفراز آرزواور کلب کے صدر دھرمیندر جورے نے خطاب کیا ۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں سدھیندر کلکرنی نے کہاکہ کلدیپ نیر ہندوستانی صحافت کے ایک بلند وبالا شخصیت کے مالک تھے ، جنہوں نے ملک کی تقسیم کا دکھ جھیلا اورملک میں اظہاررائے کی آزادی کے ساتھ ساتھ ہندومسلم اتحاد اور ہند وپاک کے بہتر تعلقات کے لیے جدوجہد کرتے رہے جبکہ انہوں نے بہترین صحافتی خدمات انجام دیں۔بلکہ 95 سال کی عمر یعنی آخری دم تک سرگرم رہے ۔ آنجہانی کلدیپ نیرماضی کے ہی نہیں بلکہ آج کے صحافیوں کے لیے بھی ایک مثال کہے جاسکتے ہیں کلدیپ نیر ایک کہنہ۔مشق صحافی تو تھے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک کارکن بھی رہے جو ایک۔مقصد کے لیے جدوجہد کرتے رہے ۔کلکرنی نے مزید کہاکہ ہند وپاک کے درمیان بہتر تعلقات کی انہوں نے ہمیشہ وکالت کی اور ایک عرصہ تک دونوں ملکوں کی سرحد پر جاکر موم بتیاں جلاتے تھے ۔ ان کے مشن کو ہمیں مزید آگے بڑھانا ہے تاکہ اس خطہ میں امن قائم ہو بلکہ بھکمری اور غربت سے لڑا جاسکے ۔بزرگ صحافی حسن کمال نے کہاکہ کلدیپ نیر صحافت کاایک نام نہیں رہ گیا ہے بلکہ وہ ایک انسٹی ٹیوشن یا ادارہ بن چکا اور اس وراثت کو ہمیں سنبھال کر رکھنا ہے ۔بلکہ اس کو نوجوانوں تک پہنچانا ہوگا۔ کیونکہ آج کے سیاسی حالات میں ہمیں ان کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور آج جو لوگ ڈرارہے ہیں دراصل وہی ڈرے ہوئے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم یہ پیغام ارباب اقتدار تک پہنچا دیں کہ ہم ڈریِ گے نہیں بلکہ۔مر جائیں اور پیغام ہمیں کلدیپ نیر کی صحافت نے دیا ہے ۔ہمیں ان کی ان تعلیمات کو زندہ رکھنا ہوگا۔اس سے قبل یوجے اے کے صدر خلیل زاہد نے کہاکہ یہ ایک اچھی پہل ہے کہ پریس کلب اور اردو صحافی ایک ساتھ ملے بیٹھے ہیں، کلدیپ نیر نے اردو صحافت سے شروعات کی اور آخری دم تک انہوں نے اسے زندہ رکھا، اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی کوشش ہوگی کہ وہ ان کی ایک یاد گار قائم کرے ۔پریس کلب کے چیئرمین گربیر سنگھ نے کہاکہ ملک کے ۔موجودہ حالات میں ان کی شدید ضرورت ہے کیونکہ اظہاررائے کو دبانے اور انصاف کا گلا گھونٹنے کی کوشش جاری ہے ، انہوں نے دوروز قبل کئی سماجی کارکن کی گرفتاری کا حوالہ دیا، کلب کے صدر دھرمیندر جورے نے انکے ساتھ کام کرنے ان کے نجی معاملات کو پیش کی جبکہ ہندی کے سنیر صحافی ابھیلاش آوستھی نے انہیں ایک ایسا صحافی بتایا جو مورخ بھی تھا اور 1947 میں ملک کی تقسیم اور بعدمیں پیش آنے والی سیاسی واقعات کے وہ چشم دید رہے ۔جبکہ اردوٹائمز سے محترمہ قمر سعید احمد، مولانا ظہیر عباس رضوی خازن فاروق سیّد، جاوید جمال الدین، جمال سنجر، شحیم خان، مقبول عالم، ہارون افروز، ذیشان سیداحمد، نظام الدین راعین، احمد اظہار، عبدلاناصر زکریا، سلیم الوارے ، افروز ملک وغیرہ نے شرکت کی۔

Ads