Jadid Khabar

زیکا، ڈینگو اور ہیپٹائٹس سی کا ٹیکہ ایجاد کرنے والے ڈاکٹر ممتاز نیرکمبرج یونیورسٹی شعبہ ایمونولوجی کے استاذ مقرر

Thumb

نئی دہلی،10اگست (یو این آئی)ہندوستان کے ممتاز سائنس داں ڈاکٹر ممتاز نیر دنیا کی باوقار اور ممتاز یونیورسٹیوں میں سے ایک کمبرج یونیورسٹی کے شعبہ پتھالوجی کے ایمونولوجی ڈویژن میں ریسرچ ایسوسی ایٹ مقرر کئے گئے ہیں۔ جہاں وہ اپنے تحقیقی کاموں کے علاوہ گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کے طلبہ کو درس بھی دیں گے ۔ڈاکٹر نیر اس عہدے پر پہنچنے والے سیمانچل پر پہلے شخص ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے برطانیہ کے ہی یونیورسٹی آف ساؤتھ تھیمپٹن میں پوسٹ ڈاکٹرل کی ڈگری حاصل کی ہے جہاں انہوں نے اپنی تحقیق سے نہ صرف دنیا کو متاثر کیا بلکہ حیات انسانی کے میدان میں نمایاں کام بھی کیا ہے ۔ جہاں انہوں نے اپنی ٹیم اور اساتذہ کے ساتھ زیکا، ڈینگو اور ہیپاٹائٹس سی کے ٹیکہ کی تیار ی میں اہم کامیابی حاصل کی تھی۔ان کی یہ کامیابی اس وقت پیٹنٹ کے مرحلے سے گزر رہی ہے ۔ڈاکٹر نیر کے اس ایجاد کو دنیا بھر کے سائنس دانوں نے ایک انقلابی کھوج بتایاہے جس سے انہوں نے بہار ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا نام دنیا میں روشن کیا ۔انہوں نے یہ ٹیکہ برطانیہ کے یونیورسٹی آف ساؤتھ تھیمپٹن کی لیبارٹری میں تجربات کے دوران تیار کیا ہے ۔اس سلسلے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ' ڈاکٹر نیر نے بتایاتھا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ یونیورسٹی آف ساؤتھ تھیمپٹن کی لیباریٹری میں گزشتہ پانچ برسوں سے اس پر کام کرنے کے بعد اس ٹیکے کی تیاری کے سمت میں کامیابی حاصل کی ہے ۔اگر یہ ٹیکہ کامیاب ہوجاتا ہے تو دنیا بھر کے میڈیکل سائنس میں انقلاب آجائے گا اور اس سے دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں کو ان لاعلاج بیماریوں سے نجات مل جائے گی اور جان بچائی جاسکے گی۔ڈاکٹر نیر نے کہا کہ ان کی ٹیم کی تحقیق دنیا کے باوقار میڈیکل اور سائنس جرنل 'سائنس ایممیو نالوجی' میں شائع ہوئی ہے جس میں محققین نے جسم کے مدافعتی نظام (ایمیون سسٹم)کے بنیادی حصہ نیچرل کیلر سیلس (این کے سیلس) پر تحقیق کی ہے جو کئی طرح کی جان لیوا بیماریوں کے وائرس سے لڑنے میں اور ان کا علاج میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس تحقیق میں ان کی ٹیم نے ہیپٹائٹس سی سے متاثرہ 300مریضوں کے ڈی این اے کا مطالعہ کیا۔ مطالعہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیچرل کیلر سیلس کے ایک ریسیپٹرKIR2DS2کی مدد سے زیکا، ڈینگو اور ہیپٹائٹس سی کے وائرس کو ناکارہ کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ان کے علاوہ ان کی ٹیم نے کئی نئی ٹکنالوجی کا استعمال کرکے یہ دکھایا کہ ایک ہی ٹیکہ سے کئی وائرس کا دفاع ممکن ہے ۔ یہ اس لئے بھی دلچسپ ہے کہ ہم ویکسین (ٹیکہ) تیار کرنے کے روایتی ماڈل کو ترک کرکے جدید طریقے کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں جس میں وائرس کی کوٹ پروٹین کو نشانہ نہیں بناکر نان اسٹرکچلرل پروٹین این ایس تھری ہیلی کیز کو نشانہ بنارہے ہیں۔یہ ٹیکہ نیچرل کیلر سیلس پر مبنی ہوگا۔کمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا اور یہاں وہاں خدمات انجام دینا ہندوستان کیا کسی بھی ملک کے طلبہ کا خواب رہا ہے کیوں کہ وہاں ان کی موجودگی کی حصولیابی سمجھتی جاتی ہے اور آزادی سے پہلے اور بعد میں ہندوستان کا خوش حال طبقہ وہاں اپنے بچوں کو تعلیم دلانا باعث فخر سمجھتا تھا۔مسٹر وہاں نہ صرف شعبہ تحقیق سے وابستہ ہوئے ہیں بلکہ وہاں وہ طلبہ کو پڑھائیں گے بھی اور ایمیونولوجی کے شعبہ میں اپنی تحقیق سے دنیا میں موجود کئی بیماریوں سے چھٹکارا دلانے میں مددگار ثابت ہوں گے ۔واضح رہے کہ ڈاکٹر ممتاز نیر نے اپنی پی ایچ ڈی کے دوران کالازار، ایچ آئی وی، کینسر کی بیماری پر کنٹرول کے لئے ایک بڑی کھوج کی تھی جو کہ پانچ سال قبل ستمبر 2012میں شائع ہوئی تھی۔ ڈاکٹر نیر برطانیہ میں مشہور یونیورسٹی ساؤتھ تھیمپٹن سے پوسٹ ڈاکٹورلریسرچ ایسوسی ایٹ کے طور پر کام کیا ہے ۔ نیشنل سینٹر فار سیل سائنس، پونے سے انہوں نے ایمیونولوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ماسٹر آف سائنس بایو ٹیکنالوجی میں جامعہ ہمدرد، نئی دہلی سے کیا، جبکہ بی ایس سی بایو ٹیکنالوجی جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے کیا۔ بہار کے کشن گنج ضلع کے بلاک ٹھاکر گنج سے تقریبا 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بیسرباٹی گرام پنچایت کے کربلبھٹٹا گاؤں کے باشندہ ہیں۔ 1996میں انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا۔ ان کو اس مقام تک پہنچانے میں والدین کا زبردست کردار رہا ہے ۔بچپن میں والد کے انتقال کے بعد والدہ اور بڑے بھائی کی کافی محنت رہی ہے ۔2006میں والدہ کے انتقال کے بعد وہ ٹوٹ گئے تھے لیکن انہوں نے اپنی ہمت کو یکجا کیا اور اپنی پڑھائی جاری رکھی۔

Ads