Jadid Khabar

انڈونیشیا میں خوفناک زلزلہ ‘ 319ہلاک

Thumb

ماتارام 9 اگست (ایجنسی) ایک طاقتور مابعد زلزلہ جھٹکا انڈونیشیا کے علاقہ لومبوک میں آج محسوس کیا گیا جس کی وجہ سے تباہ کن زلزلہ سے خوف زدہ افراد جو تخلیہ میں مصروف تھے، دہشت زدہ ہوگئے۔ 5.9 شدت کے زلزلے کا جھٹکہ شمال مغربی جزیرہ لومبوک میں محسوس کیا گیا۔ یہ تعطیلات منانے کا ایک مقبول مرکز ہے۔ امریکی ارضیاتی سروے کے بموجب راحت رساں ادارہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لئے دوڑ پڑے اور ملبہ میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش شروع کردی۔ یہ 355 مابعد زلزلہ جھٹکوں میں سب سے طاقتور جھٹکہ تھا جس سے قومی آفات سماوی محکمہ کے ترجمان سوتوپو پروو مگروہو کے بموجب تخلیہ کرنے والوں نے شمالی لومبوک کے ضلع تانجونگ میں پناہ لی ہے لیکن اُن میں سے کئی چیختے چلاّتے ہوئے اپنی پناہ گاہوں سے باہر نکل آئے۔ سڑک پر کھڑی ہوئی موٹر سائیکلیں دیواروں پر گر گئیں اور بعض قریبی عمارتوں کی دیواریں منہدم ہوگئیں۔ ایک خاتون جو موٹر سائیکل کا ہیلمنٹ پہنے ہوئے تھی، اپنی دو بیٹیوں کو لے کر اِس علاقہ سے گزرتی ہوئی دیکھی گئی۔ عینی گواہ سری لکشمی نے کہاکہ ہم ٹریفک میں پھنس گئے تھے جبکہ امداد تقسیم کررہے تھے۔ اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میری کار کو پیچھے سے ٹکر ہوگئی ہے۔ زلزلہ کا جھٹکہ اتنا ہی زبردست تھا۔ سڑک پر موجود افراد دہشت زدہ ہوگئے اور اپنی کاروں سے باہر نکل آئے۔ وہ ٹریفک کے درمیان سے مختلف سمتوں میں دوڑ رہے تھے۔ مابعد زلزلہ جھٹکہ 6.9 شدت کے تباہ کن زلزلے کے 4 دن بعد محسوس کیا گیا۔ یہ زلزلہ جزیرہ لومبوک میں آیا تھا۔ راحت رساں اداروں کے بموجب پورے پورے دیہات زمین دوز ہوگئے۔ بدترین متاثرہ علاقے شمال اور مغرب میں واقع ہیں۔ جملہ 319 افراد سے زیادہ زلزلہ سے ہلاک ہونے کی توثیق ہوچکی ہے۔ نگروہو نے کہاکہ 1400 افراد شدید زخمی اور دیڑھ لاکھ سے زائد بے گھر ہوگئے ہیں۔ سرکاری خبررساں ادارہ انتارہ کی اطلاع کے بموجب 347 افراد ہلاک ہوچکے ہیں لیکن نگروہو کا کہنا ہے کہ یہ تعداد نامکمل ہے اور اِس کی توثیق نہیں ہوئی۔ تاہم اُن کے بموجب ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ مزید تفصیلات ہنوز دستیاب نہیں ہوسکیں۔
 تاہم ترجمان نے کہاکہ جمعرات کے دن ہلاکتوں کی تعداد میں اچانک بہت زیادہ اضافہ ہوا تھا۔ تاہم اُنھوں نے تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا۔ مقامی عہدیداروں نے بین الاقوامی راحت رساں گروپس اور مرکزی حکومت سے ربط پیدا کیا ہے اور یہ سب امداد کا اہتمام کررہے ہیں لیکن سڑکیں تباہ ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے زندہ بچ جانے والے افراد تک لومبوک کے پہاڑی جزیرہ میں رسائی حاصل کرنا مشکل ہورہا ہے۔ ہنوز نقصانات کا تخمینہ نہیں ہوسکا لیکن یہ واضح ہے کہ اتوار کے دن کا زلزلہ غیرمعمولی تباہ کن تھا۔ اندیشہ ہے کہ دو مسجدیں شمالی لومبوک میں منہدم ہوچکی ہیں جن میں مصلی کثیر تعداد میں موجود تھے۔ 

 

Ads