Jadid Khabar

آئی آر سی ٹی سی معاملہ: لالو پرساد یادو اور اہل خانہ پر فردِ جرم سے متعلق فیصلہ 16 جولائی تک ملتوی

Thumb

 
نئی دہلی: دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے آئی آر سی ٹی سی گھوٹالے سے متعلق مبینہ منی لانڈرنگ معاملے میں راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو، ان کے اہل خانہ اور دیگر ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے سے متعلق فیصلہ 16 جولائی تک ملتوی کر دیا ہے۔ اس معاملے کی جانچ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کر رہا ہے۔
عدالت کو منگل کے روز لالو پرساد یادو، تیجسوی یادو، رابڑی دیوی سمیت 16 افراد کے خلاف فردِ جرم طے کرنے کے سوال پر فیصلہ سنانا تھا، تاہم عدالت نے اس معاملے پر اپنا حکم محفوظ رکھتے ہوئے فیصلہ آئندہ سماعت تک مؤخر کر دیا۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق 2004 سے 2009 کے درمیان، جب لالو پرساد یادو مرکزی وزیر ریلوے تھے، اس دوران آئی آر سی ٹی سی کے ہوٹلوں کے آپریشن اور دیکھ بھال کے ٹھیکوں کی تقسیم میں مبینہ بے ضابطگیاں کی گئیں۔ تفتیشی ایجنسی کا الزام ہے کہ ہوٹلوں کے انتظام کے معاہدے مقررہ قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کے بغیر ایک ایسی نجی کمپنی کو دیے گئے جو مبینہ طور پر لالو پرساد یادو کے قریبی ساتھیوں سے وابستہ تھی۔
تحقیقات کے مطابق ان معاہدوں کے بدلے میں لالو خاندان اور ان کے ساتھیوں سے منسلک ایک مبینہ بے نامی کمپنی کے ذریعے تقریباً تین ایکڑ قیمتی زمین حاصل کی گئی۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہی زمین مبینہ مالی لین دین اور منافع کے تبادلے کا اہم حصہ تھی۔
اس مقدمے میں نامزد ملزمان میں لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی، تیجسوی یادو، تیج پرتاپ یادو، میسا بھارتی، ہیما یادو اور دیگر افراد شامل ہیں۔ اس سے قبل خصوصی جج نے ملزمان اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل سننے کے بعد فردِ جرم سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
ادھر دہلی ہائی کورٹ میں بھی لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو کی جانب سے دائر فوجداری نظرثانی کی درخواستیں زیر سماعت ہیں۔ ان درخواستوں میں ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں اسی مبینہ گھوٹالے سے متعلق بدعنوانی کے مقدمے میں ان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
گزشتہ سال اکتوبر میں راؤز ایونیو عدالت نے ملزمان کے بے قصور ہونے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے تعزیراتِ ہند اور انسدادِ بدعنوانی قانون کے تحت دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش اور بدعنوانی سے متعلق الزامات پر فردِ جرم عائد کی تھی۔ تاہم لالو پرساد یادو مسلسل ان تمام الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ آئی آر سی ٹی سی کے ہوٹلوں کے ٹھیکے مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ طریقے سے دیے گئے تھے۔