Jadid Khabar

تلنگانہ: کے سی آر کی بیٹی کویتا جلد ہی اپنی نئی پارٹی کا کریں گی اعلان

Thumb

جنوبی ہندوستان کی سیاست میں جلد ہی ایک اور نئی سیاسی پارٹی منظر عام پر آنے جا رہی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کی بیٹی اور سابق رکن پارلیمنٹ کے کویتا آئندہ 3 ماہ کے اندر نئی سیاسی پارٹی بنانے جا رہی ہے۔ ’تلنگانہ جاگرتی‘ کی سربراہ کے کویتا نے جمعرات (19 فروری) کو رواں سال مئی میں اپنی مجوزہ سیاسی پارٹی لانچ کرنے کا اشارہ دیا۔

حیدرآباد میں نامہ نگاروں کے ساتھ ایک غیر رسمی گفتگو کے درمیان کویتا نے کہا کہ پارٹی تلنگانہ اور ریاست کے مفادات سے وابستہ ہوگی اور اس کا نام ریاست کی نمائندگی کرے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی پارٹی اس وقت ریاست میں اہم اپوزیشن ہے۔ نئی پارٹی کے ابتدائی انتخابی مستقبل کا ذکر کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ ان کی پارٹی ضلع پریشد ٹیروٹیریل کونسٹیٹیوئنسی (زیڈ پی ٹی سی) انتخاب لڑے گی۔ جب بھی یہ انتخاب کرائے جائیں گی ان کی پارٹی اس میں شامل ہوگی، ساتھ ہی کسی دوسری پارٹی کے ساتھ مل کر انتخاب میں حصہ لے گی۔
کے کویتا کے مطابق مجوزہ پارٹی کو حیدرآباد میں ہونے والے آئندہ بلدیاتی انتخاب کے لیے انتخابی نشان مل سکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ ریاستِ تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی۔ بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) میں ٹوٹ کے متعلق دعویٰ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے کئی لیڈران ان کی مجوزہ پارٹی میں شامل ہونے کے متعلق اپنی دلچسپی دکھا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ کے کویتا کا تعلق تلنگانہ سیاست سے وابستہ ایک بڑے سیاسی خاندان سے ہے۔ حالانکہ کویتا کو گزشتہ سال ستمبر میں بی آر ایس سے معطل کر دیا گیا تھا۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب انہوں نے اپنے چچیرے بھائی اور پارٹی لیڈر ٹی ہریش راؤ اور جے سنتوش کمار پر یہ الزام عائد کیا کہ انہوں نے بی آر ایس دور حکومت کے ’کالیشورم لفٹ اریگیشن پروجیکٹ‘ کے حوالے سے ان کے والد اور پارٹی سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کی شبیہ کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ پارٹی سے معطل کیے جانے کے بعد سے کویتا ’تلنگانہ جاگرتی‘ نامی ثقافتی تنظیم کے بینر تلے سماجی مسائل پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔ وہ فی الحال ’تلنگانہ جاگرتی‘ کی سربراہ ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ان کا سیاسی پلیٹ فارم ریاست میں اگلا اسمبلی انتخاب لڑے گا۔