Jadid Khabar

سعودی عرب: افغانستان میں قیام امن اور استحکام کے لیے علماء کی بین الاقوامی کانفرنس

Thumb

ریاض،12جولائی (ایجنسی) سعودی عرب کے شہر جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے زیر اہتمام افغانستان میں امن واستحکام کے موضوع پر منعقدہ علمائ￿  کی بین الاقوامی کانفرنس کے شرکائ￿  نے افغان علمائ￿  پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں متحارب فریقوں کے درمیان جاری موجودہ تنازع کا کوئی حل تلاش کریں تاکہ ملک میں امن واستحکام لایا جا سکے اور وہ افغان عوام میں اختلافات کے بیج بونے والی جماعتوں کے مقابلے میں افغان حکومت کا ساتھ دیں۔کانفرنس میں شریک اسلامی اسکالروں اور علمائ￿  کے ایک وفد نے جدہ میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے بھی ملاقات کی ہے۔ خادم الحرمین الشریفین نے ان کا خیرمقدم کیا اور کانفرنس کے انعقاد پر او آئی سی کو سراہا۔انھوں نے علمائ￿  کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ بہترین لوگ ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں ،ان کی صفوں میں اتحاد پیدا کررہے ہیں اور اسلامی دنیا کو جنگوں ، بحرانوں اور انتہا پسندی اور دہشت گردی کی لعنتوں سے نکال رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے سعودی مملکت کو الحرمین الشریفین کی خدمت کا شرف بخشا ہے اور یہ کام ہم اپنے آبائ￿  کے دور سے کرتے چلے آ رہے ہیں‘‘۔شاہ سلمان نے کہا کہ ’’سعودی عرب افغان عوام کو ان کے بحرانوں اور پھر اس کے نتیجے میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے انسانی اور مالی امداد مہیا کر رہا ہے اور وہ افغان عوام کے مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات اور تقسیم کے خاتمے کے لیے مسلسل مربوط سیاسی کوششیں بھی کر رہا ہے‘‘۔انھوں نے کہا:’’آج ہمیں امید ہے کہ آپ ( علمائ￿ ) کی کوششوں کے نتیجے میں افغانستان میں ماضی کا صفحہ بند کرنے اور ایک نیا صفحہ کھولنے میں مدد ملے گی۔ اس سے افغان عوام کی ملک میں سلامتی اور استحکام کے لیے امنگوں کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔اس کے لیے ہمارے دینِ اسلام کی تعلیمات کے مطابق مکالمے ، مصالحت اور رواداری کی اقدار کو اپنانے کی ضرورت ہے‘‘۔ساحلی شہر جدہ میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے پہلے سیشن کا عنوان ’’اسلام میں مصالحت، افغانستان میں امن واستحکام میں علمائ￿  کا کردار‘‘ تھا۔ اس کے منتظم شاہی دیوان کے مشیر اور مسجد الحرام کے امام اور خطیب ڈاکٹر صالح بن حمید تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں گذشتہ ماہ رمضان میں افغان علمائ￿  کے جاری کردہ ایک فتوے کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس میں افغانستان میں افغان حکومت کے خلاف جنگ کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔اس سیشن میں افغانستان میں رونما ہونے والے واقعات اور افغان عوام کے خلاف دہشت گردی کی جنگ اور اس کے خاتمے میں علمائ￿  کا کردار مرکزی موضوع تھا۔ اس حوالے سے تقریریں کی گئی ہیں اور علماء نے افغان مسئلے کے حل کے لیے مختلف تجاویز پیش کی ہیں۔

Ads