Jadid Khabar

قطر کا من گھڑت پیغام ’’دبئی بھوتوں کا شہر‘‘ ، اعداد و شمار اس کے برعکس

Thumb

دوحہ ،11جولائی (ایجنسی ) دبئی بْھوتوں کا شہر ! یہ قطری حکومت کے زیر انتظام ایک نیوز چینل کی بھونڈی سوچ ہے جس نے قطر میں "واٹس ایپ" پر پھیلائے گئے ایک من گھڑت میسج کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ یہ میسج دبئی میں طرز زندگی کے حوالے سے انگریزی زبان کے ایک جریدے کی رپورٹ سے متعلق ہے جس میں دبئی میں ایک ریستوران کی بندش کو بنیاد بنایا گیا۔شاید دبئی کا ہوائی اڈہ بھی مسافروں کے بجائے بھوتوں کے ہجوم سے بھرا رہتا ہے ! اسی لیے وہ سالانہ 8.8 کروڑ مسافروں کے ساتھ لندن کے ہیتھرو اور ہانگ کانگ کے ہوائی اڈوں سے آگے نکل چکا ہے۔ ایمریٹس ایئرلائن نے بھی بھوتوں کے شہر میں اپنے صدر دفتر کے ساتھ مارچ میں اپنے مالی سال کے اختتام پر 1.1 ارب ڈالر کا خالص منافع کمایا۔اسی واسطے بین الاقوامی فرم اَرنِسٹ اینڈ ینگ کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران دبئی کے ہوٹلوں کے پْر رہنے کی شرح 87% تک پہنچ گئی۔بْھوتوں کے شہر "دبئی" میں ہر دور روز میں 5 نئے ریستورانوں کا افتتاح دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہاں پر ریستورانوں کی مجموعی تعداد 17 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔بھوتوں کے شہر کے آخری سیزن میں 60 لاکھ سے زیادہ افراد نے اس کے گلوبل ولیج کا دورہ کیا۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران روزانہ اوسطا 2.33 لاکھ افراد "دبئی مول" آئے۔ یہ مول 1200 دکانوں اور ریستورانوں پر مشتمل ہے۔بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کی جانب سے رواں سال کے لیے جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ دبئی کا دنیا بھر کے اْن شہروں میں چھٹا نمبر ہے جہاں لوگ کام کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ گزشتہ برس اس فہرست میں دبئی کا 11 واں نمبر تھا۔ اقتصادی ترقی کے محکمے نے صرف رواں سال مئی کے ایک مہینے میں 1700 نئے تجارتی لائسنس جاری کیے۔بھوتوں کے شہر میں تجارت کے حال کی بات کی جائے تو جبل علی کی بندرگاہ علاقے میں سب سے زیادہ سرگرم دیکھی گئی جہاں رواں سال مجموعی گنجائش کو 2.21 کروڑ کنٹینرز تک پہنچانے کا ہدف حاصل کرنے کے واسطے کام جاری ہے۔اگر بْھوتوں کے شہر کا یہ حال ہے تو پھر عرب اور عالمی شہروں کی ایک بڑی تعداد اس بات کی آرزو مند ہو گی کہ وہ بھی بْھوتوں کا شہر بن جائیں ؟!

Ads