Jadid Khabar

امریکہ کا چینی اشیاء کے امپورٹ پر 10 فیصد ٹیکس لگانے کا فیصلہ

Thumb

واشنگٹن، 11 جولائی (رائٹر) امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کی شدت میں کمی آنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں اور امریکہ نے منگل کو صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ چین سے ہونے والے اضافی 200 ارب ڈالر قیمت کے درآمدی سامان پر وہ 10 فیصد ٹیکس لگائے گا۔امریکی انتظامیہ نے درآمد ہونے والی چینی اشیاء کی ایک مکمل فہرست تیار کی ہے جن پر ٹیکس لگائے جانے کی تجویز ہے اور اس میں سینکڑوں کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ، تمباکو، کوئلہ، کیمیائی مادہ، ٹائر، کتے اور بلیوں کے کھانے پینے کے سامان ، کنزیومر الیکٹرانک چیزیں اور ٹیلی ویژن اشیا پر مشتمل ہے ۔امریکی تجارتی نمائندے رابرٹ لائٹزیر نے مجوزہ ٹیکس کا اعلان کرتے ہوئے کہا''گزشتہ کافی عرصے سے ٹرمپ انتظامیہ نے چین سے بار بار زور دے کر کہا تھ کہ وہ کاروبار کے شعبہ میں غلط پالیسیاں نہیں اپنائے اور اپنی مارکیٹ کو کھول دے اور صاف ستھری مارکیٹ مقابلہ میں حصہ لے ۔ لیکن ہمارے جائز خدشات پر توجہ دینے کے بجائے چین نے بدلے کے جذبے سے کام کیا ہے اور ہماری مصنوعات کے خلاف دشمنوں کے جیسا رویہ اپنا لیا ہے ۔ ہمارا خیال ہے کہ اس طرح کی پالیسی کا کوئی جوازبھی نہیں ہے ''۔گزشتہ ہفتے امریکہ نے 34 ارب ڈالر کے چینی درآمدات پر 25 فیصد ٹیکس لگایا تھا اور چین نے اس کے فورا بعد اپنے یہاں درآمد ہونے والے امریکی سامانوں پر اتنا ہی ٹیکس لگا دیا تھا.صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ آخر کار 500 ارب ڈالر قیمت سے زیادہ چینی درآمدات پر ٹیکس لگا سکتے ہیں۔لیکن امریکہ کے کچھ تجارتی گروپوں اور سینئر ممبران پارلیمنٹ نے امریکہ کے کل کے اعلان کا زوردار مذمت کی ہے اور سینیٹ کی فنانس امور کی کمیٹی کے صدر اور ریپبلکن سنیٹراورن ہیچ نے کہا کہ یہ عجلت پسندانہ قدم ہے اور متوازن طریقہ نہیں اپنایا گیا ہے ۔

Ads