Jadid Khabar

شدت پسند نوجوانوں پر اپنے نظریات مسلط کرنا چاہتے ہیں: روحانی

Thumb

تہران ،9جنوری ( ایجنسی ) ایرانی صدر حسن روحانی نے مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والی عوامی احتجاج کی تحریک کو شدت پسندوں کی ایک سوچی سمجھی سازش قرار دے کر کہا ہے کہ شدت پسند عناصر نوجوان نسل پر اپنے نظریات مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حکومت کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا کہ ملک میں اٹھنے والی حالیہ احتجاج کے اسباب واضح ہیں۔ ریاستی عہدیداروں کی نوجوان نسل سے دوری اور شدت پسند عناصر کا موجودہ نسل پر اپنے نظریات مسلط کرنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بے روز گاری اور غربت کا خاتمہ صرف نعروں سے ممکن نہیں، تمام ریاستی عناصر کو حکمت اور شفافیت کے ساتھ کام کرنا ہو گا۔صدر روحانی کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ مظاہرین کے مطالبات صرف معاشی نوعیت کے ہیں تو وہ قوم کی توہین کر رہے ہیں۔ عوام کے مطالبات اقتصادی، ثقافتی، سماجی اور سیکیورٹی کے ہیں اور ہمیں ان مطالبات کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔صدر روحانی نے معلومات تک رسائی روکنے اور ٹیلی گرام ایپلیکیشن پر پابندی لگانے کے اقدامات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ٹٰیلی گرام پر پابندیاں لگانے والے ذمہ دار گہری نیند میں ہیں۔ وہ ٹیلی گرام پر پابندی لگا کر خوش ہیں کہ انہوں نے چار کروڑ شہریوں کو مشکل میں ڈال دیا۔ ٹیلی گرام پر پابندی کے نتیجے میں ایک لاکھ افراد کے روزگار کا روزگار متاثر ہوا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر نے اپنے بیان میں مظاہرین اور ملک کے حکمران طبقے کو الگ الگ پیغامات دے دیے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر حسن روحانی کے مطابق مظاہرین کا پیغام ان تک پہنچ گیا ہے اور وہ ان کے مطالبات کا احترام کرتے ہیں۔دوسرا پیغام سپریم لیڈر کے لیے جس میں صدر روحانی نے انہیں کہا ہے کہ اب ملک میں تبدیلی اور شدت پسندوں سے نمٹںے کا وقت آ گیا ہے۔ نظام کی حفاظت اور ملک میں سیاسی، اقتصادی اور سماجی اصلاحات کے نفاذ کے لیے حکومت کو موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔یہ واضح ہے کہ صدر حسن روحانی ملک میں نظام اور موجودہ نسل کے درمیان پائے جانے والے خلا کو کا اداراک رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ جس انداز میں ہم سوچتے ہیں نوجوان نسل اس طرح نہیں سوچتے۔خیال رہے کہ ایران میں حالیہ احتجاج کی لہر کے دوران 1800 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں 90 طلباء بھی شامل ہیں۔

Ads