Jadid Khabar

جماعت الدعوہ کے خلاف کارروائی‘ امریکہ کا ہاتھ

Thumb

اسلام آباد ،9جنوری ( ایجنسی ) حکومت پاکستان نے انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت جماعت الدعوہ اور اس سے منسلک تنظیم فلاح انسانیت فاونڈیشن سمیت 70 سے زیادہ تنظیموں کو چندہ اکٹھا کرنے سے روک دیا ہے۔اس فیصلے پر جماعت الدعوہ سراپا احتجاج ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ واچ لسٹ میں آنے کے بعد سے ہی ہسپتالوں کے باہر ان کے زیادہ تر ایمبولینس سٹینڈ اکھاڑ دیے گئے ہیں جس سے ان کے فلاحی کام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات فی الحال ان کے دفاتر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے تک محدود ہیں لیکن اگر ان کے آفس یا ایمبولینس سروس کے خلاف کوئی عملی قدم اٹھایا گیا تو وہ عدالت سے رجوع کر کے قانونی جنگ لڑیں گے۔فلاح انسانیت فاو¿نڈیشن کے چئیرمین حافظ عبدالرو¿ف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم کے خلاف کریک ڈاو¿ن صرف اور صرف امریکی صدر کی پاکستان مخالف ٹویٹ کا ردعمل ہے۔’فقط امریکہ کے دباو¿ پر ہمیں کہا جا رہا ہے کہ آپ کام روک دیں۔ یہ سب امریکہ کو خوش کرنے کےلیے کر رہے ہیں اور ایک رفاحی ادارے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔۔‘جماعت الدعوہ کے مطابق اس وقت ملک بھر میں ان کے 50 ہزار رضاکار جبکہ 31 شہروں میں 308 ایمبولینسز، 250 میڈیکل سینٹر اور 12 ہسپتال کام کر رہے ہیں۔جماعت الدعوہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ براہ راست تو ان کو کوئی حکومتی نوڈیفیکیشن موصول نہیں ہوا لیکن انھوں نے بھی اخبار میں وہ سرکاری اشتہار دیکھا ہے جس میں عوام کو جماعت الدعوہ ، لشکرطیبہ اور فلاح انسانیت سمیت دیگر کالعدم جماعتوں کو عطیات اور چندہ دینے سے منع کیا گیا ہے اور خلاف ورزی پر ایک کروڑ روپے تک کا جرمانہ اور 5 سے 10 سال کی قید کی سزا بھی ہے۔اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر لاہور سمیر احمد سید کا کہنا ہے کہ جس طرح کالعدم تنظیموں کے خلاف قربانی کی کھالیں جمع کرنے سے روکنے کے اقدامات کیے گئے تھے، ویسے ہی اقدامات چندہ جمع کرنے سے روکنے کے لیے بھی کیے جائیں گے۔’ہم نے شکایت ملنے پر ایکشن لیا ہے اور آگے بھی لیں گے۔ جس طرح ہم نے صوبہ پنجاب میں قربانی کی کھالوں کو جمع کرنے کے خلاف کریک ڈاو¿ن کیا تھا۔ قانوں کے حساب سے کارووائی کر رہے ہیں۔‘دوسری جانب ترجمان پنجاب حکومت ملک محمد احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب میں غیر قانونی طریقے سے چندہ جمع کرنے والی تنظیموں سے متعلق معلومات انٹیلیجنس نیٹ ورک کے ذریعے حاصل کی جائیں گی۔’سوال کریک ڈاو¿ن کا نہیں ہے۔ جماعت الدعوة جیسی تنظیمیں تو چندہ عوام میں ڈبا رکھ کر بھی جمع کرتے ہیں۔ تو ان سے نمٹنے کےلیےہمارے انٹیلیجنس کے نیٹ ورک ہیں جو بتائیں گے ہمیں کہ کہاں پر کوئی ایسے غیر قانونی کام ہو رہے ہیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ جیسے گزشتہ دو عیدوں پر ہم نے کالعدم تنظیموں کو قربانی کی کھالیں اکٹھی نہیں کرنے دیں۔ ’آپ نے دیکھا کہ ہم نے نہیں اکٹھی کرنے دیں۔انھوں نے کہا کہ ’جن تنظیموں کے بارے میں وفاق نے نوٹیفائی کیا ہے کہ ان کو چندہ لینے سے روکنا ہے تو پھر ان کو روکا جائے گا۔‘وہیں ناقدین ایک بار پھر سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا یہ صرف ایک وقتی آپریشن ہے یا وزیر دفاع خرم دستگیر کے مطابق ضرب عزب کا حصہ ہے اور تسلسل سے جاری رہے گا۔

Ads