Jadid Khabar

کشمیر: عیدالفطر کی آمد کے سلسلے میں بازاروں میں گاہکوں کی زبردست گہما گہمی

Thumb

سری نگر، 14 جون (یو ا ین آئی ) عید الفطر کے سلسلے میں وادی کشمیر بالخصوص گرمائی دارالحکومت سری نگر کے تمام بازاروں میں جمعرات کو گاہکوں کی ایک غیرمعمولی بھیڑ امڈ آئی جن کو صبح سے ہی بیکری دکانوں پر مختلف بیکری و مٹھائی مصنوعات، مٹن کی دکانوں پر گوشت اور دودھ کی دکانوں پر دودھ کے مصنوعات بشمول پنیر کی خریداری میں مصروف دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ کرایانہ ، پھل، سبزی اور ریڈی میڈ گارمنٹس کی دکانیں پر بھی لوگوں کو بڑی تعداد میں خریداری میں مصروف دیکھا گیا۔ بیشتر بیکری و مٹھائی، مٹن، چکن اور دودھ دہی کی دکانوں پر لوگ قطاروں میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے نظر آئے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد مقامی بیکری پر ملک کی دوسری ریاستوں بالخصوص جنوبی بھارت کے شہر حیدرآباد سے درآمد کی جانے والی بیکری مصنوعات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یو این آئی نامہ نگار نے شہر میں واقع دہائیوں پرانے 'پک این چیوز' جنرل سٹور میں گاہکوں کی ایک بڑی تعداد کو 'کراچی بیکری' کے ڈبہ بند بسکٹ پیکٹوں کی خریداری میں مصروف دیکھا۔ 'کراچی بیکری' بیکری مصنوعات بنانے والی حیدرآباد کی ایک مشہور کمپنی ہے ۔حیدرآباد سے درآمد کی جانے والی 'کراچی بیکری' کی بیکری مصنوعات کی سری نگر میں بہت زیادہ مانگ دیکھی جارہی ہے ۔ کراچی بیکری کے 'عثمانیہ بسکٹ' پیکٹوں کی خریداری میں مصروف ایک گاہک نے بتایا 'میں نے کراچی بیکری کی مصنوعات کی کوالٹی کو دوسری بیکری بنانے والی کمپنیوں سے اچھا پایا۔ میں اپنے گھر میں کراچی بیکری کا استعمال سال بھر کرتا ہوں'۔ دوسری جانب عیدالفطر سے قبل عورتوں کو پاکستان سے درآمد کئے جانے والے کاٹن کے رنگ برنگے کپڑوں کی خریداری میں مصروف دیکھا گیا۔ کپڑے فروخت کرنے والے کچھ تاجروں نے بتایا کہ پڑوسی ملک (پاکستان) سے درآمد کئے جانے والے کپڑے اب کشمیری خواتین کی نمبر ون پسند بنتے جارہے ہیں۔ اس دوران گاہکوں نے الزام لگایا کہ بازاروں میں گاہکوں کے رش کو دیکھتے ہوئے منافع خوروں کی من مانیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مٹن، چکن، پھل اور بیکری فروش گاہکوں سے اپنی مرضی کی قیمتیں وصول رہے ہیں۔گاہکوں نے الزام لگایا کہ عیدالفطر کے پیش نظر بیکری فروشوں نے بیکری مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کردیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سادہ کیک جو چار پانچ برس قبل 30 روپے میں فروخت کیا جاتا تھا، وہی اب 70 سے 80 روپے میں فروخت کیا جاتا ہے جبکہ سبزی فروشوں نے نرخ نامے بالائے طاق رکھے ہیں۔ گاہکوں نے بتایا کہ مٹن اور چکن فروشوں نے ماہ صیام شروع ہوتے ہی اپنی چھریاں تیز کردی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ دو تین ہفتوں کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کردیا گیا ہے ۔ گاہکوں کی شکایت ہے کہ بازاروں میں اشیاء کی قیمتوں کی چیکنگ میں انتظامیہ کی غفلت ہی اصل میں دکانداروں کی من مانی کی وجہ ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ دکاندار انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ ریٹوں کو بالائے طارق رکھ رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق گذشتہ چند روز کے دوران وادی میں مختلف بینکوں کی اے ٹی ایم مشینوں سے کروڑوں روپے کی نقدی نکالی گئی۔ سب سے زیادہ رش شہر کے بیکری اور مٹھائی کی دکانوں میں دیکھا گیا اور رپورٹوں کے مطابق اہلیان وادی نے گذشتہ چند دنوں کے دوران کروڑوں روپے مالیت کی بیکری خریدی۔ سری نگر کے تمام بازاروں بشمول گونی کھن، جامع مسجد، ریگل چوک اور زینہ کدل میں گاہکوں کا بھاری رش دیکھا گیا جو اشیاء ضروریہ کے علاوہ ملبوسات کی خریداری میں مصروف دیکھے گئے ۔ دریں اثنا حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہان سید علی گیلانی اور میرواعظ مولوی عمر فاروق نے اہلیان جموں وکشمیر سے عیدالفطر سادگی سے منانے کی اپیل کی ہے ۔ مسٹر گیلانی نے کشمیریوں سے عیدالفطر سادگی سے منانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 'عیدالفطر' قرآن پاک کے نزول کے مناسبت سے نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری بنی نوع انسان کے لیے خوشی منانے کا ایک عظیم دن ہے ، جس کا انسان کی ظاہرداری، کھانے پینے اور کپڑوں کی نمائش سے کوئی تعلق نہیں ہے ، بلکہ اس کا تعلق آئندہ اپنی زندگی کو قرآن کے سانچے میں ڈھالنے جانے کے عزمِ صمیم سے ہے ۔ انہوں نے اصحابِ ثروت سے دردمندانہ گزارش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سماج کے غریب اور پسماندہ اپنے ہمسایوں، رشتہ داروں اور تحریک آزادی کے متاثرین یتیم بچوں، بیواؤں اور نادار لوگوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل کرنے میں پہل کریں۔ اپنے صدقات، زکوٰۃ اور صدقہ فطرکا شرعی استعمال کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی جستجو کریں۔میرواعظ مولوی عمر فاروق جو کہ متحدہ مجلس علماء جموں وکشمیر کے امیر بھی ہیں، نے کشمیر کے بقول ان کے پُر آشوب اور ناگفتہ بہہ حالات کے تناظر میں عید الفطر کی تقریب اسلامی تعلیمات کے مطابق سادگی کے ساتھ منانے کی دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے عوام کو تاکید کی کہ وہ عید کی خوشیوں میں غریبوں، ناداروں، مسکینوں، یتیموں اور حاجتمندوں کو بھر پور انداز میں شامل کریں اور اس مقدس مہینے میں ہم نے مواسات ، ہمدردی ، انسان دوستی اور ایثار و قربانی کا جو سبق سیکھا ہے اس کی پورے سال ہم اپنی عملی زندگیوں میں تکرار کرتے رہیں تاکہ ہم اپنے سماج کو صحیح معنوں میں ایک بہتر اور برائیوں سے پاک سماج کی حیثیت سے تعمیر کر سکیں۔

Ads