Jadid Khabar

جمال عبدالناصر کی طرح یہودیوں کوسمندر برد کرنے کا دعویٰ نہیں کیا: خامنہ ای

تہران ،13جون (ایجنسی ) اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر اور رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا ایک نیا بیان ذرائع ابلاغ میں گردش کررہا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ مصرکے سابق صدر جمال عبدالناصر کی طرح ہم نے یہودیوں کو کبھی سمندر برد کرنے کی بات نہیں کی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خامنہ ای کا یہ بیان اسرائیل کے حوالے سے موقف میں تبدیلی کا عندیہ دے رہا ہے جس میں وہ یہودیوں کو سمندر برد کرنے کے دعوؤں کی نفی کررہیہیں۔سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے کے بعد اس بیان پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گذشتہ اتوار کو خامنہ ای نے قضیہ فلسطین کے حل کی تجاویز پیش کی تھیں جن میں اسرائیل کے حوالے سے ایران کے موقف میں ماضی کے برعکس انداز اختیار کیا گیا تھا۔ گذشتہ چار دہائیوں سے ایران اسرائیل کو ’برائی‘ کی جڑ قرار دیتے ہوئے اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کا نعرہ لگاتا رہا ہے۔ سابق صدر محمود احمدی نڑاد کے دورمیں اسرائیل سے نفرت اپنی انتہا پر تھی جب انہوں نے نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام ’ہولوکاسٹ‘ کو جھوٹ قرار دیا تھا۔سپریم لیڈر نے ایرانی جامعات کے اساتذہ کے ایک وفد سے ملاقات میں کہا کہ ’یہودیوں کو سمندر برد کرنے کا نعرہ سابق مصری صدر جمال عبدالناصر نے لگایا۔ ہم نے آج تک ایسی کوئی بات نہیں کی‘انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم پہلے دن سے جمہوریت کی بات کرتے تھے۔ ہم نے اپنا واضح پروگرام پیش کیا۔ فلسطین میں فلسطینی قوم کو اپنا وطن قائم کرنے کا پروگرام اور اس کی حمایت کی گئی۔ ہمارا موقف اقوام متحدہ کے ریکارڈ پر بھی موجود ہے‘۔مبصرین کا کہنا ہے کہ خامنہ نے کا بیان چار عشروں پر پھیلے ایرانی موقف میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔ایران کے صوبہ اھواز کے ایک سیاسی رہ نما وجدان عبدالرحمان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتیہوئے کہا کہ ’چار عشرے‘ تک ایران مسلسل اسرائیل کو تباہ کرنے اور اسے نیست ونابود کرنے کی بات کرتا رہا ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ ’کیا خامنہ ای عراق جنگ جاری رکھنے کا اصرار بھول گئے؟ اس وقت ایران نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ ہم کربلا سے القدس تک پہنچیں گے، اس جنگ نے دوملکوں کیعوام کی کھال ادھیڑ دی۔ ایران آج تک فلسطین میں اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار اور اسرائیل کو تباہ کرنے کی بات کرتا آیا ہے‘۔خیال رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حال ہی میں قضیہ فلسطین کے حل کے حوالے سے اپنا پروگرام بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے ہم ہمیشہ رائے عامہ سے رجوع کرنے اور رائے عامہ کے احترام کی بات کرتے رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ قضیہ فلسطین کے حل کے لیے عوامی ریفرنڈم کرایا جائے جس میں فلسطین کے اصلی مسلمان، عیسائی اور یہودی سب شامل ہوں اور وہ بھی جو 80 سال سے ملک سے بے دخل کیے گئے ہیں۔ ریفرنڈم کے بعد جو نتیجہ سامنے آئے اسے قبول کرلیا جائے‘۔تجزیہ نگار وجدان عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ایران قضیہ فلسطین کے حل کیحوالے سے ماضی میں بھی تجاویز پیش کرتا آیا ہے مگر ان تجاویز کا مقصد ایک طرف اسرائیل پر دباؤ ڈالنا اور دوسری طرف یورپی ممالک سے ایران کے لیے مفادات حاصل کرنا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران میں یہودیوں کے حوالے سے نرمی امریکا کے تہران سے طے پائے جوہری معاہدے سے نکل جانے کے نتیجے میں ایران پر پڑنے والے دباؤ کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے۔ ایران عالمی پابندیوں سے بچنے کے لیے اب اسرائیل کے حوالے سے لچک پر مبنی موقف کا اظہار کررہا ہے۔

Ads