Jadid Khabar

97 سالہ خاتون دو ہزار روپے کی کمی کے باعث عمران خان کے مقابل انتخاب لڑنے سے رہ گئیں

Thumb

پشاور 13جون (ایجنسی ) خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے 97 سالہ معمر خاتون کے کاغذات نامزدگی صرف دو ہزار روپے کم ہونے کی وجہ سے جمع نہیں ہو سکے۔معمر خاتون قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے انتخابات میں حصہ لینا چاہتی تھیں۔حضرت بی بی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 35 اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 89 سے آزاد حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے گئیں لیکن ان انتخابات کے لیے فیس میں اضافے کی وجہ سے غریب خاتون مقابلے کی دوڑ میں شامل نہ ہو سکیں۔خیال رہے کہ قومی اسمبلی کی اس نشست پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور جے یو آئی کے رہنما اکرم درانی انتخاب لڑ رہے ہیں۔معمر خاتون نے زمین بیچی، کچھ قرض بھی لیا لیکن پھر بھی مطلوبہ رقم حاصل نہ کر سکیں۔اس مرتبہ صوبائی اسمبلی کے انتخاب کے لیے 20 ہزار اور قومی اسمبلی کے لیے 30 ہزار روپے فیس مقرر ہے جبکہ ماضی میں یہ دو ہزار روپے اور چار ہزار روپے ہوا کرتی تھی۔ان فیسوں میں اضافے سے امیر امیدواروں پر تو کوئی اثر نہیں پڑا لیکن بڑی تعداد میں وہ عام اور غریب لوگ جو انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں رقم نہ ہونے کی وجہ سے ان انتخابات میں حصہ لینے سے محروم رہے ہیں۔حضرت بی بی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ رقم پوری کر دیں تو پھر انتخاب میں حصہ لے سکتی ہیں۔ ان کے مطابق انھوں نے اب دو ہزار روپے کا بندو بست کر لیا ہے اور وہ اب کل جا کر بقیہ رقم جمع کروا کر انتخاب میں حصہ لے سکیں گی۔الیکشن کمیشن کے مقامی اہلکاروں نے بتایا کہ پیر کی فہرست میں حضرت بی بی کا نام نہیں ہے اس لیے وہ اب انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتیں۔ان کا کہنا تھا کہ کاغذات جمع ہونے تک ان کی مکمل فیس جمع نہ ہوسکی اور فہرستیں ایک مرتبہ آویزاں ہو جائیں تو اس کے بعد کاغذات جمع نہیں ہو سکتے۔اس حلقے سے دیگر امیدواروں میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور جمعیت علمائ￿  اسلام (ف) کے رہنما اکرم درانی شامل ہیں۔معمر خاتون حضرت بی بی کا کہنا ہے کہ وہ علاقے کی خدمت کرنا چاہتی ہیں، اپنے علاقے کے بنیادی مسائل حل کرنا چاہتی ہیں جن میں سڑکوں کی مرمت اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی ان کی ترجیحات میں شامل ہیں۔حضرت بی بی کی عمر لگ بھگ 97 برس ہے لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ انھوں نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ وہ اس سے پہلے بھی انتخابات میں حصہ لے چکی ہیں۔

Ads