Jadid Khabar

کسانوں نے اسمبلی کے سامنے پھینکے آلو، کہا لاگت سے بھی کم مل رہے ہیں دام

Thumb

لکھنؤ، 6 جنوری ( یو این آئی) اترپردیش اسمبلی کے سامنے آج صبح آلو پھینک کر کسانوں نے احتجاج و مظاہرہ کیا۔کڑاکے کی سردی کے باوجود کسانوں نے اسمبلی ،حضرت گنج اور گورنر ہاؤس کے سامنے اور کچھ دوسرے مقامات پر آلو پھینک کر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ آلو کی لاگت قیمت ہی نہیں نکل پا ر ہے ، ایسے میں کسانوں کے سامنے بڑا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے ۔کسان لیڈر راجندر سنگھ کا کہنا ہے کہ کولڈ اسٹوریج کا کرایہ 220 روپے فی کوئنٹل ہے اور مارکیٹ میں کسانوں کو 150 سے 200 روپے فی کوئنٹل آلو فروخت کرناپڑ رہا ہے ۔ ایسے میں کسانوں کے سامنے آلو پھینکنے کے علاوہ اورکوئی اور راستہ نہیں ہے ۔مسٹر سنگھ نے کہا کہ حکومت نے امدادی قیمت کا اعلان تو کر دیا لیکن حکومت آلو کہاں خرید رہی ہے یہ کسی کو پتہ نہیں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ افسران صرف اعداد و شمار کا کھیل، کھیل رہے ہیں۔حکومت بھی حکام کی سن رہی ہے ۔ کسانوں کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ادھر، آلو کسانوں کے مسائل کو لے کر سیاست بھی شروع ہو گئی ہے ۔ اپوزیشن پارٹی سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر نریش اتم کا کہنا ہے کہ کسانوں نے لکھنؤ کے اہم راستوں پر آلو پھینک کر اپنا احتجاج درج کرایا ہے ۔ اس احتجاج کو ہلکے میں نہیں لیا جانا چاہیے ۔ کسانوں کا درد حکومت سمجھ نہیں رہی ہے ۔ کسان بے حال ہیں اور حکومت ان کے بارے میں سوچ نہیں رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے نقطہ نظر سے سب سے زیادہ حساس سمجھے جانے والے علاقوں میں کسان آلو پھینک کر چلے گئے ، لیکن کسی کو پتہ ہی نہیں چلا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو کم سے کم 1200 روپے فی کوئنٹل کا دام ملنا چاہیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کے لئے حکومت حساس نہیں ہے ۔اس کے برعکس ، برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا کہنا ہے کہ حکومت کسانوں کیلئے حساس اور سرگرم ہے ۔ کسانوں کے مسائل کا پورا خیال رکھا جا رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی بار آلو کی امدادی قیمت کا اعلان کیا گیاہے ۔بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریٹری وجے بہادر پاٹھک نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں ہر مسئلہ کو لے کر سیاست شروع کر دیتی ہیں۔ سیاست کرنے سے پہلے ان کوسوچنا چاہیے کہ غیر بھاجپائی پارٹیوں کی حکومتوں میں کسانوں کے لیے کیا کیا گیا۔مسٹر پاٹھک نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کسانوں کیلئے کافی حساس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گنا کسانوں کے بقایاکی رقم کی ادائیگی جنگی پیمانے پرکی گئی۔ کسانوں کے مفادات کے سلسلے میں بہت سے منصوبے شروع کئے گئے ۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو تو صرف سیاست کرنی ہے ، ان کے مسائل کے حل کے بارے میں کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ آلو کسانوں کے مسائل کو حل کریں گے ۔ آلو کی مناسب قیمت کسانوں کو ملے گی۔ دلال اگر ملوث ہوں گے تو ان کی سرگرمیوں کو ختم کیا جائے گا۔

Ads