Jadid Khabar

رنجش ہی سہی دل کو دکھانے کے لئے آ.....

Thumb

ممبئی، 12 جون (یو این آئی)مہدی حسن نے اردو غزلوں کو اپنی طلسماتی صدابندی کے ذریعے دنیائے موسیقی میں جو مقام عطا کیا'وہ رہتی دنیا تک یاد کیا جائے گا۔روح کو تازگی عطاکرنے والی ان کی آواز ہمیشہ زندہ و جاوید رہے گی۔غزلوں کو نغمگی اوردوام بخشنے میں مہدی حسن کا کوئی ثانی نہیں۔وہ ایسے فن کار تھے جن کی مترنم آواز' اسلوب اور موسیقی کی صداقت ہر خاص و عام پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ دنیائے غزل کے اس شہرہ آفاق گلوکارنے جتنی بھی غزلیں گائیں' وہ شاہکار بن گئیں۔اردو غزلوں کو انہوں نے اپنی طلسماتی صدابندی کے ذریعے دنیائے موسیقی میں جو مقام عطا کیا'وہ رہتی دنیا تک یاد کیا جائے گا۔ روح کو تازگی عطاکرنے والی ان کی آواز ہمیشہ زندہ و جاوید رہے گی۔18جولائی1927کو ہندوستان کی ریاست راجستھان کے علاقے لونا میں پیدا ہونے والے مہدی حسن نے غزل گائیکی کا آغاز کمسنی سے کردیا تھا۔انہوں نے آٹھ سال کی عمر میں پہلی بار موسیقی پروگرام پیش کرکے سامعین کو مسحور کردیا۔تقسیم ہند کے وقت مہدی حسن بیس برس کے تھے ۔ ان کا پورا خاندان پاکستان ہجرت کرگیا تھا۔مہدی حسن کو موسیقی ورثہ میں ملی تھی۔وہ خود کو کلونت گھرانے کی سولہویں نسل کہتے تھے ۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم والدعظیم خان اورچچااسماعیل خان سے حاصل کی۔1957میں مہدی حسن کو ریڈیو پاکستان پربطور ٹھمری گانے کا موقع ملا اور موسیقی برادری میں اس ٹھمری گائیکی نے مہدی حسن کو متعارف کرایا۔ وہ اردو شاعری کے بھی دلدادہ تھے ۔انہوں نے جزوقتی بنیاد پر غزل گائیکی شروع کردی۔ مہدی حسن کو اس وقت مقبولیت کی انتہاچھونے کا موقع ملا جب غزل گائیکی کے بڑے بڑے نام استاد برکت علی خان' بیگم اختر اور مختار بیگم کا سکہ چل رہا تھا۔غزل گائیکی میں ان کی شاندار خدمات کے عوض انہیں دنیا بھر میں متعدد انعامات سے نوازا گیا۔ حکومت پاکستان نے انہیں سب سے بڑے ایوارڈ 'ہلال امتیاز' سے نوازا۔ حکومت نیپال نے انہیں گورکھا دکشنا باہو کا ایوارڈ عطا کیا جب کہ ہندوستان میں انہیں'سہگل ایوارڈ' سے نوازاگیا۔ ریڈیو پر ان کی پہلی مشہور غزل''گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے '' تھی۔فلمی گائیکی کی ابتدا فلم شکار سے کی۔ انہوں نے موسیقی کونئی سمت اور صنف غزل کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔ معروف شاعر احمد فراز کی غزل' اب کہ ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں'/جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں' اور میر تقی میر کی غزل 'پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہماراجانے ہے /جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے ' باغ تو سارا جانے ہے ' کو مہدی حسن نے اپنی صدابندی کے ذریعہ بہت خوب صورت اور مترنم آواز میں لوگوں تک پہنچایا اور اس کے بعد تو لوگ ان کے دیوانے ہوگئے ۔مہدی حسن کی جن غزلوں نے مقبولیت کی بلندیوں کو چھوا' ان میں آج تک یاد ہے وہ پیار کا منظر /آنکھوں سے ملی آنکھیں/پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے /رنجش ہی سہی دل کو دکھانے کے لئے آ/آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے ' اس کے بعد آئے جو عذاب آئے /اب کہ ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں/اے روشنیوں کے شہر/اپنوں نے غم دیا تو خدایاد آگیا/ بھولی بسری چند امیدیں/دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے /چلتے ہو تو چمن کو چلئے /چراغ طور جلا¶ بڑا اندھیرا ہے /دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے /رفتہ رفتہ وہ میری تسکیں کا ساماں ہوگئے / اک خلش کو حاصل عمررواں رہنے دو/ اک ستم اور مری جاں' ابھی جاں باقی ہے /اک بار چلے آ پھر آکے چلے جانا/ آگے بڑھے نہ قصہ عشق بتاں سے ہم/تم مجھے بھلاتو رہے ہو ' بھلا نہ پا گے ' گلوں میں رنگ بھرے بادنو بہار چلے ' دل میں طوفان چھپائے بیٹھا ہوں اور دنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں وغیرہ شامل ہیں۔وہ دنیائے موسیقی کا ایک ایسا باب ہے جو اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے ۔انہوں نے غزل گائیکی کو ایسا اسلوب عطاکیا جو کروڑوں لوگوں کے دلوں میں خوشبو کی طرح گھر کرگیا۔ایسے فن کار صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے تین سو سے زائد فلموں میں بے شمار نغمے گائے ۔ ان کی نغمگی میں ہر شخص ڈوب جاتا تھا۔ان کی آواز میں ایک عجیب سی کشش اورسحر تھا۔مہدی حسن 84 برس کی عمر میں 13 جون کو طویل علالت کے بعد اس جہان فانی سے کوچ کرگئے ۔

Ads