Jadid Khabar

ٹرمپ کم سربراہ ملاقات: شمالی کوریا کی نظر امریکہ سے ’نئے تعلقات‘ کے آغاز پر

Thumb

پیانگ یانگ ،11جون (ایجنسی ) شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ کم جونگ-ان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منگل کو ہونے والی ملاقات میں ’مستقل امن کے طریقہ  کار‘ پر بات کریں گے۔ملاقات سے ایک دن قبل ملک کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے بیانات سے اس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان ’ایک نئے تعلق کا آغاز‘ ہو سکتا ہے۔دونوں ممالک کے سربراہان اس تاریخی ملاقات کے لیے سنگاپور پہنچ چکے ہیں۔اس ملاقات کے بارے میں کم جونگ-ان کا کہنا ہے کہ ’پوری دنیا دیکھ رہی ہے‘، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس سربراہ ملاقات کے بارے میں اچھا محسوس کر رہے ہیں۔پیر کی صبح اس سلسلے میں ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ سنگاپور میں ’ماحول میں جوش و خروش ہے۔‘امریکہ چاہتا ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیار ختم کر دے، لیکن یہ واضح نہیں کہ اس کے بدلے میں شمالی کوریا کیا مطالبہ کرتا ہے۔دونوں سربراہان الگ الگ ہوٹلوں میں ٹھہرے ہیں جو زیادہ دور نہیں ہیں۔ شمالی کوریا کے سربراہ سنگاپور کے فائیو سٹار ہوٹل سینٹ ریگس میں قیام پذیر ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نصف میل کی دوری پر شنگریلا میں رکے ہیں۔کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان یہ تاریخی ملاقات تفریحی جزیرے سینٹوسا پر ہو گی۔شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنما جزیرہ نما کوریا کے لیے ’امن کے مستقل اور دیرپا طریق? کار‘ پر بات کریں گے۔ جزیرہ نما کوریا میں ’جوہری ہتھیاروں کی تخفیف‘ اور مشترکہ مسائل پر بھی بات ہوگی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تبدیلی کا دور‘ شروع ہونے والا ہے۔جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے سینیئر سفارتکار پیر کو ملاقات کریں گے تاکہ ایک معاہدے کا مسودہ اپنے اپنے رہنماؤں کو پیش کر سکیں۔شمالی کوریا کے کم جونگ ان امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ سنگاپور میں مذاکراتی میز پر بیٹھیں گے۔شمالی کوریا میں سرکاری میڈیا عموماً اپنے رہنما کے دوروں پر تبصرے نہیں کرتا تاہم اس مرتبہ اخبار روڈونگ سنمن میں شائع ہونے والے اداریے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم نئے دور کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک نیا تعلق قائم کریں گے۔‘اداریے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’جزیرہ نما کوریا میں ایک مستقل اور پرامن حکومت کے قیام، مشترکہ خدشات کے حل بشمول جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے معاملے پر وسیع تر اور عمیق بات چیت ہو گی۔‘اخبار کا کہنا ہے کہ ’اگر ماضی میں کسی ملک سے ہمارے تعلقات مخاصمانہ رہے بھی ہیں تو ہمارہ رویہ یہی ہے کہ اگر وہ قوم ہماری خودمختاری کا احترام کرتی ہے تو ہم بات چیت کے ذریعے حالات معمول پر لانے کی کوشش کریں گے۔‘کئی دہائیوں تک امریکہ صریح دشمن تھا۔یہاں تک کہ پیانگ یانگ میں امریکہ مخالف میوزیم بھی ہے۔ لیکن ریاست اب عوام کو اس ملک سے مذاکرات کا آئیڈیا فروخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جنھیں کبھی وہ تمام برائیوں کا مرکز اور شیطانوں کی سلطنت کہتے تھے۔اس اجلاس کے لیے استعمال کی جانے والی اہم اصطلاحات کا جائزہ لیتے ہیں۔اس اجلاس کو عوام میں یہ کہہ کر فروخت کیا جا رہا ہے کہ یہ 'کوریائی خطے میں جوہری عدم پھیلاؤ اور بدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق باہمی خدشات کے مسائل کے ادارک کا موقع دے رہا ہے۔''بدلا ہوا دور ' یہ اہم ہے۔ شمالی کوریا نے کئی دہائیاں جوہری ہتھیار بنانے پر صرف کر دیں۔ کم جونگ اْن کو عوام کو بتانا پڑے گا کہ وہ کیوں مذاکرات کر رہے ہیں۔'سالِ نو پر اْن کا خطاب ہی سفارتی تعالقات کے آغاز کا عندیہ دے رہا تھا۔ خطاب جوہری طاقت بننے کی خواہش کو حدف بناتے ہوئے کوریائی معیشت کی بہتری کی حکمتِ عملی کے بارے میں تھی۔اخبارات میں اس طرح کے صفحات کافی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ ریاستی پیغام کو تبدیل کرنے کے لیے راسہ ہموار کرے گی۔ اس سے وہ بھی مستفید ہوں گے جو اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ اس وقت شمالی کوریا کے لیے چیزیں مختلف ہیں۔امریکی صدر کینیڈا میں جاری جی سیون سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد ایئر فورس ون پر اتوار کو سوار ہو کر سنگاپور ہہنچے۔جیسے ہی وہ اپنے طیارے سے باہر آئے تو ان کا استقبال سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالاکرشن نے کیا۔دوسری جانب کم جونگ ان چین سے حاصل کردہ طیارے پر وزیر خارجہ ری یونگ ہو، وزیر دفاع کوانگ چول اور اپنی بہن کم یو جونگ کے ہمراہ پہنچے۔کم جونگ ان مرسڈیز بینز لیموزین میں 20 گاڑیوں کے کانوائے کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے۔بعد میں انھوں نے سنگاپور کے وزیراعظم لی ہیسن لونگ سے ملاقات کی اور ان کی میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا: ’اگر سنگاپور میں منگل کو ملاقات کامیاب رہی تو تاریخ سنگاپور کی کوششیں تاریخ میں لکھی جائیں گی۔‘صدر ٹرمپ اور کم جونگ-ان کے تعلقات گذشتہ ڈیڑھ برس میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ کبھی وہ تندوتیز جملوں کا تبادلہ کرتے نظر آئے تو اب وہ بالمشافہ ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدِ صدارت کے پہلے برس میں شمالی کوریا سے امریکہ کے تعلقات شدید کشیدہ رہے اور وجہ تھی اس کے متعدد میزائل تجربات جو اس نے عالمی تنبیہ کے باوجود کیے۔امریکی صدر نے یہاں تک کہا کہ اگر شمالی کوریا نے امریکہ کو دھمکانا بند نہ کیا تو اسے ’آتش و غضب‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انھوں نے کم کو ’لٹل راکٹ مین‘ بھی کہا۔اس کے جواب میں کم جونگ-ان نے انھیں ’خبطی‘ اور ’سنکی‘ قرار دیا۔وائٹ ہاؤس کے دباؤ کے باوجود شمالی کوریا نے ستمبر 2017 میں اپنا چھٹا جوہری تجربہ کیا جس کے بعد شمالی کوریا کے رہنما نے اعلان کیا کہ ان کے ملک نے جوہری طاقت بننے کا مشن مکمل کر لیا ہے اور اس کے میزائل امریکہ تک مار کر سکتے ہیں۔تاہم 2018 کے آغاز میں شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں کا آغاز کیا اور وہاں منعقدہ سرمائی اولمپکس میں اپنے کھلاڑی بھیجے۔مارچ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریائی رہنما کی جانب سے بالمشافہ ملاقات کی دعوت قبول کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ اس کے بعد سے اس سربراہ ملاقات کی تیاریاں جاری ہیں مگر یہ سفر آسان نہیں رہا ہے۔ایک وقت ایسا بھی آیا جب صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کو منسوخ بھی کر دیا لیکن کچھ سفارتی کوششوں کے بعد یہ بحال ہو گئی اور اب منگل کو دونوں رہنما ملنے والے ہیں۔

 

Ads