Jadid Khabar

ہندوستان اور آسٹریا کے تعلقات اسٹریٹجک شراکت داری میں بدلیں گے: مودی

Thumb

ویانا، 10 جولائی (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی اور آسٹریا کے چانسلر کارل نیہمر نے بدھ کو باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنے اور تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح پر لے جانے کا فیصلہ کیا۔
  آسٹریا کے دورے پر آئے مسٹر مودی نے  چانسلر نیہمر کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ دونوں فریقوں نے یوکرین تنازعہ اور مغربی ایشیا کی صورتحال سمیت دنیا کے مختلف مقامات پر چل رہے تنازعات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر مودی نے ایک بار پھر دہرایا کہ یہ جنگ کا وقت نہیں ہے۔
 وزیر اعظم نے کہا، "آج میرے اور چانسلر نیہمرکے درمیان بہت نتیجہ خیز گفتگو ہوئی۔ ہم نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے امکانات کی نشاندہی کی ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تعلقات کو اسٹریٹجک سمت دی جائے گی۔ چانسلر نیہمر اور میں نے دنیا میں جاری تمام تنازعات چاہے وہ یوکرین کا تنازعہ ہو یا مغربی ایشیا کی صورت حال تمام کے بارے میں طویل بات چیت کی ہے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ یہ جنگ کا وقت نہیں ہے۔ 
                    مسٹر مودی نے کہا کہ دونوں ممالک کا ماننا ہے کہ دہشت گردی کو کسی بھی شکل میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
 وزیراعظم نے کہا کہ ہم دونوں دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم متفق ہیں کہ یہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ اس کو کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہم اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کو عصری اور موثر بنانے کے لیے اصلاحات پر متفق ہیں۔ 
 جمہوریت اور قانون کی حکمرانی جیسی مشترکہ اقدار کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بنیاد قرار دیتے ہوئے  مسٹر مودی نے کہا 
جمہوریت اور قانون کی حکمرانی جیسی اقدار پر مشترکہ یقین ہمارے تعلقات کی مضبوط بنیاد ہے۔ "ہمارے تعلقات باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات سے مضبوط ہوتے ہیں۔"
   اپنے دورے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے 75 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ مجھے اپنی تیسری مدت کے آغاز میں آسٹریا کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ میرا یہ سفر تاریخی بھی ہے اور خاص بھی۔ 41 سال بعد کسی ہندوستانی وزیر اعظم نے آسٹریا کا دورہ کیا ہے۔ یہ بھی ایک خوش کن اتفاق ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہمارے باہمی تعلقات کے 75 سال مکمل ہوئے ہیں۔