Jadid Khabar

ید یورپا کی حلف برداری پر روک سے سپریم کورٹ کا انکار

Thumb

نئی دہلی، 17 مئی (یواین آئی) کرناٹک میں حکومت بنانے کے معاملہ پر آدھی رات کو سپریم کورٹ پہنچی سیاسی جنگ علی الصبح عدالت عظمی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) لیڈر بی ایس یدیورپا کی ریاست کے وزیر اعلی کے طور پر آج ہونے والی حلف برداری پر فوری روک لگانے سے انکار کر دیا۔عدالت نے تاہم واضح کر دیا کہ مسٹر ید یورپا کا عہدہ پر برقرار رہنا کیس کے آخری فیصلے پر منحصر کرے گا۔ کانگریس جنتا دل سیکولر ( جے ڈی -ایس ) کی درخواست پر آدھی رات کو سماعت کے لئے قائم جسٹس اے کے سیکری، جسٹس ایس اے بوب ڈے اور جسٹس اشوک بھوشن کی بنچ نے رات تقریباً سوا دو بجے سے صبح ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد کہا کہ وہ گورنر کے حکم پر روک لگانے کے حق میں نہیں ہے ، تو وہ مسٹر ید یورپا کی حلف برداری پر روک نہیں لگائے گی، لیکن بی جے پی لیڈر کا وزیر اعلی کے عہدے پر بنے رہنا اس معاملہ کے آخری فیصلے پرمنحصر کرے گا۔کانگریس اور جنتا دل (ایس) اتحاد کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی، بی جے پی ممبران اسمبلی کی جانب سے سابق اٹارني جنرل مکل روہتگی اور مرکزی حکومت کی جانب سے اٹارني جنرل کے کے وینو گوپال اور ایڈیشنل سالیسٹر جنرل- تشار مہتہ اور منندر سنگھ کی دلیلیں سننے کے بعد کورٹ نے ریاستی بی جے پی کو نوٹس جاری کر کے اسے جمعہ کو ساڑھے 10 بجے تک گورنر وجوبھائی والا کو 15 مئی کو سونپے گئے خط کی کاپی جمع کرانے کو کہا ہے . اس معاملے کی سماعت کل ساڑھے 10 بجے مقرر کی گئی ہے ۔ قابل غور ہے کہ کانگریس جنتادل (ایس) اتحاد نے گورنر کی طرف سے مسٹر ید یورپا کو حلف کے لئے مدعو کئے جانے کے بعد عدالت کے علاوہ رجسٹرار کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔اس معاملہ کو فوراً چیف جسٹس دیپک مشرا کی رہائش پر لے جایا گیا اور انہوں نے ساری رسم پوری کرتے ہوئے رات میں ہی سماعت کے لئے جسٹس سیکری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ قائم کی تھی۔رات کے سناٹے میں ڈوب جانے والے سپریم کورٹ کے عدالت کے کمرے -6 میں جیسے ہی معاملے کی سماعت شروع ہوئی، بی جے پی ممبران اسمبلی کی جانب سے پیش ہو رہے مسٹر روہتگی نے کہا کہ عدالت گورنر کے حکم کے خلاف کوئی حکم جاری نہیں کر سکتا۔کانگریس -جنتا دل (ایس) کی جانب سے پیش مسٹر سنگھوی نے کہا کہ بہت سے ایسے موقع آئے ہیں جب انتخابات کے نتائج کے بعد ہوئے اتحاد کو حکومت بنانے کے لئے مدعو کیا گیا ہے ۔ انہوں نے گوا، میگھالیہ اور منی پور میں بی جے پی کے حکومت بنانے کی بھی مثال دی۔ انہوں نے دہلی اور جموں و کشمیر کا بھی مثال دی۔سماعت کے دوران جسٹس بوب ڈے نے مسٹر سنگھوی کے سامنے سوال کھڑے کئے کہ کیا عدالت گورنر کے حکم کو چیلنج دے سکتی ہے ۔ اس پر مسٹر سنگھوی نے کہا کہ ایسا کئی بار ہو چکا ہے ۔ انہوں نے مسٹر وجوبھائی کے ارادے پر بھی شک ظاہر کیا۔جسٹس بوب ڈے نے کہا کہ عام طور پر یہ روایت رہی ہے کہ عدالت گورنر کے حکم پر روک نہیں لگاتا، لیکن مسٹر سنگھوی نے کہا کہ گورنر کے حکم کا عدالتی جائزہ تو لیا ہی جا سکتا ہے ۔ مسٹر سنگھوی نے دلیل دی کہ گورنر کی جانب سے 104 ممبران اسمبلی والی بی جے پی کو حکومت بنانے کے لئے مدعو کرنا 116 سیٹ جیتنے والی کانگریس -جنتادل (ایس) اتحاد کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی 104 ممبران اسمبلی کے ساتھ قطعی اکثریت حاصل نہیں کر سکتی۔ جسٹس سیکری نے مسٹر سنگھوی سے کہا کہ درخواست گزار کے پاس نہ تو ممبران اسمبلی کی وہ فہرست دستیاب ہے جسے بی جے پی کی جانب سے مسٹر ید یورپا نے گورنر کو تفویض کیا ہے ، نہ ہی اس درخواست کی حمایت میں مناسب دستاویزات دستیاب ہیں، ایسی صورت میں عدالت کس طرح جائزہ لے گی۔بی جے پی ممبران اسمبلی کی جانب سے پیش مسٹر روہتگی نے آدھی رات کو سماعت کرنے کی ضرورت پر طنز کرتے ہوئے کہا''یعقوب میمن کی پھانسی کے پھندے پر لٹکانے سے پہلے عدالت نے آدھی رات میں سماعت کی تھی، لیکن اس بار کون سا آسمان ٹوٹ پڑا تھا کہ آدھی رات کو سماعت شروع کی گئی۔ حلف برداری سے کون سی آفت آ گئی تھی''۔انہوں نے کہا کہ اتنی افراتفری میں کانگریس-جنتا دل (ایس) کو عدالت آنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔اٹارني جنرل نے بنچ سے ایس آر بومئی معاملہ میں عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نتائج کے نقطہ نظر سے سب سے بڑی پارٹی کو اکثریت ثابت کرنے کو کہا جاتا ہے اور اس معاملے میں بھی ایسا ہو رہا ہے ۔ لہذا حلف برداری کی تقریب کو روکنے کا کانگریس- جنتادل (ایس) کی درخواست نامناسب ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ درخواست گزاروں کو 'پاور ٹسٹ' کا انتظار کرنا چاہئے تھا۔مسٹر روہتگی نے بحث شروع کرتے ہی عدالت کے سامنے یہ واضح کیا کہ وہ بی جے پی ممبران اسمبلی کی جانب سے پیش ہو رہے ہیں نہ کہ مسٹر ید یورپا کی جانب سے ۔ انہوں نے درخواست کو منسوخ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ گورنر کے حکم پر روک نہیں لگائی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو گورنر کو نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے ،نہ حلف نامہ دائر کرنے کو کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں عدالت میں پیش ہونے کو کہا جا سکتا ہے ۔سابق اٹارني جنرل نے دلیل دی کہ گورنر کے حکم کو روکا نہیں جا سکتا. حلف برداری کے بعد مسٹر ید یورپا کو عدالت ہٹا سکتی ہے ، لیکن حلف برداری کے حکم کو پلٹا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حلف برداری کے لئے مدعو کرنا گورنر کا استحقاق ہے اور اسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ایک وقت ایسا آیا جب عدالت نے زبانی حکم جاری کر دیا کہ وہ گورنر کے حکم پر روک نہیں لگائے گی، اس کے بعد وکیل اور میڈیاکے نمائندے نکلنے لگے ،لیکن مسٹر سنگھوی نے ایک اور محاذ کھولتے ہوئے کہا کہ عدالت حلف برداری کو کم سے کم رات ساڑھے چار بجے تک کے لئے ٹال دے ۔اس پر کمرہ عدالت میں ایک بار پھر مسٹر روہتگی کی اونچی آواز سے کمرہ گونج اٹھا۔ بحث دوبارہ شروع ہو گئی. کل سوا تین گھنٹے کی بحث کے بعد عدالت نے حکم لکھانا شروع کیا اور صبح کی کرنوں کے ساتھ حلف برداری کی تقریب پر چھائی بے یقینی کے بادل فی الحال دور ہو گئے ۔

Ads