Jadid Khabar

نواز شریف نے مزید انکشافات کرنے کی دھمکی دی

Thumb

اسلام آباد ،16مئی ( ایجنسی) مسلم لیگ کے رہنما جنہوں نے اپنے سنسنی خیز بیان کہ پاکستان ہی ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہے۔ کھلبلی مچائی ۔ نے آج ایک اور سیاسی بم پھوڑا اور کہا کہ وہ جلد ہی ان طاقتوں کا نشاندہی کریں گے جنہوں نے 2014میں ان کے خلاف اسلام آباد میں سیاسی پارٹیوں کا دھرنا کروایا تھا ۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میںجلد ہی تمام تفصیلات بیان کریں گے جب ان سے کہا گیا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک پارٹی نے اس کے کہنے پر یہ دھرنا شروع کیا ۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب وقت آجائے گا تو اس کے بارے میں خلاصہ کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان دوسروں کے ہاتھوں میں کھٹ پتلی ہیں اور جب امپائر انگلی اٹھاتا ہے تو وہ حرکت میں آتے ہیں۔ اس سے پہلے نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیمیں محترک ہیں اور انہوں نے وہی ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث بھی ہے۔ انہوں یہ بھی کہا کہ پاکستان نے اپنے آپ کو بین الاقوامی برادری میں الگ تھلگ کرلیا ۔ یہ حیرانگی کی بات ہے کہ ہزاروں پاکستانیوں نے دہشت گردی کے خلاف قربانیں دی ہیں۔ لیکن کوئی بھی ہماری بات سنتا ہی نہیں اور ہر ایک افغانستان کے دکھ دردکو سمجھتا ہے ہمیں اس پر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس دوران وزیراعظم شاہد عباس خاقانی نے کہا کہ نواز شریف یہ مطلب نہیں ہے کہ پاکستان ان حملوں کے لئے ذمہ دار ہے اور یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ کے تمام قائد اور ورکر ان کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کی نیشنل سیکورٹی کونسل کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں نواز شریف کے بیان کو بے بنیاد قراردیا گیا ۔
دریں اثناء اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم اور حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کے خلاف کے غداری کا مقدمہ درج کرنے اور ان کی تقاریر کو براہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کرنے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔یہ درخواست پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف نے احتساب عدالت کے باہر یہ کہا تھا کہ ان کے پاس بہت سے قومی راز ہیں جن کو وہ افشا بھی کر سکتے ہیں۔ ان کے اس اقدام سے پاکستان کے اہم قیمتی رازوں سے دنیا آشنا ہو سکتی ہے۔بابر اعوان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کا یہ اقدام ملک سے غداری کے زمرے میں آتا ہے لہذا ان کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کیا جائے۔اس درخواست میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور پیمرا کے چیئرمین کو فریق بنایا گیا ہے۔عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔اس سے قبل منگل کو احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران نواز شریف نے کہا تھا کہ 'ملک کیاندر اب یہ پتہ لگنا چاہیے کہ ملک کو اس نہج پر کس نے پہنچایا اور پتہ لگنا چاہیے کہ ملک میں دہشت گردی کی بنیاد کس نے رکھی تھی۔'احتساب عدالت میں بات چیت کے دوران نواز شریف نے کہا کہ پاکستان دنیا میں تنہا ہوچکا ہے۔ انھوں نے سوال کیا 'آپ بتائیں کہ دنیا میں کون سا ملک دہشت گرد ہے؟'انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ان کے انٹرویو پر قومی کمیشن بننا چاہیے جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرے۔خیال رہے کہ پیر کو فوج کی درخواست پر بلائے گئے قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والا بیان غلط اور گمراہ کن ہے۔

Ads