Jadid Khabar

کٹھوعہ معاملہ : گواہوں کو سیکورٹی فراہم کرنے سے انکار

Thumb

نئی دہلی،16مئی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے کٹھوعہ اجتماعی عصمت دری اور قتل معاملہ میں تین گواہوں کو سیکورٹی فراہم کرنے اور معاملہ کی جانچ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے کرانے سے آج انکار کردیا۔چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم خانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کٹھوعہ عصمت دری اور قتل معاملہ کی جانچ جموں وکشمیر پولیس کی کرائم برانچ ہی کرے گی۔اس واقعہ کے اہم ملزمین میں سے ایک وشال جنگوترا کی طرف سے گواہی دینے والے اس تین دوستوں ساحل، سچن اور نیرج شرما نے پولیس کی زیادتی سے بچانے ، انہیں سیکورٹی مہیا کرائے جانے اور معاملہ کی سی بی آئی سے جانچ کرائے جانے کی عدالت سے درخواست کی تھی۔ تینوں جموں کے رہنے والے ہیں اور اترپردیش کے مظفر نگر کے کرشی کالج میں وشال جنگوترا کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔عرضی گزار وں کا الزام ہے کہ انہیں ریاستی پولیس کے حکام نے 19سے 31مارچ کے درمیان جسمانی اور ذہنی طورپر اذیت دی۔عرضی گزاروں کے وکیل نے کہاکہ وشال جنگوترا سات جنوری سے 10فروری تک مظفر نگر میں تینوں گواہوں کے ساتھ تھا اور طالبہ کو اس سے الگ بیان دینے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ اس دوران وشال تینوں گواہوں کے ساتھ امتحان اور پریکٹیکل میں شامل ہوا۔وکیل نے الزام لگایا کہ کرائم برانچ سے طلبا کی جان کو خطرہ ہے ۔ اس لئے انہیں سیکورٹی فراہم کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے معاملہ کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔عدالت نے دونوں مانگیں خارج کردیں۔

Ads