Jadid Khabar

کانگریس جے ڈی ایس کے ساتھ اتحاد کو تیار

Thumb

نئی دہلی، 15مئی (ایجنسیاں) کانگریس رہنما ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ جنتا دل سیکولر (جی ایس ڈی) کے ساتھ اتحاد ممکن ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ ہم ہائی کمان سے اس مسئلے پر بات چیت کریں گے ۔ میں غلام نبی آزاد اور اشوک گہلوت سے  ملاقات کرنے جارہا ہوں ور ہم اس پر گفتگو کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہفتے کے روز منعقد ہونے والے اسمبلی کے انتخابات کے نتائج کی پیشکش کرناابھی جلد بازی ہوگی ۔ ووٹوں کی گنتی کے رجحانات میں بی جے پی کانگریس اور جے ڈی ایس سے آگے ہے ۔کرناٹک انتخابات کے نتائج کے لئے ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے اور ایسے میں رجحان سامنے آرہے ہیں۔ رجحانات کو دیکھتے ہوئے تمام جماعتوں کے رہنماؤں کے سر بدلنے لگے ہیں اس سے پلے پارٹی لیڈر اشوک گہلوت کا کہنا ہے کہ ہمیں اب بھی امید ہے کہ  ہم کرناٹک میں حکومت بنالیں گے ۔ لیکن ہم نے سارے متبادل کھلے رکھے ہیں ۔ اس سے سمجھاجا رہاہے کہ جے ڈی ایس کے ساتھ اتحاد کے لئے تیار ہیں واضح رہے کہ ریاست کی 224 رکنی اسمبلیکی  222 نشستوں کو 12 مئی کو پولنگ ہوئی تھی ۔ آر آر نگر سیٹ پر انتخابی خرابی کی شکایت کی وجہ سے پولنگ ملتوی کر دی گئی تھی۔جے نگر سیٹ پر  بی جے پی کے امیدوار کی موت کے باعث پولنگ ملتوی  کردی گئی تھی ۔ انتخابات دفتر کے ذرائع نے بتایا کہ ووٹوں کی گنتی تقریبا 40 مراکز پر صبح 8 بجے شروع ہوگئی رجحانات ایک گھنٹے کے اندر آنے شروع  ہو سکتے ہیں اور نتائج دیر شام تک واضح ہونگے ۔ 
دریں اثناء کرناٹک میں بی جے پی کے وزارت اعلی کے امیدوار یدی یورپا نے کہا ہے کہ کانگریس،عوام کی جانب سے مسترد کئے جانے کے باوجود اقتدار پرقبضہ کرنا چاہتی ہے ۔انہوں نے بنگالورو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کی حکومت بنانے کے لئے جے ڈی ایس کی حمایت کرنے کی اطلاعات پر یہ بات کہی۔انہوں نے کہا کہ حتمی نتائج پر پارٹی کی قیادت سے مشاورت کے بعد ہی مستبقل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ عوام نے کانگریس کو مسترد اور بی جے پی کو قبول کرلیا ۔عوام ،کانگریس سے پاک کرناٹک کی سمت جارہے ہیں۔انہوں نے بی جے پی کے حق میں فیصلہ دینے پر عوام کا شکریہ ادا کیا۔ مسٹر یورپا نے الزام لگایا کہ کانگریس پیچھے کے دروازے سے اقتدار پر آناچاہتی ہے ۔عوام اس کو برداشت نہیں کریں گے ۔
بی جے پی کے وزیراعلی کے عہدے کے امیدوار بی ایس یدویورپا وزیراعظم نریندرمودی اور پارٹی صدرامیت شاہ سے کل نئی دہلی میں ملاقات کریں گے ۔پارٹی لیڈر شانتا رام نے بنگلورمیں میڈیا کو بتایاکہ یدویورپا آج شب یا کل صبح دہلی روانہ ہوں گے اور مودی اورشاہ سے ملاقات کریں گے ۔
کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی ہار کے بعد وزیر اعلی سدارمیا نے آج اپنا استعفیٰ گورنر واجوبھائی والا کو پیش کردیا۔کرناٹک اسمبلی کے آج آئے نتائج میں کانگریس اکثریت سے کافی دوررہ گئی اور اس نے جنتادل ایس کے ریاستی صدر ایچ ڈی کمار سوامی کو وزیر اعلی کے عہدے کے لئے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔مسٹر سدارمیا نے اس بار بادامی اور چامنڈیشوری سیٹ سے انتخاب لڑاتھا۔مسٹر سدارمیا بادامی سیٹ سے 1696کے معمولی فرق سے جیتے ہیں جبکہ چامنڈیشوری میں 36042ووٹوں کے بڑے فرق سے وہ الیکشن ہار گئے ہیں ۔یواین آئی۔ایف اے 
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کرناٹک اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی میں واضح اکثریت سے پیچھے رہنے کے پیش نظر حکومت بنانے کے امکانات پر کام کرنے کے لئے پارٹی کے تین رہنماؤں مسٹر جے پی نڈا، دھرمیندر پردھان اور پرکاش جاوڈیکر کو بنگلور بھیجنے کا فیصلہ کیا ۔بی جے پی کے ذرائع کے مطابق یہ تینوں رہنما آج شام تک بنگلور پہنچ جائیں گے اور حکومت بنانے کے لئے لازمی اکثریتی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ ادھر بنگلور میں بی جے پی کے وزیر اعلی کے عہدے کے امیدوار بی ایس یدی یورپا نے اشارہ دیا کہ اکثریت سے دور رہنے کے باوجود سب سے بڑی پارٹی ہونے کی وجہ سے بی جے پی حکومت بنانے کا دعوی پیش کر سکتی ہے ۔ مسٹر یدی یورپا نے کہا کہ کرناٹک کے لوگوں نے کانگریس کو مسترد کر دیا ہے اور بی جے پی کو قبول کیا ہے ۔ لیکن مسترد کئے جانے کے باوجود کانگریس پچھلے دروازے سے اقتدار پر قبضہ جمانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ لوگ اسے برداشت نہیں کریں گے ۔مسٹر یدیورپا نے اپنے اگلے قدم کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ پارٹی کی قیادت سے بات چیت کرکے ممکنہ اقدامات کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔کرناٹک اسمبلی انتخابات میں خبریں لکھے جانے تک اعلان شدہ نتائج اور رجحانات کے مطابق بی جے پی 104، کانگریس 78، جنتا دل (سیکولر) 37 اور بہوجن سماج پارٹی اور کرناٹک پرجاونت جنتا پارٹی ایک- ایک سیٹ پر آگے چل رہی ہیں۔دوسری جانب کانگریس کے لیڈروں نے صبح سے ہی جنتا دل سیکولر کے رہنماؤں سے رابطہ بنا رکھا ہے ۔ دوپہر کے رجحانات میں بی جے پی کی اکثریت کے لئے ضروری 112 سیٹوں سے نیچے کھسکنے پر کانگریس نے جنتا دل سیکولر کو وزیر اعلی کے عہدہ دینے کا اعلان کیا جس کے بعد پارٹی نے کانگریس کی تجویز کو قبول کر کے شام کو گورنر وجوبھائی والا سے مل کر حکومت بنانے کا دعوی پیش کرنے کا اعلان کیا ہے ۔دلچسپ بات یہ ہوگی کہ گورنر کس کا دعوی کو قبول کرتے ہیں۔ سب سے بڑی سیاسی پارٹی کو یا کانگریس اور جنتا دل سیکولر کے مابعد انتخابات اتحاد کو ۔

 

Ads