Jadid Khabar

امریکی سفارتخانے کے افتتاح سے قبل تشدد‘ 41فلسطینی ہلاک

Thumb

یروشلم ،14مئی ( ایجنسی ) فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے یروشلم میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح کے موقع پر غزہ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران کم از کم 41فلسطینیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ہلاک شدگان میں بچے بھی شامل ہیں جبکہ حکام کے مطابق ان مظاہروں میں 1300 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔غزہ میں اسرائیلی سرحد کے قریب چھ ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں لیکن امریکہ کا سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم میں منتقل کیے جانے کے بعد ان میں شدت آئی ہے۔فلسطینی سفارتخانے کی منتقلی کو پورے بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کی امریکی حمایت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ فلسطینی اس شہر کے مشرقی حصے پر اپنا حق جتاتے ہیں۔مظاہروں کے دوران فلسطینیوں نے ٹائر جلائے اور اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم پھینکے جبکہ فوجی نشانے بازوں نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 35 ہزار فلسطینی حفاظتی باڑ ساتھ ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں شریک ہیں اور اس کے فوجی ضابط? کار کے تحت کارروائی کر رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اور ان کے شوہر جیرڈ کشنر یروشلم میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح سے قبل اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔وائٹ ہاؤس کے یہ دونوں سینیئر مشیر امریکی سفارتخانے کے افتتاحی پروگرام میں شرکت کریں گے جبکہ صدر ٹرمپ بذات خود وہاں نہیں ہوں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اور ان کے شوہر جیرڈ کشنر یروشلم میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح سے قبل اسرائیل پہنچ چکے ہیںتل ابیب سے امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے ان کے فیصلے پر فلسطینی ناراض ہیں۔امریکی سفارتخانے کا افتتاح ریاست اسرائیل کے قیام کے 70ویں سالگرہ کے موقعے پر رکھا گیا ہے۔اسرائیل یروشلم کو اپنا ازلی اور غیر منقسم دارالحکومت کہتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں جس پر اسرائیل نے سنہ 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔ فلسطینی اسے اپنی مستقبل ریاست کا دارالحکومت کہتے ہیں۔مسٹر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے سے اس مسئلے پر دہائیوں سے جاری امریکی غیرجانب داری میں فرق آیا ہے اور وہ بین الاقوامی برادری کی اکثریت سے علیحدہ ہو گیا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا کہ سفارتخانے کی منتقلی جشن کا موقع ہے اور دوسرے ممالک اس کی پیروی کریں۔انھوں نے کہا ’میں تمام ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے سفارتخانے یروشلم منتقل کرنے میں امریکہ کے ساتھ آئیں۔ یہ درست عمل ہے کیونکہ اس سے امن کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔‘فلسطنینی صدر محمود عباس نے صدر ٹرمپ کے سفارتخانے کو منتقل کرنے کے فیصلے کو 'صدی کا تھپڑ' قرار دیا ہے۔خیال رہے کہ یروشلم میں موجود امریکی قونصل خانے میں ایک چھوٹے اور عبوری سفارتخانے کا پیر کو افتتاح ہو رہا ہے جبکہ پورے سفارتخانے کو منتقل کرنے کے لیے ایک بڑی جگہ بعد میں تلاش کی جائے گی۔یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ اس پروگرام کے دوران ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے جبکہ ایوانکا ٹرمپ اور جیرڈ کشنر کے ساتھ امریکی وزیر خزانہ سٹیون مانوشن اور نائب وزیر خارجہ جان سولیوان وہاں موجود ہوں گے۔یوروپین یونین نے سفارتخانے کی منتقلی پر شدید اعتراض ظاہر کیا ہے جبکہ زیادہ تر یورپی یونین کے سفیر اس کا بائیکاٹ کریں گے۔بہر حال ہنگری، رومانیہ، اور چیک ریپبلک جیسے ممالک کے درجنوں نمائندے وہاں موجود ہوں گے۔ اس کے علاوہ گواٹے مالا اور پیراگوئے کے صدور بھی اس میں شامل ہونے والے ہیں۔ دونوں ممالک صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد اپنے سفارتخانے وہاں منتقل کر رہے ہیں۔سفارتخانے کی منتقلی کے وقت کے انتخاب پر غزہ میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے۔ مارچ کے بعد سرحد پر مظاہروں میں 40 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

یروشلم میں امریکی سفارتخانہ کی غیر قانونی منتقلی پر عرب لیگ کا اجلاس

قاہرہ، 14 مئی (رائٹر) عرب لیگ کا ایک اہم اجلاس جلد ہی قاہرہ میں منعقدہوگا، جس میں امریکی سفارتخانہ کو غیر قانونی طورپر یروشلم میں منتقل کرنے کے اقدام پر غور و خوض کیا جائے گا۔ سرکاری نیوز ایجنسی مینا نے ایک عرب سفارتکار کے حوالے سے آج یہ اطلاع دی ہے ۔ خبررساں ایجنسی نے کہا کہ عرب لیگ میں مستقل نمائندوں کی سطح پر یہ اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوگا، جس میں امریکی سفارتخانہ کو یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف جوابی اقدامات پر غور خوض کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ امریکی حکومت پیر کے روز اپنے سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم میں باضابطہ منتقل کرے گی۔ امریکہ کے اس اقدام سے جہاں اسرائیل شاداں ہے ، تو اس کے عرب اتحادی ممالک برہم ہیں۔ جبکہ فلسطینی باشندے اس اقدام کے خلاف مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔

Ads