Jadid Khabar

میں نے کونسی غلط بات کی ہے، حق بات کرتا رہوں گا:نواز شریف

Thumb

اسلام آباد ،14مئی ( ایجنسی) پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے انگریزی روزنامے ڈان میں شائع ہونے والے اپنے انٹرویو پر شروع ہونے والے تنازعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اس انٹرویو میں ’کون سی غلط بات کی ہے‘ اور وہ حق بات کرتے رہیں گے۔نواز شریف کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اس انٹرویو میں ممبئی حملوں کے بارے میں ان کی بات کے تناظر میں قومی سلامتی کونسل کا اجلاس جاری ہے۔یہ اجلاس فوج کی تجویز پر طلب کیا گیا ہے اور اسلام آباد میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں عسکری حکام اور سول قیادت شرکت کر رہی ہے۔اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت میں نواز شریف نے کہا کہ ’ذرا ڈان اخبار پڑھیں اور پہلے یہ بتایا جائے کہ میں نے کہا کیا ہے؟نواز شریف نے ڈان اخبار کی خبر پڑھ کر سنائی اور کہا کہ اس میں کون سی غلط بات ہے؟ڈان میں شائع ہونے والے انٹرویو کے مطابق نواز شریف نے کہا تھا کہ 'عسکری تنظیمیں فعال ہیں۔ انھیں غیرریاستی عناصر کہا جاتا ہے، کیا ہم انھیں اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کا قتل کریں؟‘پیر کو احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت میں نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہم نے قربانیاں دی ہیں لیکن دنیا ہمارے بات ماننے کو کیوں تیار نہیں ہے۔نان سٹیٹ ایکٹر سے متعلق بیان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مریم نواز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’پھر آپ نے ضربِ عضب کن کے خلاف کیا تھا۔؟نواز شریف نے کہا کہ ایک ایسے شخص کو غدار کہا جا رہا ہے، جس نے ملک کو اندھیروں سے نکالا اور ملک کو ایٹمی طاقت بنایا۔انھوں نے سابق آمر پرویز مشرف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس نے آئین توڑا، ججوں کو نکالا، بارہ مئی کا سانحہ کروایا اور اْسے محبِ وطن قرار دیا جا رہے۔ نواز شریف نے واضح کیا کہ وہ وہ حق بات کرتے رہیں گے چاہے انھیں کچھ سہنا پڑے۔

Ads