Jadid Khabar

اناؤ عصمت دری سانحہ کا ملزم ممبر اسمبلی گرفتار

Thumb

لکھنؤ 13 اپریل (یو این آئی ) اترپردیش کے سرخیوں میں چھائے اناؤ عصمت دری سانحہ کے ملزم ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کو آج صبح مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے گرفتار کر لیا ہے ۔پولیس کے ایک سینئر افسر نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کلدیپ کو ان کی لکھنؤ میں واقع رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا ہے ۔ریاستی حکومت نے کل ہی اس معاملے کی انکوائری سی بی آئی کے سپرد کی تھی۔ذرائع نے بتایا کہ سی بی آئی کلدیپ سنگھ سینگر سے پوچھ گچھ کر رہی ہے ۔ پولیس کے مطابق سی بی آئی دستہ نے ملزم رکن اسمبلی کے گھر صبح تقریبا چار بج کر 45 منٹ پر پہنچ کر انہیں گرفتار کر لیا۔ ممبر اسمبلی نے سی بی آئی ٹیم کے ساتھ جانے میں تھوڑی لاپروائی کی لیکن ٹیم کے رویہ کو دیکھتے ہوئے انہوں نے جانا ہی مناسب سمجھا۔اس معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے رکن اسمبلی کی گرفتاری میں ہوئی تاخیر پر کل ہی ناراضگی ظاہر کی تھی۔ عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملے میں مداخلت کی تھی۔ ممبر اسمبلی کے خلاف 11 اپریل کی رات عصمت دری اور پاسکو ایکٹ سمیت کئی دفعات میں معاملات درج کئے گئے تھے ۔ قبل ازیں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ( لکھنؤ زون) راجیو کرشن کی صدارت میں تشکیل خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی رپورٹ کی بنیاد پر رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی یقینی کی گئی تھی۔ سی بی آئی کو عصمت دری کے ساتھ ساتھ متاثرہ کے والد کی موت کی بھی تحقیقات سونپی گئی ہے ۔ سی بی آئی اس معاملے میں درج رپورٹ کے ساتھ ہی تین اپریل کے درج دیگر دو مقدموں کی بھی انکوائری کرے گی۔پولیس کے مطابق عصمت دری سانحہ گزشتہ برس چار جون کو پیش آیا تھا لیکن متاثرہ نے مجسٹریٹ کے سامنے دیئے گئے بیان میں رکن اسمبلی کا ذکر نہیں کیا تھا اس لئے اس کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تھی۔یہ معاملے اس وقت سرخیوں میں چھا گیا جب گزشتہ ہفتے متاثرہ نے وزیراعلی کی رہائش گاہ نے نزدیک خودسوزی کی کوشش کی تھی اس کے بعد فورا ہی ایس آئی ٹی کی تشکیل کی گئی اور اسی کی بنیاد پر ممبراسمبلی کے خلاف اناؤ کے ماکھی تھانے میں رپورٹ درج کی گئی۔ایس آئی ٹی کے علاوہ اس معاملے کی جانچ جیل کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل اور ضلع مجسٹریٹ اناؤ نے بھی کی تھی۔ان کمیٹیوں کی تحقیقات کی بنیاد پر اس معاملے میں پولیس سب انسپکٹر کنور بہادر سنگھ سمیت چھ پولیس اہلکار اور دو ڈاکٹروں کو معطل کر دیا گیا تھا۔ تین ڈاکٹروں کے خلاف محکمہ جاتی تحقیقات چل رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ عصمت دری کے واقعہ کے بعد 30 جون 2017 کو متاثرہ کے چاچا اسے لے کر دہلی چلے گئے تھے ۔ اس بابت متاثرہ نے پہلی رپورٹ 17 اگست 2017 میں درج کرائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ کے چاچا نے الزام لگایا ہے کہ مقدمے کی واپس لینے کے لئے ان کے بھائی (متاثرہ کے والد) پر دباؤ بنایا جا رہا تھا جس کی وجہ سے انہیں ماراپیٹا اور فرضی معاملوں میں جیل میں بھیج دیا گیا تھا جہاں انہیں اتنا مارا گیا کہ جیل سے اسپتال کے راستے میں ہی ان کی موت ہوگئی تھی۔پولیس کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیل جانے سے پہلے اور بعدمیں متاثرہ کے والد کا مناسب طبی علاج نہیں کیا گیا لہذا ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر اور ایمرجنسی میڈیکل افسر کو معطل کر دیا گیا جبکہ تین دیگر ڈاکٹروں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔واضح ر ہے کہ یہ معاملہ اس وقت روشنی میں آیا جب متاثرہ نے اناؤ کے بانگرمئو علاقے سے رکن اسمبلی مسٹر سینگر اور دیگر ملزمان کے خلاف کارروائی کے مطالبہ کو لے کر حال ہی میں وزیراعلی کی رہائش گاہ کے نزدیک خودسوزی کی کوشش کی تھی اور اگلے ہی روز متاثرہ کے والد کی بھی موت ہوگئی تھی اس کے بعد سرکاری عملے کے سرگرمی عمل میں آئی۔معاملہ سرخیوں میں آنے پر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر تنقید شروع کر دی تھی۔ بی جے پی صدر امت شاہ کے 11 اپریل کے دورے کے وقت بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق حکومت نے اسی وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ معاملے کی جانچ سی بی آئی کو دے دی جائے ۔

 

Ads