Jadid Khabar

بی جے پی کی کرناٹک میں ہندوتو کارڈ کھیلنے کی کوشش

Thumb

بنٹوال، 12 اپریل (یواین آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کرناٹک اسمبلی کے 12 مئی کو ہونے والے انتخابات میں جنوبی کنڑ اضلاع میں ہندوتو کارڈ اور گﺅرکشا کے مسائل پر زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہے اور کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے دینا نہیں چاہتی۔ویسے حقیقت تو یہ ہے کہ بی جے پی کے حقیقی ناخدا تو وزیر اعظم نریندر مودی ہی ہیں لیکن اس کے باوجود مقامی پارٹی کے لیڈر بڑی تعداد میں ہندوں کے مارے جانے اور گﺅرکشا کے ایشوز کو انتخابات کے منتر کے طور پر اپنا رکھا ہے ۔بنٹوال فرقہ وارانہ فسادات کا کوئی تین دہائی تک اہم مرکز رہا ہے ۔ بی جے پی کو بنٹوال سیٹ حاصل کرنے کے لئے ہندو ووٹ کو اپنے حق میں کرنے میں ایڑی چوٹی ایک کرنی پڑرہی ہے کیونکہ اس سیٹ سے کانگریس کے سینئر لیڈر اور وزیر راماکانت رائے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ایک دکاندار کے ایس پرکاش نے کہا''مسٹر رائے ٹھیک ہیں لیکن سدارمیا کی حکومت نے ہندوں پر کوئی توجہ نہیں دی۔ حال ہی میں مسلمانوں کے اوپر سے بہت سے کیس اٹھا لئے گئے ۔ یہاں گائے چوری کے کئی معاملہ سامنے آئے ہیں لیکن انتظامیہ نے ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا''۔اس نے حال ہی میں بنٹوال تعلقہ کے کیرانگالہ میں امرت دھر گﺅشالا سے گائے چوری کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب گﺅشالا کے سربراہ نے مجرموں کی گرفتاری کی مانگ کو لے کر جب بھوک ہڑتال شروع کی تو یہ معاملہ اجاگر ہوا۔ پولیس نے دو دن کے اندر اندر دو افراد کو گرفتار کیا جو اقلیتی طبقہ سے تھے ۔ وہ بھوک ہڑتال تقریبا 10 دنوں تک چلی تھی۔ اس واقعہ نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے متنازعہ رہنما کے پربھاکر بھٹ اور جنوبی کنڑ سے ممبر پارلیمنٹ نلن کمار کٹیل سمیت کئی بھگوا رہنماں کی توجہ اپنی اور کھینچا۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس ہندو جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرکے ہوئے واقعہ کو فرقہ وارانہ شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے ۔شہر سے صرف چھ کلومیٹر دور کلاڑکا نامی علاقہ ہے جہاں 2017 کے وسط میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تصادم ہوئے ۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ فسادات اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی درجہ حرارت بڑھانے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔بی جے پی ریاست میں 'گﺅ سرکشا' کو اہم انتخابی ایجنڈا کے طور پر بنانے پر زور دے رہی ہے ۔ اپوزیشن لیڈر کے ایس یشورپا نے اس کی حمایت کرتے ہوئے دو دن پہلے کہا تھا کہ بی جے پی کی مہم میں گﺅ سرکشا کو اہم ایجنڈے کے طور پر شامل کرے گی۔کرناٹک کی پہلی بی جے پی حکومت کے اہم آرکیٹیکٹ کے پربھاکر بھٹ نے حال ہی میں'گﺅ سرکشا' اور 'ہندو بھانا' پر متنازعہ بیان دیا تھا۔وزیر مملکت اور منگلور کے ممبر اسمبلی یو ٹی قادر پر مسٹر بھٹ کے اس بیان پر بہت سے حلقوں میں ان کی تنقید کی گئی تھی جس میں انہوں نے کہا''انہوں نے (قادر نے ) گﺅ مانس کھایا اور ان کے جانے کے بعد مندروں پاک کیا جانا چاہئے ''۔بی جے پی جنوبی کنڑ ضلع صدر سنجیو متندور نے کہا''گزشتہ دورکے برعکس بی جے پی کو اس بار جیتنے کا زیادہ امکان ہے ۔ کئی ہندو رہنما ں کا قتل کیا گیا ہے ۔ حکومت گائے کے ذبیحہ کو روکنے کے لئے کچھ بھی نہیں کر رہی ہے اس علاقے میں ریت مافیا بھی سرگرم ہیں۔ یہ بہت ہی سنگین ہے اور بی جے پی ساحلی علاقوں میں ان ایشوز کو اٹھائے گی''۔جنوبی کنڑ میں آٹھ اسمبلی سیٹوں میں سے بی جے پی گزشتہ اسمبلی انتخابات میں سات میں ہار گئی تھی۔ حالانکہ پارٹی نے 2014 لوک سبھا انتخابات میں حمایت حاصل کی، جبکہ کیٹیل کی سات اسمبلی سیٹوں میں اکثریت ملی، جس نے بی جے پی کو نئی امید یں جگا دی ہے ۔ 2013 میں بی جے پی کی شکست کے لئے کئی چیزوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ مثلاً منگلور پب حملے پر روشنی ڈالنا اور فرقہ وارانہ تنازعات جیسے واقعات کو پارٹی کی شکست کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ریاست میں تقریبا 15 فیصد مسلم آبادی ہے ، جن میں سے 25 فیصد جنوبی کنڑ علاقہ میں ہیں۔بنٹوال میں ایک آ ٹورکشا ڈرائیور رحمت اللہ نے کہا''مودی ختم ہو چکے ہیں وہ کرناٹک میں زیادہ کچھ نہیں کر سکتے ۔ نوٹ بند¸ نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو متاثر کیا ہے ،کانگریس حکومت بہت سی چیزیں کر رہی ہیں۔ آخر ہم بھی امن و امان سے رہنا چاہتے ہیں''۔منگلور، حال ہی میں فرقہ وارانہ تنازعات اور سیاسی قتل کی وارداتوں کا گواہ رہا۔بجرنگ دل اور بی جے پی کارکن دیپک راکا شہر کے کٹاپیلا میں قتل کر دیا گیا تھا جس کے خلاف دو مسلم نوجوانوں، عبدالبشیر اور محمد مبشر پر حملہ کیا گیا۔ پولیس نے کہا کہ دونوں کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں ہے ۔ حملے میں مسٹر بشیر کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔جنوبی کنڑ میں 'امن و امان' کے حالات پر سدارمیا انتظامیہ کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ، بی جے پی نے مارچ کے آغاز میں دو 'سرکشا یاترا' کا انعقاد کیا تھا۔یہ دو یاترائیں جنوبی کنڑ اور شمالی کنڑ میں کی گئیں ، جس سے پورے ساحلی پٹی میں زبردست کشیدگی پھیل گئی تھی۔ بہرحال کس پارٹی کا کارڈ کتنا چلے گا، یہ مستقبل میں پوشیدہ ہے اور انتخابات کے نتائج کے بعد ہی اس کا پتہ چلے گا۔

 

Ads