Jadid Khabar

سینگر کو کب گرفتار کروگے؟یوگی سے ہائی کورٹ کا سوال

Thumb

الہ آباد ،12اپریل(ایجنسیاں)اناﺅ گینگ ریپ معاملے میں جمعرات کو الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔عصمت دری کے ملزم ایم ایل اے کی ابھی تک نہیں ہوئی گرفتاری پر ہائی کورٹ نے یو پی حکومت کو جم کر پھٹکار لگائی ہے۔ معاملے کی سنوائی کررہے چیف جسٹس ڈی بی بھوسلے اور جسٹس سنیت کمارنے یوپی سرکار سے سوال کیا کہ سےنگر کوگرفتار کروگے یا نہیں؟ہائی کورٹ نے حکومت کو جواب دینے کے لئے دو بجے کاوقت دیا ہے۔واضح رہے کہ ابھی لنچ بریک چل رہا ہے۔ دوپہر کے کھانے کے بعددوبارہ پھر سے سنوائی ہوگی۔ غور طلب رہے کہ اس معاملے میںپولیس نے ایم ایل اے کے بھائی، اتل سےنگر کو گرفتار کربھیج دیاہے۔ایم ایل اے ابھی بھی باہر ہیں۔ اترپردیش میں سرخیوں میں چھائے انا عصمت دری معاملہ میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کے خلاف رپورٹ درج کرکے پورے معاملہ کی جانچ مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) کو سونپنے کا فیصلہ کیا گیا۔ریاست کے محکمہ داخلہ کے چیف سکریٹری اروند کمار اور پولیس ڈائرکٹر جنرل ا وپی سنگھ نے آج یہاں یہ اطلاع صحافیوں کو دی۔ مسٹر کمار نے بتایا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی رپورٹ کی بنیاد پر کل رات ڈھائی بجے انا کے ماکھ¸ تھانے میں رکن اسمبلی کے خلاف رپورٹ درج کرائی گئی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جب تک سی بی آئی اس معاملہ کی جانچ نہیں شروع کرتی تب تک ایس آئی ٹی تفتیش جاری رکھے گی۔چیف سکریٹری داخلہ نے بتایا کہ سی بی آئی کو گزشتہ سال چار جون کو عصمت دری کے ساتھ ساتھ عصمت دری کے واقعہ سے ہی منسلک تین اپریل کو درج دو معاملوں کی رپورٹ بھی سی بی آئی کو سونپی گئی ہے ۔ تین اپریل کو درج مقدمے میں متاثرہ کے والد کی عدالتی حراست میں موت کا ذکر ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ متاثرہ کے خاندان کو مکمل سیکورٹی دی گئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ چار جون 2017 کو عصمت دری کے واقعہ کے سلسلہ میں رپورٹ درج ہوئی تھی لیکن متاثرہ کے مجسٹریٹ کو دیئے گئے 164 بیان میں رکن اسمبلی کا ذکر نہیں تھا اس ان کے خلاف اس وقت رپورٹ درج نہیں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملہ میں تین کمیٹیوں نے الگ الگ تفتیش کی۔پہلی جانچ ایس آئی ٹی،دوسری جیل ڈپٹی انسپکٹر جنرل اور تیسری ضلع مجسٹریٹ انا نے کی۔ اس معاملہ میں پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ،ایک تھانہ انچارج سمیت چھ پولیس اہلکاروں اور دو ڈاکٹرز معطل کئے جاچکے ہیں۔تین ڈاکٹروں کیخلاف محکمہ جاتی جانچ چل رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ عصمت دری کے واقعہ کے بعد تیس جون 2017 کو متاثرہ کے چچا اسے لے کر دہلی چلے گئے ۔ اس سلسلہ میں پہلی رپورٹ متاثرہ نے 17 اگست 2017 کو درج کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ کے چچا نے الزام لگایا ہے کہ ریورٹ واپس لینے کے لئے اس کے بھائی (متاثرہ کے والد) پر دبا¶ بنایا جا رہا تھا۔ رپورٹ واپس نہیں لینے کی وجہ سے اس کے بھائی کو اتنا مارا گیا کہ ان کی موت ہو گئی۔ انہیں فرضی مقدموں میں جیل تک بھجوا دیا گیا۔ انہیں اتنا مارا گیا تھا کہ جیل سے اسپتال لانے پر ان کی موت ہو گئی۔مسٹر کمار نے بتایا کہ جیل ڈپٹی انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کل شام ہی کوحکومت کو ملی ہے ۔ ضلع مجسٹریٹ نے چیف میڈیکل افسر کی صدارت میں سہ رکنی تفتیشی کمیٹی بنائی تھی۔ اس کی بھی رپورٹ کل ہی ملی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیل جانے سے پہلے اور جیل جانے کے بعد متاثرہ کے والد کی مناسب طبی امداد نہیں دی گئی، لہذا اسپتال کے چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ایمرجنسی میڈیکل افسر کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ تین دیگر ڈاکٹروں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

 

 

Ads