Jadid Khabar

کیمیائی حملہ کے قصورواروں کے خلاف ہوگی کارروائی: ٹرمپ

Thumb

واشنگٹن، 10 اپریل (یواین آئی) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ شام کے مشرقی غوطہ شہر میں باغیوں کے ز یر کنٹرول دوما میں ہوئے مبینہ کیمیائی حملے کے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں مبینہ کیمیائی حملہ کے ردعمل میں 'پرزور' جوابی کارروائی کی عہد کیا ہے جبکہ مغربی ممالک اس امر پر غور کر رہے ہیں کہ کیا قدم اٹھانا چاہیے ۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ 'عسکری سطح پر ہمارے پاس بہت سے آپشن ہیں' اور جوابی کارروائی کا فیصلہ جلد کیا جائے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو فرانسیسی صدر امانوئل میکرون کے ساتھ اس واقعہ کے بارے میں بات چیت بھی کی اور دونوں رہنماؤں نے 'ٹھوس ردعمل' ظاہر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہفتہ کو دوما میں ہونے والے واقعہ کے ذمہ دار کے بارے میں امریکہ کو 'اچھی وضاحت' مل رہی ہے ۔اس سے قبل اقوام متحدہ انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا تھا کہ دنیا کی بڑی طاقتیں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو نظر انداز کر رہی ہیں۔
شام میں جہاں گیس متاثرین کو فوری طبی امداد ،زخمیوں کو علاج اور بچوں و خواتین کو خوراک اور بنیادی چیزوں کی فراہمی انتہائی ضروری ہے ،وہیں دنیا کی دو بڑی طاقتیں آپس میں الجھی ہوئی ہیں۔شورش زدہ شام کے لوگ دنیا کی جانب دیکھ رہے ہیں۔گیس کے معاملہ پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شام کی جانب سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر 'کیمیائی حملہ' کے حوالہ سے روس اور امریکہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے ۔اقوام متحدہ میں روس کے سفیر کا کہنا ہے کہ شام میں 'کیمیائی حملہ' کا ڈرامہ سٹیج کیا گیا، دوما کے واقعہ پر امریکی کی 'فوجی کارروائی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں' جبکہ امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ 'روس کے ہاتھوں پر شامی بچوں کا خون ہے 'اس سے پہلے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ نے سلامتی کونسل کے رکن ممالک پر شام میں ہونے 'کیمیائی حملے ' کی کمزور الفاظ میں مذمت کرنے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کی جانب سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر 'کیمیائی حملہ' کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تھا کہ شام سے متعلق 'بڑے فیصلوں' کے بارے میں آئندہ دو دن میں فیصلہ کر لیا جائے گا۔بی بی سی کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے روس کے صدر بشار الاسد کو 'عفریت' قرار دیتے ہوئے کہا ''اگر سلامتی کونسل نے اس حوالہ سے کوئی کارروائی نہ کی تو امریکہ اس کا جواب دے گا''۔دوما پر ہفتہ کو ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے میں اندازوں کے مطابق 42 سے 60 افراد ہلاک ہوئے تھے تاہم طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے ۔امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے اس حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی جبکہ شامی حکومت اور روس نے اس کی تردید کی تھی۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا ماہرین اور امدادی کارکنوں نے باغیوں کے علاقے سے نکل جانے کے بعد وہاں کا دورہ کیا ہے اور انھیں 'کیمیائی حملے ' کے کوئی آثار نہیں ملے ہیں۔خیال رہے کہ ہفتہ کو دوما پر ہونے والے حملے کے بعد امریکی صدر نے ایک بیان میں شام میں 'کیمیائی حملے ' کو ایک وحشیانہ جرم قرار دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اس کے ذمہ داروں کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ی
 اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ شام میں ہوئے کیمیائی حملے کو لے کر منگل کو ہونے والی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی قرارداد پر ووٹنگ ہوئی جس میں کیمیائی حملوں کی نئے سرے سے جانچ کی مانگ کی گئی ہے ۔امریکہ نے قراردادکا نیا مسودہ تیار کرکے 15 رکنی سلامتی کونسل کے حوالہ کر دیا ہے ۔ اسی درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ شام میں کیمیائی حملوں کے لیے ایران اور روس کو بڑی قیمت ادا کرنا ہوگی۔قابل غور ہے کہ ہفتہ کو شام میں باغیوں کے کنٹرول والے ڈوما شہر میں ہوئے مبینہ کیمیائی حملہ میں بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے تھے ،جس میں بیشتر خواتین اور بچے تھے ۔رائٹر،اظ

 

Ads