Jadid Khabar

35 سال کی پابندی کے بعد سعودی عرب میں پہلا سینما گھر

Thumb

ریاض ،5اپریل  (ایجنسی ) سعودی عرب میں اے ایم سی کا پہلا سینما گھر دارالحکومت ریاض میں شاہ عبد اللہ فائنیشل ڈسٹرکٹ میں کھولا جائے گا۔دنیا میں سینما گھروں کی سب سے بڑی کمپنی اے ایم سی نے اعلان کیا ہے کہ اس ماہ کی 18 تاریخ کو وہ سعودی عرب میں اپنا پہلا سینما گھر کھولے گی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں گذشتہ 35 سالوں سے سینما گھروں پر پابندی تھی اور مملکت میں کئی دہائیوں میں کھلنے والا یہ پہلا سینما گھر ہوگا۔اے ایم سی کے ترجمان رائن نونان نے نامہ نگار شجاع ملک سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس حوالے سے سعودی حکومت کے پبلک انویسمنٹ فنڈ کی ایک ذیلی کمپنی اور اے ایم سی کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے اور سعودی عرب میں اے ایم سی کا پہلا سینما گھر دارالحکومت ریاض میں کھولا جائے گا۔اس سوال پر کہ کیا سینما گھروں میں خواتین کو جانے کی اجازت ہوگی یا ان کے علیحدہ سیٹوں کا تعین کیا جائے گا، ترجمان کا کہنا تھا کہ فلحال یہ تفصیلات ظاہر نہیں کی جارہیں۔اسی حوالے سے سعودی وزارتِ اطلاعات اور ثقافت نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس معاہدے کی تصدیق کی گئی ہے۔کمپنی کی جانب سے اس حوالے سے جاری کردہ اعلان میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ پانچ سالوں میں ملک کے پندرہ شہروں میں 30 سے 40 سینما گھر کھولے جائیں گے جبکہ سنہ 2030 تک ان کی تعداد 100 تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔اے ایم سی دنیا بھر میں تقریباً 1000 سینما گھر چلاتی ہے۔ملک میں آنے والی اس جیسی متعدد بڑی تبدیلیوں کا سہرا ملک کے 32 سالہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دیا جا رہا ہے جو روایتی طور پر ایک قدامت پسند ملک میں خود کو جدیدیت پسند کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔گذشتہ برس سعودی عرب میں پہلی مرتبہ خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ سعودی عرب میں 1990 سے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی عائد تھی۔ یہ پابندی قانون کا حصّہ نہیں تھی تاہم معاشرتی اور تہذیبی طور پر سعودی عرب میں اس عمل کی اجازت نہیں ہے۔

Ads