Jadid Khabar

حکمت عملی بدلئے ، ہوا کا رخ بدل جائے گا

Thumb

ملت کا اتحاد اس بات کا متقاضی ہے کہ ملی رہنما کسی بھی مسئلہ میں برسرعام ایک دوسرے پر انگشت نمائی نہ کریں۔ گزشتہ جمعہ(12جنوری) ایک بڑی تنظیم کے نہایت سنجیدہ اور لائق احترام ذمہ دار کا ایک مضمون تین طلاق بل کے تعلق سے اخبار میں شائع ہوا ، جس کاابتدائی حصہ نہایت مفید اورچشم کشا مشوروں سے لبریز ہے۔ہم اس کی بدل وجان تائید کرتے ہیں۔ لیکن اس کے دوسرے حصہ میں بل کی پیشی کے وقت لوک سبھا میں بعض مسلم ممبران کی خاموش کا شکوہ کیا گیا ہے۔ محترم کالم نگار نے جو سنجیدہ اورلائق توجہ مشورے اول حصے میںدئے ہیں، اس بیجا شکوہ نے ان کی قدرکومجروح کردیاہے۔ افسوس کہ یہ بات گرفت میں نہیں آسکی کہ ملک کے موجودہ سیاسی ماحول میں تدبیراورتدبرکی ترجیحات کیا ہوں اورجو روش ان محترم رہنماؤں نے لوک سبھا میں اختیارکی، اس ماحول میں درست رویہ وہی تھا یا کچھ اور؟
ستم بالائے ستم یہ کہ اس شکوہ کو بنیادبناکردہلی کے ایک روزنامہ نے جو رپورٹ شائع کی ہے اس میں دومحترم مسلم ارکان پارلیمنٹ کونام لے کر مطعون کیا گیا ہے۔ہرچند کی کالم نگار نے کسی کا نام نہیںلیا، لیکن رپورٹ کی سرخی میں ناموں کے ساتھ ان کے فوٹو بھی لگادئے گئے ہیں۔یہ بات اس لئے افسوسناک زیادہ ہے کہ ان دنوں بزرگوں نے اپنی عمر بساط بھرملک ملت کی خدمت میں لگادی اور عملی سیاست کاان کا تجربہ بھی طویل ہے ۔ اب جب کہ وہ عمرکے آخری حصہ میں ہیں، ان کی خدمات کے اعتراف کے بجائے ان کی سیاسی سمجھ بوجھ کو نشانہ بنانا اور برملا مطعون کرنا تکلیف دہ ہے۔ان کی سیاسی بصیرت سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ ان سے گھرکے اندر بیٹھ کر بات کرنے کے بجائے اپنی رائے کو اعلیٰ سمجھ کر ضمنی اختلاف کو ملت میں خلفشار کا سبب بنانا یقینا مستحسن نہیںہے۔استغفراللہ۔
کیا قیامت ہے کہ جن کے لئے رک رک کے چلے
اب وہی لوگ ہمیں آبلہ پا کہتے ہیں
الحمدللہ نہ تومجھ پر ذاتی طورسے ان دونوں بزرگ قائدین کا زرہ برابر کوئی بار احسان ہے اور نہ میں کانگریس کا مدح خواں ہوں، البتہ غلام نبی آزادی کی سیاسی سمجھ اوردوراندیشی کامعترف ضرورہوں۔ غورکیاجائے تو لوک سبھا میں بشمول کانگریس غیربھاجپائی پارٹیوں نے جو حکمت عملی اختیا رکی وہ موجودہ ماحول میں عین سیاسی مصلحت کا تقاضا تھی۔ لوک سبھا میں اس خاموشی پر جو ان مسلم ممبران نے اختیار کی ،مکدر ہونے کے بجائے ، اس حکمت عملی کے نفع نقصان کوسمجھنا اوراس کے بعد کے نتائج کو نظرمیںلانا لازم ہے ۔بہت شور مچانے سے ملت کا کوئی مسئلہ حل ہوا ہوتو بتائیے۔ بیرسٹراسدالدین اویسی نے بیشک ایک جذباتی تقریر کی جوان کی جماعتی مصلحت کے عین مطابق تھی، اگرچہ ان سے توقع یہ تھی وہ بل کے قانونی نقائص اجاگرکریں گے۔اگرہدف تنقید بنائے گئے دونوں صاحبان اورکچھ دیگر ممبران بھی بل کی مخالفت میںایسی ہی جوشیلی تقریریں کردیتے ،توسوال یہ ہے کہ کیا بل کی منظوری رک جاتی؟ ہرگز نہیں۔البتہ اس صورت میں بل کی منظوری پر مسلم مخالف حلقوں میں اور میڈیا میں جو جشن کا ماحول ہوتا وہ ہماری ملت اورملک کیلئے سخت مضرہوتا۔ سیاسی مصلحت کے تقاضا ہرمرحلہ پر بولنا ہی نہیں،کبھی خاموش رہنا بھی ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر بل کی اگرشدید مزاحمت کی جاتی تب بھی بھاجپا کی اکثریت کی بدولت لوک سبھا میں منظورہی ہوجاتا۔ اس فتح کو ہمارے مخالفین جس طرح بھناتے ،اس کا تصور بھی تکلیف دہ ہے۔ یہ بھی غورکیجئے کہ لوک سبھا میں کانگریس اور دیگر غیر بھاجپائی پارٹیوں کے طریقۂ کارنے بھاجپا کو خوش ہونے کازیادہ موقع نہیں دیا۔ لیکن انہی پارٹیوں کی سوچی سمجھی حکمت عملی کی بدولت راجیہ سبھا میں سرکار کے منصوبے کو زبردست جھٹکا لگا۔شاید ساڑھے تین سال میں یہ پہلا موقع تھا جب مودی جی نے اپنے خواب کویوں شکست سے دوچارہوتے دیکھا۔ بے فکر رہئے، اب اس بل کا موجودہ صورت میں منظورہوجانا ممکن نہیں رہا ہے۔گویا ہمیں ایک شیطانی قانون سے رلیف مل گئی ہے۔ جوخطرہ نزدیک آگیا تھا وہ ٹل گیا ہے۔  اب دیکھنا یہ ہے کہ جو تنظمیں تین طلاق کے تقدس کیلئے مصروف پیکار تھیںوہ اس مہلت کا کیا فائدہ اٹھاتی ہیں؟
صحیح بات وہی ہے جو زیرتبصرہ کالم کی سرخی میںسمودی گئی ہے۔’’اگرہم خود شریعت پرعمل کرنے کا تہیہ کرلیں توکوئی طاقت ہمیں اس سے روک نہیں سکتی۔‘‘ کالم نگارمحترم نے ، جیدعالم دین ہیں، اس نکتہ کی دل نشین وضاحت کی ہے کہ تین طلاق کا معاملہ قرآن کے واضح حکم یا قاطع سنت سے اخذ نہیں ہے،بلکہ فقہاء کی استنباطی اوراختلافی رائے ہے ۔ اس میں کسی ایک رائے پر اصرار درست نہیں۔ حالات اورظروف کی رعایت لازم ہے۔ موصوف کی یہ بات اگران کی وہ تنظیم قبول کرلیتی جس کے وہ خود سیکریٹری ہیںاوراس مشورے کے مطابق موقف عدالت میں اختیار کر لیا جاتا توصورتحال ایسی خراب نہ ہوتی جیسی آج ہے۔
 بہرحال جو ہوگزرا، سو ہوگزرا۔ماضی کی تاریکیوںمیںبھٹکتے رہنے کے بجائے مستقبل کیلئے ایسا لائحہ عمل بنایا جائے جو ملک اورملت دونوں کیلئے باعث راحت ہو۔ موصوف محترم نے بجاطورپر ملت کی آگاہی پرزوردیا ہے۔ معاشرے کی اصلاح کی یہی بات اس وقت اخباروں کی شہ سرخی بنی تھی جب مسلم پرسنل لاء بورڈنے کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں کہا تھاکہ بورڈ طلاق ثلاثہ کی برائی کو روکنے کیلئے خود عوامی مہم چلائے گا۔ہم نے اس دم بھی اس کا خیرمقدم کیا تھا اورآج بھی یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ عدالت کودی گئی اس یقین دہانی اوروعدہ کو چھ ماہ سے اوپر گزر چکے ہیں۔ابھی تک اس سمت بورڈ نے ایک بھی قدم نے نہیں اٹھایا ہے۔حالانکہ وقت اورحکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اس مہم کوپوری شدت کے ساتھ اٹھایا جائے اور سرکار کو یہ باورکرادیا جائے کہ یہ ہمارا معاملہ ہے، ہم خوداصلاح کررہے ہیں۔ کسی کو دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ افسوس کہ توجہ اس طرف مطلق نہیں حالانکہ ملت کو گزشتہ چار دہائی سے یہ بتایا جارہا ہے کہ تین طلاق کاتحفظ شریعت کا تحفظ ہے، اور جو یہ سمجھ بیٹھے ہیںکہ اس خباثت کوچھوڑدینا ان کیلئے باعث عارہے،اس لئے  ان کواب یہ سمجھانے کیلئے مزید توانائی درکار ہے کہ اس طریقہ کوگناہ سمجھو اورچھوڑ دو۔
ہمیں اپنی حکمت عملی میں ایک پہلو کا اوراضافہ کرنا چاہئے۔ جوہماری آنکھ میںکجی بتارہا ہے، اس کو آئینہ دکھادو۔ خود جن کے سماج میں خواتین کا حال خراب ہے، وہ ہم پر کیسے ملامت کرتا ہے؟ راجیہ سبھا میں جب سرکار بل منظور نہیں کرا سکی اورپسپا ہونے پرمجبورہوگئی توارون جیٹلی جی نے کہا تھا:’’آج پارلیمنٹ کے پاس سنہری موقع تھا کہ وہ ناانصافی جو مسلم خواتین کے ساتھ ہورہی ہے، ختم ہوجاتی۔ کانگریس پارٹی کے اس رویہ کی بدولت یہ ناانصافی جاری رہے گی۔ـ‘‘
ہم جیٹلی صاحب کے شکرگزارہیںکہ انہوںنے مسلم خواتین سے ہمدردی کا اظہارکیا۔ گزارش ہے ان غریب گجراتی خواتین کا بھی ذکرکرلیا کیجئے جو 2002 سے انصاف کی منتظرہیں۔ جن کی برسرعام اجتماعی عصمت دری کی گئی، گھر اور کاروبار لوٹے اورجلائے گئے، نظروں کے سامنے ان کے شوہر اوربچے ہلاک کردئے گئے، زندہ جلادئے گئے ۔ان میں ایک بوڑھی خاتون ذکیہ جعفری بھی ہیں،جوانصاف کیلئے جدوجہدکررہی ہیں۔ عشرت جہاں کی والدہ بھی ہیںاوروہ ہزاروں ان نوجوانوں کی مائیں، بہنیں اورازواج بھی جن کو دہشت گردی کا الزام لگا کرجیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ تین طلاق کی ماری مسلم مطلقہ خواتین تو چندسو ہیں جن کی اتنی فکرہے۔ ان 4کروڑ 30لاکھ ہندوبیوا، دس لاکھ سے زیادہ طلاق شدہ اوربیس لاکھ کے قریب بغیر طلاق کے چھوڑی ہوئی خواتین کی فکر بھی کرلیجئے، جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔جن کو شوہرکے انتقال کے بعد منحوس اور بدشگون سمجھا جاتا ہے۔ پہلے شوہر کے ساتھ جلادیا جاتا تھا، اب گھروں سے نکال دیاجاتاہے ۔ان کی تعدا د لاکھوں میں ہے۔ان میں نوجوان بھی ہیں ، ادھیڑ عمر بھی اوربوڑھی بھی۔ کچھ فکر ان کی بھی چاہئے۔
روزنامہ ہندو (9اکتوبر2017) میںایک رپورٹ بعنوان،  "What it means to be a widow in India today".  شائع ہوئی ہے جس میں ان غریبوں کی ناقابل بیان جسمانی اورذہنی اذیت کا نقشہ کھینچا گیاہے جس میں یہ بے بس خواتین گھروں سے دورمختلف آشرموں میں سسک سسک کردم توڑ دیتی ہیں۔ بین اقوامی شہرت یافتہ جریدہ ’’ٹائمـ‘‘ نے ایک طویل رپورٹ بعنوان ، ’’اگر تم ہندوستانی بیوہ ہو، توتمہارے بچے تم کو گھرسے باہرلات مار کرنکال سکتے ہیں، تمہاری ہرچیز چھین سکتے ہیں۔‘‘شائع کی ہے۔  "If You're an Indian Widow, Your Children Could Kick You Out and Take Everything".  ۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے ’’ہندستان میں شوہر اگر نہ رہے توبہت سی خواتین کی زندگی بھیک مانگتے اوربے بسی کے عالم میں گزرسکتی ہے۔ اس کے باوجود ملک میںان کے حال کی بہتری کے لئے کچھ نہیںہورہا ہے۔‘‘ ایسی بہت سی خواتین کو جسم فروشی کے دھندے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔
میں کہتا ہوںکہ جب سرکار تین طلاق کے نام سے مسلم خواتین پر ظلم کا شور اٹھاتی ہے ، اس وقت آخر آپ کو کس نے روکا ہے کہ ایک خیرامت کے ناطے ملک اور قوم کی ان بیوہ، طلاق شدہ اوربغیرطلاق چھوڑی ہوئی خواتین کے حق میں آواز اٹھائیں؟ ہمیں اپنی تحریکات کو خود حفاظتی حصارکیلئے نہیں، عالم انسانیت کی بہبود کیلئے ڈھالنا چاہئے۔ یہی اسوہ رسول ہے۔ آپ ﷺ نے جس وقت لڑکیوں کو زندہ درگورکرنے کے خلاف آواز اٹھائی تھی، یہ مٹھی بھر اہل ایمان کا مسئلہ نہیں تھا،بلکہ مشرکین عرب کا مسئلہ تھا۔ آپ ﷺنے جو تدابیر اختیارکیں ان کا محوراپنے صاحب ایمان ساتھیوں کی حفاظت تک محدود نہیں تھا بلکہ رہتی دنیا تک عالم انسانیت کی بھلائی تھا۔اگرآج ہماری تنظیمیںمصیبت زدہ غیرمسلم بہنوںکے حق میں اٹھ کھڑی ہوں، توتین طلاق کے بہانے جولوگ ہمیں نشانے پر لئے ہوئے خود گھٹنوںکے بل آجائیں گے۔ اپنے دفاعی حصاروں کو توڑ کر باہرآجایئے اورایسی مہم چھیڑیئے جس سے ہم پرحملہ کرنے والے خودشرمندہ ہوکر پسپا ہوجائیں۔غیرمسلم خواتین کا بھی کچھ بھلا ہوجائے جن کے مصائب کیلئے عنداللہ ہم بھی جواب دہ ہیں۔ 
syyedagha8@gmail.com
cell: 981868677

 

Ads