Jadid Khabar

راجیہ سبھا میں طلاق بل کی پسپائی

Thumb

ایک نشست میں تین طلاق کو قابل سزا جرم قرار دینے سے متعلق مودی سرکار کا بل آسمان سے گرکے کھجور میں اٹک گیا ہے۔ لوک سبھا سے اس کی منظوری پر بغلیں بجانے والی حکومت اب راجیہ سبھا میں اپنی ناکامی پر بغلیں جھانکتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ حکومت کو پوری امید تھی کہ جس طرح لوک سبھا میںخواتین کی ہمدردی کے نام پر اپوزیشن پارٹیوں نے اس بل کی حمایت کی ہے، اسی طرح راجیہ سبھا میں بھی یہ بل جوں کا توں پاس ہوجائے گا۔ لیکن یہاں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا اور وہ اس بل کو پاس کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ راجیہ سبھا میں اس بل کو پاس کرانے کی کوششوں کے دوران حکومت کو زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور راجیہ سبھا کی کارروائی آخر کار غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہوگئی۔ اب حکومت اپنی ناکامی کا دوش اپوزیشن کے کاندھوں پر ڈالنے کے لئے اسے خواتین کا مخالف اور ان کی ترقی کا دشمن قرار دے رہی ہے۔ یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر حکومت اس بل کو پاس کروانے میں اتنی عجلت میں کیوں ہے اور وہ اپوزیشن کی طرف سے پیش کی گئی نہایت معقول ترمیمات کو بھی خاطر میں کیوں نہیں لارہی ہے۔ حکومت کے رویے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایک ناقص اور خواتین مخالف قانون کو پاس کرانے کے لئے غیر معمولی عجلت میں مبتلا ہے۔ اگر یہ بل جوں کا توں پاس ہوگیا اور اس میں موجود تمام خامیاں باقی رہیں تو یہ طلاق شدہ مسلم خواتین کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت ثابت ہوگا اور طلاق دینے والے شوہروں کی زندگی جہنم بن جائے گی ۔ اسی لئے اس ناقص مسودہ ٔ قانون کے خلاف مسلم حلقوں میں روز اول سے سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔ خود مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی حکومت کومشورہ دیا ہے کہ وہ طلاق بدعت کو سنگین تعزیری جرم میں بدلنے سے گریز کرے کیونکہ مجوزہ بل مطلقہ خواتین اور ان کے خاندان کے لئے نقصان کا موجب ہوگا اور اس سے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کا دروازہ بھی کھل جائے گا۔ 

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ اپوزیشن پارٹیاں جنہوں نے لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ کو قابل سزا جرم قرار دینے سے متعلق بل کی منظوری کے دوران مخالفت سے گریز کیا تھا اور جو خواتین کی ترقی کے نام پر حکومت کی طرف سے رچائے گئے ڈھونگ پر خاموش تماشائی نظر آئی تھیں، وہ اچانک راجیہ سبھا میں  اس کے خلاف کیوں صف آراء ہوگئیں۔نہ صرف اپوزیشن جماعتیں بلکہ این ڈی اے میں شامل تیلگودیشم پارٹی نے بھی راجیہ سبھا میں اس بل کی مخالفت کرکے حکومت کو آئینہ دکھایا۔ مجموعی طورپر راجیہ سبھا میں 18اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کے خلاف احتجاج درج کرایا اور ایوان میں اس حد تک ہنگامہ ہوا کہ حکومت کے ارادے ناکام ہوگئے۔ ظاہر ہے لوک سبھا میں اس بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی خاموش حمایت نے مسلمانوں میں شدید بے چینی پیدا کردی تھی اور وہ خود کو ٹھگا ہوا محسوس کررہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کا دم بھرنے والی سیکولر جماعتوں کو اس معاملے میں کھری کھوٹی سننی پڑیں۔ یہاں تک کہ مسلمانوں نے اس کا حساب چناؤ کے میدان میں برابر کرنے کی قسمیں کھائیں۔ ان حالات نے اپوزیشن جماعتوں کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کردیا۔ اس دوران مسلم پرسنل لاء بورڈ کے عہدیداران کی طرف سے اپوزیشن لیڈران کو یہ باور کرایا گیا کہ طلاق ثلاثہ کو فوجداری قانون کے تحت قابل سزا جرم قرار دینے کے مسلم معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور جو قانون مسلم خواتین کی ہمدردی کے نام پر بنایاجارہا ہے ،وہ ان کی زندگیوں کو تباہ کردے گا۔ اس معاملے میں عام مسلمانوں نے اپنے سیکولر نمائندوں سے باز پرس بھی کی۔ تاہم حکومت پوری طرح مطمئن تھی کہ اسے لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی اس بل کو منظور کرانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی اور وہ وزیراعظم نریندرمودی کو مسلم خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا چمپئن ثابت کردیں گے۔ حکومت کا یہ بھی خیال تھا کہ اگر اپوزیشن نے اس بل کی مخالفت کی تو وہ اس معاملے میں کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو خواتین کا دشمن اور ان کی ترقی میں رکاوٹ قرار دیں گے۔ یہ کام حکومت نے پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس ختم ہونے کے بعد شروع بھی کردیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس بل کو راجیہ سبھا سے منظور کرانے کے لئے حکومت نے زبردست اسٹیج تیار کیا تھا ۔  جس وقت3جنوری کو یہ بل راجیہ سبھا میں پیش ہوا تو اس وقت راجیہ سبھا کی وزیٹر گیلری میں برقع پوش خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ راقم الحروف نے اپنی 30سالہ پارلیمانی کارروائی کی رپورٹنگ کے دوران پارلیمنٹ میں برقع پوش خواتین کی اتنی بڑی تعداد کا کبھی نظارہ نہیں کیا۔ یہ ایک عجیب وغریب منظر تھا جس کا مقصد اپوزیشن کو یہ باور کرانا تھا کہ دیکھو مسلم خواتین اپنے حق میں بننے والے قانون کا ذاتی مشاہدہ کرنے کے لئے کتنی بے تاب ہیں۔ بعد کو سماجوادی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر نریش اگروال نے کہاکہ حکومت نے برقع پوش خواتین کو ایک منصوبہ بند حکمت عملی کے تحت گیلری میں بٹھایا تھا۔یہ سوال بھی اٹھایاگیا ہے کہ برقع پوش خواتین واقعی مسلمان تھیں یا پھر کثیر تعداد میں بی جے پی کی خاتون کارکنوں کو برقع پہنا کر وہاں بٹھایاگیا تھا۔ 
دلچسپ بات یہ ہے کہ جن ترقی پسند مسلم خواتین نے طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون سازی کی پرزور وکالت کی تھی، ان میں سے بیشتر اب یہ محسوس کررہی ہیں کہ واقعی یہ ایک ناقص قانون ہے کیونکہ اس کے نافذ ہونے کے بعد جب طلاق دینے والا شوہر تین سال کے لئے جیل چلاجائے گا تو طلاق شدہ خاتون اور اس کے بچوں کی گزربسر کیسے ہوگی۔ حکومت مسلم خواتین کی ہمدردی کا ڈھول تو پیٹ رہی ہے لیکن وہ ایسی ستم رسیدہ خواتین اور ان کے بچوں کی گزربسر کے لئے سرکاری سطح پر کوئی فنڈ قائم کرنے کے مطالبے کو مسلسل نظرانداز کررہی ہے۔ اس کا واحد مقصد یہی ہے کہ حکومت مسلم خواتین کی ہمدردی کا ڈھونگ تو رچانا چاہتی ہے مگر وہ اس قانون کے مضمرات پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن نے اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس میں ضروری ترمیمات کے بعد اسے دوبارہ پارلیمنٹ میں پیش کیاجائے۔ لیکن حکومت کی دلیل ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر ایک طے شدہ مدت کے دوران ہی اس قانون کو منظور کرانا چاہتی ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی ترمیم کی روادار نہیں ہے۔ حکومت نے کانگریس پر الزام لگایا ہے کہ اس نے لوک سبھا میں اس بل کی حمایت اور راجیہ سبھا میں مخالفت کرکے دوہرا کردار نبھایا ہے جس سے خواتین کے ساتھ ناانصافی جاری رہے گی اور کانگریس کے اس اقدام سے اس کا خواتین مخالف چہرہ عیاں ہوگیا ہے۔ جبکہ کانگریس کا یہ کہنا ہے کہ بی جے پی خود کو مسلم خواتین کے مسیحا کے طورپر پیش کررہی ہے۔ لیکن درحقیقت وہ اپنے سیاسی فائدے کے لئے انہیں بے وقوف بنارہی ہے۔ 
قابل ذکر بات یہ ہے کہ راجیہ سبھا میں حکومت کو اس لئے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے کہ وہاں اس کے پاس اکثریت نہیں ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ راجیہ سبھا میں اس تیلگودیشم پارٹی نے بھی حکومت کا ساتھ نہیں دیا جو لوک سبھا میں اس کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہوئی تھی۔ راجیہ سبھا میں تیلگودیشم کے 6ارکان کے علیحدہ ہوجانے کے بعد این ڈی اے کے 74ارکان ہی راجیہ سبھا میں باقی بچتے ہیں۔ جبکہ یوپی اے کے 95اور دیگر پارٹیوں کے 63ممبران ہیں۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ راجیہ سبھا کے 150ارکان بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کے حق میں ہیں۔ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس آئندہ 29جنوری کو شروع ہوگا اور حکومت 28فروری سے قبل اس بل کو قانونی شکل دینا چاہتی ہے تاکہ وہ سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی مدت کے اندر طلاق بدعت کو قابل سزا جرم قرار دینے کا قانون بناسکے۔راجیہ سبھا میں اس بل کے موجودہ شکل میں منظور ہونے کے امکانات بہت کم ہیں لہٰذا حکومت اس معاملے میں آرڈیننس جاری کرکے طلاق ثلاثہ کو قابل سزا جرم قرار دینے کے عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتی ہے۔ دراصل حکومت کے لئے یہ معاملہ خواتین کی ہمدردی سے زیادہ سیاسی مقاصد رکھتا ہے۔ وہ مسلم خواتین کی ہمدردی کاڈھونگ رچا کر یہ تاثر قائم کرنا چاہتی ہے کہ مودی سرکار مسلم خواتین کی ہمدرد ہے اور باقی پارٹیاں ان کی دشمن ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ طلاق ثلاثہ کے معاملے کو اتنا بڑا مسئلہ بنانے کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرما ہیں جس کے ذریعے حکومت مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہتی ہے۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے آخری دن اپنی پریس کانفرنس میں پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر اننت کمار نے طلاق ثلاثہ کے مسئلے پر حکومت کا ساتھ دینے کے لئے خاص طورپر میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔ چونکہ میڈیا کی ہنگامہ آرائی کی بدولت ہی طلاق ثلاثہ کے معاملے نے غیر ضروری شہرت حاصل کی۔ کہاجاتا ہے کہ جن خواتین نے طلاق ثلاثہ کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضیاںداخل کی تھیں، انہیں بھی حکمراں جماعت کی درپردہ حمایت حاصل تھی۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ لوک سبھا سے بل منظور ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرنے والی عشرت جہاں نے وزیراعظم نریندرمودی کی مدح سرائی کرتے ہوئے باقاعدہ بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔ عشرت جہاں کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہیں مغربی بنگال کے ایلوبیرا لوک سبھا حلقہ کے ضمنی چناؤ میں مرحوم سلطان احمد کی اہلیہ کے مقابلے میں بی جے پی امیدوار بنایاجائے گا۔ یہ سیٹ سابق مرکزی وزیر سلطان احمد کے انتقال سے خالی ہوئی ہے۔ 

Ads