Jadid Khabar

تین طلاق پر فوجداری قانون بل

Thumb

گزشتہ ہفتہ”تین طلاق پر فوجداری قانون کاجوازنہیں©©“عنوان سے جب یہ کالم لکھا جارہا تھااس وقت تک بل کا مسودہ عام نہیں ہوا تھا۔28دسمبرکو بل لوک سبھا میں پیش ہوا اور آناًفاناً منظور ہوگیا۔ اب جب یہ کالم لکھا جارہا ہے، خبرہے کہ بل آج ہی راجیہ سبھا میں پیش ہوگا۔امکان ہے کہ سلیکٹ کمیٹی کو بھیج دیا جائے۔لوک سبھا میں بل کی مخالفت صرف ایم آئی ایم نے کی۔بعض پارٹیوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ کانگریس نے اگرچہ 3 سال کی سزا پر اعتراض کیا،لیکن بل کے حق میں ووٹ کیا۔یہ اثر ہے اس سیاسی ماحول کا جو ملک میں گزشتہ چند سال میں بنادیاگیاہے۔ ہمیں اپنا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ اس میں ہماری بعض تحریکات کا بھی کچھ حصہ رہایا نہیں؟ حق حاصل کرنے کی کوشش حکمت کے ساتھ ہونی چاہئے یا ہنگامہ کرکے؟مسلم اقلیت سے متعلق قوانین کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے لئے ہمارے دانشوروں،وکیلوں اورملّی قائدین نے پبلک جلسے نہیں کئے بلکہ ارباب حل وعقد سے سلسلہ بات چیت کا قائم کیااور ان کوقائل کرکے قوانین بنوائے ۔ ہماری کوشش اسی نہج پر ہونی چاہئے اورآئندہ شورکم مچایا جائے۔ 
ہندستانی قانون سازی کی تاریخ میںیہ پہلا بل ہے جس کی تیاری میںمتعلقہ فرقہ سے کوئی مشورہ نہیںکیاگیا۔ بل لانے سے پہلے کوئی رسرچ نہیں کرائی گئی ۔یہ بل بالکل اسی اندازمیں لایا گیا جس طرح نوٹ بندی ہوئی ۔ بل مختصر ہے۔باب اول میں2دفعات ہیں جن میں حسب معمول بعض اصطلاحات کی تشریح ہے۔باب 2میں 2 دفعات 3و4ہیں۔ دفعہ 3 میںکہا گیاہے کہ ایک نشست میںاگر تین طلاق باطل اورغیرقانونی ہوگی۔دفعہ 4میںکہا ہے جو شخص اس طرح طلاق دیگا اس کو سزائے قید ہوگی جس کی مدت تین سال تک ہوسکتی ہے اورجرمانہ بھی۔باب3 میں3 دفعات 5،6اور7ہیں۔ دفعہ 5 میں کہا گیا ہے موجودہ قوانین کے علی الرغم جس عورت کو اس طرح طلاق ہوگی وہ اپنے شوہر سے گزارہ پانے کی حقدارہوگی جس کا تعین مجسٹریٹ کریگا۔دفعہ 6میںکہا گیا ہے کہ عورت کو حق ہوگا کہ اپنے نابالغ بچوں کواپنی تحویل میںلے لے۔ دفعہ 7میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ فوجداری 1973کے علی الرغم اس قانون کے تحت قابل سزاجرم قابل دست اندازی پولیس ہوگا۔ گویا متاثرہ خاتون شکایت کرے نہ کرے، اطلاع پاتے ہی پولیس کو دخل دینے (ملزم کو گرفتارکرنے، اس کے خلاف ایف آئی درج کرنے اورمقدمہ دائرکرنے) کا حق ہوگا۔
تجزیہ: سپریم کورٹ 22اگست کے فیصلے میں طلاق بدعت کوپہلے ہی غیرقانونی قراردیا جا چکا ہے۔ دفعہ 3 میں اسی کی تکرار ہے۔عدالت کواورپارلیمنٹ کویہ طے کرنے کا تواختیار ہے کوئی فعل ملکی قوانین اور آئین کے خلاف ہے اس لئے غیرقانونی ہے۔طلاق کے اس طریقے کو بھی غیرقانونی قرار دیاجاسکتا ہے۔لیکن باطل اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک فقہااس کے بطلان کا فیصلہ صادرنہ کردیں اوروہ ہونہیں سکتا۔ تمام فقہااس رائے پر متفق ہیں کہ طلاق توہوجائے گی، چاہے کسی بھی حالت میں، کسی بھی ذریعہ سے اورایک بارکہی جائے یا تین یا زاید بار۔ اختلاف اس امرپر ہے کہ ایک نشست کی تین یازایدطلاق کو ایک مانا جائے، جس میں رجوع کیا جا سکتا ہے یا قطعی جس میں رجوع کی گنجائش نہیں ۔ 
غیرقانونی قراردئے جانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ شوہر پر عورت اوراس کے بچوں کی جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہ برقرار رہیںگی۔ معروف ذمہ داریوںمیںکھانا،کپڑا، علاج معالجہ، رہائش، بچوں کی تعلیم و تربیت ، جان ومال اورعزت وآبرو کی حفاظت سب شامل ہیں۔لیکن وہ شوہر ان ذمہ داریوںکے کیسے اداکریگا جس کو بغیرسماعت جیل بھیج دیا گیا۔ جب کہ قرآن نے طلاق کے باوجود دوران عدت عورت کو اوراس کے بچوں کو گھرسے نکال دینے سے روکاہے اورا ن کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی ہے۔ عدت کے بعد رخصت اس لئے ہے کو وہ آزاد رہے،کسی اورسے نکاح کرنا چاہے تو کرلے، جس کو فضیلت حاصل ہے۔ چنانچہ اہل عرب میںیہی ہوتا ہے۔ایک بیوی کی موجودگی میں دوسری لانے پرقرآن کا حکم ہے کہ دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کرو۔ اس لئے اسلام شوہر کو نہ صرف یہ کہ بیوی کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کی تلقین کرتا ہے بلکہ اس کی عزت نفس کی بھی حفاظت کرتا ہے۔ مجوزہ ایکٹ کی دفعہ 6میں3 طلاق کی صورت میں مروجہ قانون کے تحت جس گزارہ بھتہ کی بات کی گئی ہے، اس میں ایک خاتون اور اس کے نابالغ بچوں کی گزربسراورتعلیم وتربیت تو کیا ہوگی،گھر میں ایک بلی پلی ہوئی ہے تواس کی غذاکی بھی کفالت نہیں ہوگی۔خودسرکار نے ان کے لئے راحت مقرر کرنے کا مطالبہ مستردکردیا اورشوریہ ہے کہ مسلم خواتین کے حقوق کی حفاظت کردی ہے ،ان کو انصاف دلا دیا ہے۔
اس شق پر غورکیا جائے تومزیدپہلو سامنے آتے ہےں۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ طلاق بدعت کو اگرچہ غیر قانونی قراردیا جارہا مگر ساتھ ہی زوجین کے درمیان علیحدگی کی بناڈالی جارہی ہے۔وہ ساتھ رہنا بھی چاہیں تو نہیں رہ سکتے کہ شوہرجیل گیا اورمفاہمت کے دربندہوگئے۔ ہمارے کئی مسالک طلاق ثلاثہ کو ایک مانتے ہیں اور اکثر رجوع بھی ہوجاتا۔ اس قانون کے بعد تو پولیس ان کا مسلک نہیں دیکھے گی ،بس جیل بھیج دے گی۔ 
سزاکا جواز:دفعہ4میںتین ایسے بول بولنے پر جن کا کوئی قانونی اثرنہیں ہوگا، کسی کو کوئی ضرر نہیں پہنچے گا،3 سال کی سزاقطعی غیرواجب اورنامناسب ہے۔ تعزایرات ہند کے تحت 3 سال کی سزانہایت سنگین جرائم میں دی جاتی ہے۔مثلاًملک کے خلاف بغاوت (تعزیرات ہند کی دفعہ 148) ؛ فساد برپا کرنا اور اس میںہلاکت خیز اسلحہ کا استعمال کرنا(دفعہ 148)؛ جعلی کرنسی بنانے کے آلات اور مشینوں کی خرید فروخت (233)؛ جعلی کرنسی کی امپورٹ ، ایکسپورٹ، خرید فروخت (237)؛ کسی مذیب ، مذہبی شخصیت یااعتقادات کے خلاف توہین آمیز باتیںکہناوغیرہ ،وہ جرائم ہیں جن پر ٹھیک وہی سزا مقرر ہے جو تین طلاق میںمجوزہ قانون نے تجویز کی ہے۔اوربھی کئی سنگین جرائم ہیں جن پر اس سے بھی کم سزاہے۔ مثلا دفعہ 304-A ،جس کے تحت لاپرواہی، جلد بازی یا غیرضروری زور آزمائی کی ایسی حرکت جس سے موت ہوجائے؛دفعہ 147فساد برپا کرنا یا اس میں حصہ لینا۔ ان جرائم پر صرف دوسال کی قید اورجرمانہ ہے۔ جب کہ دفعہ153،فرقہ ورانہ اشتعال انگیزی اور دفعہ 144،دھوکہ دہی جیسے جرائم کےلئے صرف ایک سال کی سزا اورجرمانہ ہے۔جیسا کہ گزشتہ ہفتہ عرض کیاتھا کہ سزا کی مدت جرم کے ہم پلہ دیگرجرائم کو پیش نظررکھ کر مقرر کی جاتی ہے۔ زیرتبصرہ بل میں یہ تعین کسی معقولیت کی بنیاد پر نہیں مسلم فرقہ سے مخاصمت کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ ہمیں کوئی شک نہیں کہ جو انتظامیہ اور سرکاراقلیت کے بارے میں غیرمنصفانہ روش میںجری ہے وہ اس ایکٹ کے تحت کاروائی میں کسی سمائی یا رواداری سے کام نہیںلیگی۔ اسی انتظامیہ کے تحت ہزاروں نوجوانوں کوبغیر کسی ثبوت کے دہشت گردی کے الزامات میں جیلوں میںبند کردیا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں لپ مسلم اقلیت کے ذہنوں میں خوف پیداکرنے کےلئے جو تدابیر دہائیوں سے کی جارہی ہیں، یہ ایکٹ بھی اسی کا ایک حصہ ہے۔ ورنہ اگرخواتین کو انصاف دلانے کی فکرمندی ہے توایسا نہیں کہ دیگرطبقوں کی خواتین مسلم خواتین کے مقابلے میں آرام سے ہیں۔ 
جرم اورسزا: مسلمانان ہند کاعام طورسے اس رائے پرمتفق ہیں کہ طلاق بدعت کا طریقہ سخت ناپسندیدہ ہے۔ رکنا چاہئے۔لیکن اس کےلئے قانون کی نہیں، معاشرے میں اصلاح اور بیداری کی ضرورت ہے۔ملت میں اس کےلئے فکرمندی پائی جاتی ہے اوراپنی سطح پر کچھ کوششیں ہوبھی رہی ہیں۔ لیکن یہ توقع فضول ہے کہ سپریم کورٹ کافیصلہ آتے ہی طلاق بدعت کو رک کوجانا چاہئے تھا یا یہ قانون بن گیا تو رک جائیگی۔ چوری ڈکیٹی، لوٹ مار اور قتل جیسے سنگین جرائم پر صدیوںسے سزائے موت کا قانون نافذ ہے، مگریہ جرائم بڑھتے ہی جاتے ہیں۔ اسی طرح عصمت دری کا معاملہ ہے۔ نربھیا کیس کے بعد سزاسخت کردی گئی ۔مگرپچھلے 3 سال میں اس میں 12.4 فیصد کااضافہ ہوا۔ سرکاری اعداد وشمارکے مطابق 2015میں عصمت دری کے 34,651 کیس ہوئے تھے جو 2016 میں بڑھ کر38,947 ہوگئے۔جبکہ تین طلاق کے کیس وزیرقانون کے مطابق ملک بھرمیں چارماہ میںصرف ایک سوریکارڈ کئے گئے۔
ہم اپنی ملت کے نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہیں کو ہرحال میں قانون کالحاظ رکھیں۔ لیکن مشکل یہ ہے ملک کا مجموعی ماحول ایسا بنادیا گیا ہے جس میں قانون کا احترام جاتا رہا۔ لاقانونیت عام ہوگئی حد تو یہ ہے قاتلوں کو عزت کا مقام دیاجارہاہے۔ بابائے قوم کے قاتل کےلئے مندر اورافرازل کے قاتل کے حق میں عدالت پر بھگواپھہرایا جارہا ہے۔ اس کےلئے چندہ کیا جارہا ہے۔ بیف کے نام پر گھر سے نکال کرہلاک کردیا جاتا ہے اورسرکارجرم میںملوث افراد کو منصب دے رہی ہے۔ آخر مسلمان بھی اسی معاشرے میں رہتے ہیں جس میں ان برادران وطن قانون کی دھجیاں اڑاتے اورچوڑا سینہ کرکے وزیربن جاتے ہیں۔ان کے مزاج میں قانون کا صدفیصد احترام کیسے ہو؟
مسلم اورغیرمسلم خواتین:تین طلاق کیس کے ضمن میں بدنیتی پر محمول جو شاطرانہ مہم چلائی گئی اس سے تاثرپیدا ہوتا ہے کہ خواتین میں مسلم خواتین ہی سب سے زیادہ مظلوم ہیں۔ 2011کی مردم شماری کا تجزیہ اس کی نفی کرتا ہے۔ مثلا بتایا گیا ہے کہ اسلام میں طلاق آسان ہونے کے باوجوشادی ان میں سب سے کم ٹوٹتی ہے۔ ڈاکٹرابوصالح شریف کی تحقیق کے مطابق بیوہ اوربناطلاق چھوڑی گئی غیرمسلم خواتین کا تناسب مسلم خواتین کے مقابلے زیادہ ہے۔ اس وقت ایسی بے سہاراہندوخواتین کی تعداد 23لاکھ سے زیادہ ہے، جب کہ مسلم خواتین کی تعداد صرف 2لاکھ80 ہزارکے قریب ہے۔ہم مسٹراسدالدین اویسی کی اس تجویزکی تائید کرتے ہیں کہ ہندو، مسلم کی فرقہ ورانہ تفریق کے بغیر سرکار ایسا قانون بنائے جس سے تمام بے سہاراخواتین کی دست گیری ہو۔ ایسی خواتین کی تعداد اچھی خاصی ہے جن کو بغیرطلاق کے چھوڑدیا گیا ہے۔ان کی فکربھی ہونی چاہئے۔ان میں مسلم خواتین کا تناسب سب سے کم ہے۔وہ خاندانوں سے نکال نہیں دی گئی ہیں۔ جبکہ ہندوخواتین برنداون، متھرا، وارانسی اور ہری دواروغیرہ میں بے بسی کی زندگی جی رہی ہیں۔
syyedagha8@gmail.com
981867867

 

 

Ads