Jadid Khabar

نیتن پٹیل کے سامنے مودی-شاہ کا سر نگوں

Thumb

گجرات الیکشن کے نتائج کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ نتائج سے اندازہ ہوگیا کہ مودی جی اور ان کی پارٹی پہلے جیسی نہیں رہی۔ جہاں کانگریس کی سیٹیں سابقہ الیکشن کے مقابلے میں 61سے بڑھ کر 80ہوگئیں یعنی 19سیٹوں کا اضافہ ہوا وہیں بی جے پی 115کے بجائے 99سیٹوں پر سمٹ گئی۔ پندرہ سے سولہ حلقوں میں کانگریس کی بہت کم ووٹوں سے ہار ہوئی۔ احمد آباد، بڑودا اور سورت میں کانگریس کو امید سے بہت کم ووٹ ملے۔ اگر ان شہروں میں کانگریس چند سیٹوں میں اضافہ کرپاتی تو آج گجرات میں کانگریس کی حکومت ہوتی۔ ووٹ فیصد میں کانگریس اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔ سب سے اہم بات یہ ہوئی کہ حکومت بنانے کیلئے 92سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بی جے پی کے پاس 7سیٹیں 92سے زیادہ ہیں یعنی اتنی کم ہیں کہ اگر دس گیارہ ممبران اسمبلی بی جے پی سے الگ ہوتے ہیں تو بی جے پی کی حکومت گرسکتی ہے۔ اب خطرہ بی جے پی کے سر پر ہر وقت منڈلاتا رہے گا۔ 
نیتن پٹیل پاٹیدار کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ سابقہ حکومت میں وہ وزیر خزانہ تھے، ان کو جب اس عہدہ سے محروم کر دیا گیا تو نائب وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود وزارت جوائن کرنے سے انکار کردیا اور ان کا مطالبہ ہوا کہ اگر ان کو سابقہ وزارتیں بشمول وزارتِ خزانہ نہیں دی جاتی ہیں تو وہ پارٹی چھوڑ سکتے ہیں۔ کانگریس اور ہاردک پٹیل نے کوششیں شروع کردیں کہ نیتن پٹیل بی جے پی چھوڑ کر دس ایم ایل اے کے ساتھ کانگریس میں شامل ہوجاتے ہیں تو اس کا اچھا عہدہ سونپا جائے گا۔ کانگریس کے ایک ایم ایل اے نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر وہ بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوگئے تو انھیں وزیر اعلیٰ کی کرسی پیش کردی جائے گی۔ نیتن پٹیل کے اسمبلی حلقہ کے لوگوں میں بھی بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔ ایسا اندازہ ہو رہا تھا کہ نیتن پٹیل اپنے سمان کیلئے آخری وقت تک جنگ لڑیں گے۔ یہ چیز جب بی جے پی کے مودی-شاہ کو اچھی طرح معلوم ہوگئی تو دونوں کو فیصلہ کرنا پڑا کہ نیتن پٹیل کو ان کی سابقہ وزارت دے دی جائے۔ آخر کار امیت شاہ کو نیتن پٹیل کو منانے کیلئے احمد آباد جانا پڑا اور نیتن پٹیل کو ان کا مطالبہ جھک کر پورا کرنا پڑا۔ اگر یہ بات نیتن پٹیل 2012ءمیں کرتے یا الیکشن سے پہلے کرتے تو ان کو پارٹی سے ہٹا دیا جاتا مگر اب بی جے پی بھی کمزور ہوچکی ہے اور مودی-شاہ میں بھی وہ دم نہیں رہا کہ جو چاہیں کرلیں۔ خاموشی سے پارٹی کے وہ لوگ جن کی جڑیں عوام میں مضبوط ہیں آسانی سے تسلیم کرلیں گے۔ اب معاملہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ ہندستان کیلئے اور بھاجپا کیلئے یہ ایک اچھا پیغام ہے کیونکہ بھاجپا میں مودی- شاہ کے علاوہ سب کی زبانیں گنگ ہوچکی تھیں۔ کچھ دنوں پہلے یشونت سنہا نے بولنا شروع کیا۔ اس سے پہلے جن لوگوں نے بھی چوں چرا کیا ان کو حاشیہ پر کر دیا گیا۔ ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی جیسے لوگ بھی حاشیہ پر کردیئے گئے۔ 
2018ءمیں ہندستان کی چار پانچ ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ امید ہے کہ ان ریاستوں میں نتائج کانگریس کے حق میں ہوں گے۔ اس کے بعد ہی بی جے پی اور نریندر مودی کا گراف گرتا چلا جائے گا۔ 2019ءمیں کانگریس اور بی جے پی یا راہل اور مودی کا مقابلہ کا ہوگا۔ عوام مودی کے پانچ سالہ کاموں کا حساب لیں گے پھر وہ نہ یہ کہہ سکیں گے کہ ہر ایک کے بینک اکاو¿نٹ میں 15 لاکھ روپئے چلا جائے گا۔ نہ روزگار دینے کی بات دہرائیں گے اور نہ مہنگائی کم کرنے کی بات ان کے منہ سے اچھی معلوم ہوگی اورنہ کرپشن ختم کرنے اور کالا دھن لانے کانعرہ بلند کریں گے۔’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کا نعرہ بھی پھیکا پڑجائے گا، یقینا مودی سمسان گھاٹ اور قبرستان کی بات کریں گے۔ رام مندر کے نرمان کا نعرہ دہرائیں گے۔ مگر یہ سب اس وقت تک عوام کی سمجھ میں آجائے گا کہ اس سے نہ مہنگائی کم ہوگی اور نہ بھوکوں کا پیٹ بھرے گا اورنہ ملک کی ترقی ہوگی۔ امید یہی کرنی چاہئے کہ انڈیا شائننگ کی طرح مودی شائننگ کا زمانہ باقی نہیں رہے گا۔

Ads