Jadid Khabar

قصہ ایک نومسلم دوشیزہ کا

Thumb

کیرل کی ایک نومسلم دوشیزہ نے اپنے اسلام قبول کرنے اور اس پر ہمیشہ کاربند رہنے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جو کچھ کہاہے، وہ ان مسلمانوں کے لئے ایک نظیر ہے جو اسلام کا پیدائشی پیروکار ہونے کے باوجود اللہ کی ذات پر بھروسہ نہیں رکھتے اور دنیاوی دباؤ اور لالچ میں اپنے ایمان کا سودا کرتے پھرتے ہیں۔ 24سالہ ہادیہ(سابق نام اکھلا اشوکن) نے اپنی مرضی سے ہندودھرم چھوڑ کر اسلام کے دامن میں پناہ لی اور پھر ایک مسلم نوجوان کو اپنا’ جیون ساتھی‘ بنالیا۔ یوں تو اس ملک میں اس قسم کے واقعات ہرروز پیش آتے رہتے ہیں لیکن ہادیہ کے قبول اسلام کو فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں نے اتنا بڑا مسئلہ بنادیا کہ یہ ملک کی سب سے بڑی عدالت تک پہنچ گیا۔جنوبی ہند میں کیرل سوفیصد تعلیم یافتہ آبادی پر مشتمل ریاست ہے اور یہاں ابھی تک فرقہ پرست طاقتوںکو اپنے قدم جمانے کا موقع نہیں ملاہے۔اس قسم کی ہنگامہ آرائی اگر شمالی ہند کے کسی علاقے میں ہوتی تو اب تک فساد برپا ہوگیاہوتا۔ 

اس معاملے میں فرقہ پرست عناصر کی ذہنی پراگندگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ہادیہ کے والدین کو یہ اپیل لے کر کیرل ہائی کورٹ تک پہنچادیا کہ ان کی بیٹی کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لئے  زبردستی اسلام قبول کرایاگیا ہے اور اسے عالمی سطح پر سرگرم خطرناک دہشت گرد تنظیم ’داعش‘ سے وابستہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ظاہر ہے یہ سب باتیں اتنی سنسنی خیز اور پریشان کن تھیں کہ کیرل ہائی کورٹ نے ہادیہ کے نکاح کو رد کرکے اسے والدین کی تحویل میں دے دیااور اس معاملے کی جانچ قومی تحقیقاتی ایجنسی کے حوالے کردی۔ حالانکہ ہادیہ اس وقت بھی اپنے شوہر کے ساتھ جانا چاہتی تھی لیکن وہ عدالتی حکم کے سامنے بے بس ہوگئی۔ فرقہ پرستوں کو پوری امید تھی کہ وہ ہادیہ کو ’راہ راست‘ پر لے آئیں گے اور اس معاملے میں اسلام پسندوں کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ لیکن قربان جائیے ہادیہ کے مضبوط عقیدے پر کہ وہ آٹھ مہینے تک اپنے والد کی جبریہ تحویل اور فرقہ پرستوں کی زبردست کوششوں کے باوجود اسلام سے منحرف نہیں ہوئی اور اس نے سپریم کورٹ میں صاف صاف کہہ دیا کہ کسی دباؤ کے بغیر اس نے اسلام قبول کیا ہے اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوشگوار زندگی گزارنا چاہتی ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہادیہ اپنی تعلیم کے دوران اسلام کی طرف راغب ہوئی تھی۔ ہاسٹل میں اپنے ساتھ رہنے والی مسلمان لڑکی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر ہادیہ حدرجہ متاثر ہوئی۔ 
 واضح رہے کہ کیرل ہائی کورٹ کی طرف سے اپنے نکاح کو رد کئے جانے کے بعد ہادیہ کے شوہر شیفن جہاں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا اور اپنی منکوحہ کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ ہادیہ کے شوہر کے وکیل کپل سبل نے زور دیا کہ یہ معاملہ چونکہ ایک بالغ لڑکے کی مرضی سے شادی کا ہے لہٰذا عدالت اس کے شہری حقوق کو ترجیح دے۔ اس کے بعد تقریباً 25منٹ تک چیف جسٹس آف انڈیا نے ہادیہ سے جو کچھ پوچھا اس کا جواب ہادیہ نے بڑے اطمینان اور خود اعتمادی کے ساتھ دیا ۔ ہادیہ نے کہاکہ ’’مجھے آزادی اور رہائی چاہئے چونکہ میں آٹھ مہینے سے والد کی ناجائز حراست میں ہوں۔ آزادی چاہتی ہوں اور اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔ جب چیف جسٹس نے ہادیہ سے تبدیلی مذہب کے تعلق سے یہ پوچھا کہ کسی نے کسی بھی طرح کا دباؤ ڈالا تو اس نے کہاکہ’’ میں مسلمان ہوں اور مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ ‘‘ ہادیہ نے اپنے شوہر کی سرپرستی میں رہنے اور اسے اپنا گارجین بنانے کی اپیل کی تھی جسے عدالت نے قبول نہیںکیااور ہادیہ کو کیرل کے ایک ہیومیوپیتھک کالج میں اپنی انٹرن شپ کرنے اور وہیں ہاسٹل میں رہنے کی اجازت دے دی اور کالج کے ڈین کو ہادیہ کا مقامی گارجین مقرر کردیا۔ اس طرح ہادیہ اپنے والد کی جبریہ تحویل سے آزاد ہوگئی۔ اس مقدمے کی آئندہ سماعت جنوری کے تیسرے ہفتے میں ہوگی۔ 
ہادیہ کے قبول اسلام اور شیفن جہاں سے اس کی شادی کے معاملے کو نام نہاد ’لوجہاد‘ سے جوڑنے کے پیچھے ایک پوری سیاسی سازش کارفرما ہے۔ کیرل ہائی کورٹ نے جن دلائل کی بنیاد پر ہادیہ کے نکاح کو رد کیا تھا وہ انتہائی خطرناک اور دستور سے متصادم تھے۔ ہندوستانی قانون کسی بھی مذہب، ذات پات اور فرقے کے دوبالغ نوجوانوں کو اپنی مرضی سے شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ملک میں اب تک اس قسم کی لاتعداد شادیاں ہوچکی ہیں لیکن بی جے پی کے مرکز میں برسراقتدار آنے کے بعد نام نہاد ’لوجہاد‘ کی ایک اصطلاح گڑھی گئی جس کے تحت مسلم نوجوانوں کی ہندو لڑکیوں سے شادیوں کو ایک انتہائی خطرناک رخ دے کر منافرت پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ مسلم نوجوان ہندو لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھانس کر انہیں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ یہ پروپیگنڈہ ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے۔ کیرل میں ہادیہ کے معاملے کو طول دینے کا ایک اور سبب بھی ہے۔ کیرل ملک کی اکلوتی ریاست ہے جہاں فرقہ پرست اور فسطائی تنظیموں کو اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود قدم جمانے کا موقع نہیںملاہے۔ وہ بہت دن سے اس موقع کی تلاش میں ہیں کہ کس طرح یہاں بھی فرقہ وارانہ منافرت پھیلاکر اپنے قدم جمالیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کو نہ صرف ’لوجہاد‘ کہاگیا بلکہ یہاں تک پروپیگنڈہ ہوا کہ ہادیہ کے شوہر کا تعلق انتہا پسندوں سے ہے اور وہ اسے اپنی محبت کے جال میں گرفتار کرکے بین الاقوامی سطح پر سرگرم دہشت گردوں کے حوالے کرنا چاہتا تھا۔ اسی پروپیگنڈے کے زیر اثر این آئی اے نے اپنی رپورٹ تیار کی اور سپریم کورٹ میں بھی جو کچھ کہا وہ فرقہ وارانہ طاقتوں کے موقف کی تائید تھی۔ این آئی اے کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل منندر سنگھ نے کہاکہ ’’یہ محض ایک مقدمہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک پوری منظم سازش ہے اور یہ سب ایک خاص پروگرام کے تحت ہورہا ہے۔ ہادیہ کا ’برین واش‘ کیاگیا ہے ۔ اس کو ذہنی طورپر یرغمال بنایاگیا ہے۔ لہٰذا کاؤنسلنگ کے بعد اس کا بیان لیا جائے۔ یہ معاملہ میاں بیوی کا نہیں بلکہ تبدیلی مذہب کا ہے۔ ‘‘ جہاں تک کاؤنسلنگ کا سوال ہے تو ہادیہ پچھلے آٹھ ماہ سے اپنے والد کی تحویل میں تھی جو اسے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اسلام سے منحرف نہیں کرسکے اور نہ ہی اس کے دل سے اپنے شوہر کی محبت ختم کرسکے۔ پھر کون سی کاؤنسلنگ اسے اپنے موقف سے ہٹا سکتی ہے۔ ظاہر ہے اس کے بعد تو این آئی اے کے پاس تھرڈ ڈگری ٹارچر کاطریقہ ہی باقی رہ جاتا ہے لیکن ہادیہ پر یہ طریقہ بھی کارگر نہیںہوگا کیونکہ اسے ہدایت مل چکی ہے۔ 

Ads