Jadid Khabar

طلاق ثلاثہ مخالف قانون پرکابینہ کی مہر

Thumb

مرکزی کابینہ نے اس مجوزہ قانون کے مسودے کو آخر کار منظوری دے دی ہے جس کے تحت ایک بار میں تین طلاق (طلاق بدعت) کو غیر قانونی اور قابل سزا جرم قرار دیاجائے گا۔ طلاق ثلاثہ کے خلاف مجوزہ بل کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے ہی دن کابینہ نے منظور کیا ہے تاکہ حکومت اپنے اعلان کے مطابق رواں اجلاس میں تین طلاق دینے والے شوہر کو تین سال کی سزا دینے کا قانون پاس کراسکے۔ اس قانون کو مسلم خاتون (نکاح کے حق کا تحفظ) بل کا نام دیاگیا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اسی سال اگست میں ایک ساتھ تین طلاق کے طریقے کو غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار دے کر حکومت کو قانون سازی کی تجویزپیش کی تھی۔ حکومت نے گزشتہ دنوں مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں کابینی وزیروں کی ایک کمیٹی تشکیل دے کر ایک مسودہ قانون پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔حکومت کا کہنا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے قانون سازی کرے گی کیونکہ طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دیئے جانے کے بعد بھی اس کا تکلیف دہ سلسلہ جاری ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت نے اس بل کو انسانیت اور انسانی حقوق سے وابستہ قرار دیتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں سے اسے منظور کرانے میں تعاون کی اپیل کی ہے۔ مرکزی وزیر نتن گڈگری کا کہنا ہے کہ’’ حکومت مسلم خواتین کو ان کا حق دلانا چاہتی ہے۔ یہ سیاست نہیں بلکہ انسانیت اور انسانی حقوق سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔‘‘ ایک دیگرمرکزی وزیر گری راج سنگھ کا کہنا ہے کہ’’ شادی کے بعد زبانی طورپر تین طلاق کہہ کر بیوی کو چھوڑ دینا قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے۔ اس لئے سخت سے سخت سزا ہونی چاہئے۔ ‘‘

مرکزی کابینہ نے طلاق ثلاثہ کو ختم کرنے کے لئے جس مسودہ قانون کو منظور دی ہے اس کی بہت زیادہ تفصیل دستیاب نہیں ہے اور یہ اسی وقت سامنے آئے گی جب مذکورہ بل باقاعدہ پارلیمنٹ میں پیش ہوگا۔ لیکن مرکزی کابینہ کے دووزیروں نتن گڈگری اور گری راج سنگھ نے اس قسم کی قانون سازی کے جو مقاصد بیان کئے ہیں، ان میں اس مسئلے کو انسانی حقوق سے جوڑتے ہوئے اسے قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم قرار دیاگیا ہے۔ ظاہر ہے ہمارے ملک میں قتل کی سزا پھانسی یا سزائے موت ہے۔ اگر ان وزیروں کا بس چلا تو وہ پارلیمنٹ میں اس مجوزہ قانون کے اندر طلاق دینے والوں کے لئے پھانسی کی سزا بھی تجویز کرسکتے ہیں۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ طلاق ثلاثہ کا تعلق مسلمانوں کے عائلی قوانین سے ہے اور یہ عرصہ دراز سے رواج میں ہے۔ حالانکہ اسلامی ملکوں میں تین طلاق کو ختم کیاجاچکا ہے اور خود ہندوستان میں مسلم پرسنل لاء بورڈ طلاق ثلاثہ کا ارتکاب کرنے والوں کا سماجی بائیکاٹ کرنے اور اس چلن کی حوصلہ شکنی کی بات کہہ چکا ہے۔ اس کے باوجود حکومت سماجی اصلاح کے نام پر مسلمانوں پر ایک ایسی تلوار لٹکانا چاہتی ہے جس کی زد میں وہ خود کو ہمیشہ عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا رہیں۔ ظاہر ہے کسی بھی معاشرے میں اصلاحات کا سب سے مؤثر اور بہتر طریقہ یہی ہے کہ اصلاح کا عمل خود اس معاشرے کے اندر سے شروع ہو۔ جب جب بھی کسی سماج پر غلط مقاصد کے تحت اوپر سے اصلاحات تھوپی گئی ہیںتب تب اس معاشرے میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہوا ہے۔ ہندوستانی مسلمان اس وقت اسی کرب اور بے چینی کی کیفیت سے گزررہے ہیں چونکہ اس معاملے میں حکومت کی نیت صاف نہیںہے۔ اسی لئے  مرکزی حکومت نے مسلم خواتین کی جھوٹی ہمدردی کے نام پر طلاق ثلاثہ کو ختم کرنے کا جو بیڑہ اٹھایا ہے، اس پر تمام قسم کے اندیشے ظاہر کئے گئے ہیں۔ دراصل موجودہ سرکا رمسلم پرسنل لاء کو ختم کرکے ملک میں یکساں سول کوڈنافذ کرنا چاہتی ہے اور اس کام کے لئے اس نے لاء کمیشن کو پہلے ہی متحرک کررکھا ہے۔ حالانکہ نتن گڈگری نے اپنے بیان میں یہ ضرور کہاہے کہ ’’حکومت مسلم خواتین کو ان کا حق دلانا چاہتی ہے۔ یہ سیاست نہیں بلکہ انسانیت اور انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔‘‘ لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو طلاق ثلاثہ کے خلاف مودی سرکار کی محاذ آرائی صرف اور صرف سیاسی مقاصد کے ذیل میں ہی آتی ہے۔ مودی سرکار اور میڈیا نے طلاق ثلاثہ کے خلاف جو ہنگامہ برپا کیا ہے، اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ مسلمان اپنی عورتوںکو طلاق کے سوا کچھ نہیں دیتے اور مسلم معاشرے میں عورتوں کو بنیادی حقوق بھی حاصل نہیں ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے اندر مسلم خواتین کو جو تحفظ حاصل ہے، وہ کسی دوسرے معاشرے میں حاصل نہیں ہے۔ 
ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی طلاق ثلاثہ ہی اس ملک کو درپیش ایسا سنگین مسئلہ ہے جس پر فوری قانون سازی کی ضرورت پیش آگئی ہے یا اس کے علاوہ بھی اس ملک میں ایسے مسائل ہیں جن کے ازالے کی اشد ضرورت ہے۔ مسلمانوں سے ہمدردی کے نقطہ نظر سے دیکھاجائے تو اس وقت ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ جان ومال کے تحفظ کا ہے کیونکہ بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد پورے ملک میں نام نہاد گئو رکشکوں کا راج ہے جو گائے کے تحفظ کے نام پر قتل وغارت گری کا بازار گرم کئے ہوئے ہیںاور مسلمان عدم تحفظ کے احساس میں جی رہے ہیں۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود صوبائی حکومتیں گئو رکشکوں کو قابو میں کرنے میں ناکام ہیں۔ اگردیکھا جائے تو ملک میں فوری طورپر ہجومی تشدد کے خلاف ایک ایسے سخت اور مؤثر قانون کی ضرورت ہے جس کے ذریعے نام نہاد گئو رکشکوں کو کنٹرول کیاجاسکے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اس طرف مسلسل حکومت کی توجہ مبذول کرارہے ہیں لیکن ابھی تک اس راہ میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایاگیا ہے۔ عوام کے جان ومال کو تحفظ فراہم کرنا طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون بنانے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ جو حکومت اپنے تمام تر دعوؤں کے باوجود اقلیتی طبقہ کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے، اسے اس طبقے کی عورتوں سے اتنی ہمدردی کیوںہے۔ ظاہر ہے اس ہمدردی کی سیاسی وجوہات ہیں اوراس کے ذریعے ملک کے سادہ لوح عوام کی آنکھوںمیں دھول جھونکنا مقصود ہے۔ اس ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں فرقہ پرست ذہنوں کو مطمئن کرنے اور انہیں ووٹ بینک کے طورپر برقرار رکھنے کے لئے مسلمانوں کونقصان پہنچاناضروری خیال کیا جاتا ہے۔ عوام کے ذہن اس حد تک مسموم کردیئے گئے ہیں کہ وہ دوسرو ں کی موت میں اپنی زندگی تلاش کرتے ہیں جبکہ یہ کائنات بقائے باہم کے اصول پر قائم ہے اور یہی زندہ رہنے کا سب سے بڑا راز ہے۔ کہاجارہا ہے کہ حکومت کو طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون سازی کی فوری ضرورت اس لئے محسوس ہورہی ہے کیونکہ سپریم کورٹ کی طرف سے اسے غیر قانونی قرار دینے کے باوجود زمینی سطح پر تین طلاق کا چلن جاری ہے۔ لہٰذا اس سلسلے کو روکنے کے لئے حکومت طلاق ثلاثہ کو باقاعدہ ایک جرم کی شکل دینا چاہتی ہے تاکہ اس کاارتکاب کرنے والوں کو قرارواقعی سزا ملے اورپھر کوئی اس کی جرأت نہ کرسکے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تین طلاق کو جرم قرار دینے سے جو معاشرتی مسائل جنم لیں گے اس کے ازالے کی کیا صورت ہوگی۔ اسی لئے طلاق ثلاثہ کو قابل سزا جرم قرار دینے کے سلسلے میں پارلیمنٹ سے جو قانون بنایا جائے گا اس پر صرف مسلم حلقوں میں ہی تشویش کا اظہار نہیں کیاجارہا ہے بلکہ دوراندیش سیاسی مبصرین بھی اس معاملے میں فکر مند نظرآتے ہیں۔ مثال کے طورپر ہندی کے سینئر صحافی ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک نے سوال اٹھایا ہے کہ ’’کیا لوگ سزا کے خوف سے تین طلاق دینے سے باز آجائیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا خانگی تنازعات کو فوجداری قانون کے تحت رکھنا درست ہے؟ اگر تین بار طلاق بولنے والے شوہرکوسزا ہوجائے تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ بیوی تو گھر میں رہے گی اور میاں جیل میں۔ اس لئے بہتر یہ ہوگا کہ اس قانون کو فوجداری نہیں بلکہ دیوانی قانون کے دائرے میں لایاجائے۔ اس معاملے میں مالی جرمانہ کردینا ہی کافی ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات کو بات چیت اور ٹھنڈے دماغ سے حل کرنے پر زور دیاجانا چاہئے۔‘‘

Ads