Jadid Khabar

تین طلاق کے خلاف قانون سازی

Thumb

طلاق ثلاثہ کو سپریم کورٹ کی طرف سے غیر قانونی قرار دینے کے بعد یہ امید بندھی تھی کہ یہ بحث اب ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی ہے کیونکہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسلم خواتین کی نجات کا ذریعہ سمجھاگیا تھا اور اس فیصلے پر مختلف حلقوں میں جشن منائے گئے تھے۔ لیکن اب حکومت نے باضابطہ قانون سازی کا اعلان کرکے تین طلاق کے پٹارے کو دوبارہ کھول دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹی وی چینلوں اور اخبارات میں ایک بار پھر تین طلاق کا موضوع چھاگیاہے۔ وہ تمام مباحث دوبارہ شروع ہوگئے ہیں جن کا مقصد مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہے۔ انہیں خواتین کا دشمن اور غیر مہذب قرار دے کرمعاشرے کے لئے مضر ٹھہرانا ہے۔یہ سب کچھ ایک ایسے موقع پر ہورہا ہے جب گجرات میں اسمبلی انتخابات کی گہماگہمی ہے اور بی جے پی فرقہ وارانہ موضوعات کو ہوا دے کر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ بی جے پی نے اترپردیش اسمبلی انتخابات کے دوران طلاق ثلاثہ کو ایک انتخابی موضوع میں تبدیل کردیا تھا اور اس مسئلے پر ٹی وی چینلوں پر ایسا شور برپا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ وزیراعظم نریندرمودی سمیت بی جے پی کے کئی لیڈروں نے اپنی انتخابی ریلیوں میں مسلم خواتین کے ساتھ ہونے والی’ ناانصافی‘ کا ازالہ کرنے اور انہیں طلاق کی تلوار سے محفوظ رکھنے کی بات کہی تھی۔ اترپردیش اسمبلی کے انتخابات میں کامیابی کے بعد بی جے پی لیڈروں نے خم ٹھونک کر کہا تھا کہ طلاق ثلاثہ کی مخالفت کرنے کے سبب مسلم خواتین نے بی جے پی کی جھولی ووٹوں سے بھردی ہے اور اسی بنا پر بی جے پی کو اتنی بڑی کامیابی نصیب ہوئی ہے۔ 

سپریم کورٹ نے گزشتہ 22اگست کو اپنے فیصلے میں طلاق ثلاثہ کو غیرقانونی اور غیردستوری قرار دیتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس معاملے میں قانون سازی کرے ۔ لہٰذا اب مودی سرکار نے اس سلسلے میں پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں ایک مسودہ قانون پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کام کو حتمی شکل دینے کے لئے مرکزی کابینہ کے سرکردہ وزیروں پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دیا جاچکا ہے جس نے اپنا کام شروع کردیا ہے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ تین طلاق دینے والوں کے لئے کیا سزائیں تجویز کی جائیں گی اور ان خواتین کا کیا ہوگا جن کے شوہر جیل کی ہوا کھائیں گے، اہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی طلاق ثلاثہ ہی اس ملک کو درپیش ایسا سنگین مسئلہ ہے جس پر فوری قانون سازی کی ضرورت پیش آگئی ہے یا اس کے علاوہ بھی اس ملک میں ایسے مسائل ہیں جن کے ازالے کی اشد ضرورت ہے۔ مسلمانوں سے ہمدردی کے نقطہ نظر سے دیکھاجائے تو اس وقت ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ جان ومال کے تحفظ کا ہے کیونکہ بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد پورے ملک میں نام نہاد گئو رکشکوں کا راج ہے جو گائے کے تحفظ کے نام پر قتل وغارت گری کا بازار گرم کئے ہوئے ہیںاور مسلمان عدم تحفظ کے احساس میں جی رہے ہیں۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود صوبائی حکومتیں گئو رکشکوں کو قابو میں کرنے میں ناکام ہیں۔ اگردیکھا جائے تو ملک میں فوری طورپر ہجومی تشدد کے خلاف ایک ایسے سخت اور مؤثر قانون کی ضرورت ہے جس کے ذریعے نام نہاد گئو رکشکوں کو کنٹرول کیاجاسکے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اس طرف مسلسل حکومت کی توجہ مبذول کرارہے ہیں لیکن ابھی تک اس راہ میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایاگیا ہے۔ عوام کے جان ومال کو تحفظ فراہم کرنا طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون بنانے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
 بنیادی سوال یہ ہے کہ جو حکومت اپنے تمام تر دعوؤں کے باوجود اقلیتی طبقہ کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے، اسے اس طبقے کی عورتوں سے اتنی ہمدردی کیوںہے۔ ظاہر ہے اس ہمدردی کی سیاسی وجوہات ہیں اوراس کے ذریعے ملک کے سادہ لوح عوام کی آنکھوںمیں دھول جھونکنا مقصود ہے۔ اس ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں فرقہ پرست ذہنوں کو مطمئن کرنے اور انہیں ووٹ بینک کے طورپر برقرار رکھنے کے لئے مسلمانوں کونقصان پہنچاناضروری خیال کیا جاتا ہے۔ عوام کے ذہن اس حد تک مسموم کردیئے گئے ہیں کہ وہ دوسرو ں کی موت میں اپنی زندگی تلاش کرتے ہیں جبکہ یہ کائنات بقائے باہم کے اصول پر قائم ہے اور یہی زندہ رہنے کا سب سے بڑا راز ہے۔ کہاجارہا ہے کہ حکومت کو طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون سازی کی فوری ضرورت اس لئے محسوس ہورہی ہے کیونکہ سپریم کورٹ کی طرف سے اسے غیر قانونی قرار دینے کے باوجود زمینی سطح پر تین طلاق کا چلن جاری ہے۔ لہٰذا اس سلسلے کو روکنے کے لئے حکومت طلاق ثلاثہ کو باقاعدہ ایک جرم کی شکل دینا چاہتی ہے تاکہ اس کاارتکاب کرنے والوں کو قرارواقعی سزا ملے اورپھر کوئی اس کی جرأت نہ کرسکے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تین طلاق کو جرم قرار دینے سے جو معاشرتی مسائل جنم لیں گے اس کے ازالے کی کیا صورت ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے حکومت کے اس اقدام کو مسلمانوں کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ بورڈ کے ترجمان مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا کہنا ہے کہ طلاق ایک مذہبی مسئلہ ہے جب کسی عورت کو طلاق دی جائے تو وہ اس مرد کے لئے حرام ہوجاتی ہے۔ تین طلاق کو غیر معتبر قرار دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنے پر مجبور کیاجائے اور یہ ایک ایسا عمل ہے جو اسلام کی نظر میں زنا کے مترادف ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے طلاق ثلاثہ کو شریعت کی نگاہ میں ناپسندیدہ اور بے جا عمل تسلیم کیا ہے اور اسے قانون شریعت کا غلط استعمال قرار دیا ہے۔ لیکن قانون کے غلط استعمال کی وجہ سے کسی قانون کو جڑ سے ختم کردینا نامعقول بات ہے۔
 طلاق ثلاثہ کو قابل سزا جرم قرار دینے کے سلسلے میں پارلیمنٹ کی طرف سے جو قانون بنایا جائے گا اس پر صرف مسلم حلقوں میں ہی تشویش کا اظہار نہیں کیاجارہا ہے بلکہ دوراندیش سیاسی مبصرین بھی اس معاملے میں فکر مند نظرآتے ہیں۔ مثال کے طورپر ہندی کے سینئر صحافی ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک کا کہنا ہے کہ ’’کیا لوگ سزا کے خوف سے تین طلاق دینے سے باز آجائیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا خانگی تنازعات کو فوجداری قانون کے تحت رکھنا درست ہے؟ اگر تین بار طلاق بولنے والے شوہر کو پانچ یا دس سال کی سزا ہوجائے تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ بیوی تو گھر میں رہے گی اور میاں جیل میں۔ یہ تو پانچ یا دس سال کا میعادی طلاق نہیں ہوگااور پھر بیوی گھر میں رہ کر کیا کھائے گی؟ اس لئے بہتر یہ ہوگا کہ اس قانون کو فوجداری نہیں بلکہ دیوانی قانون کے دائرے میں لایاجائے۔ اس معاملے میں مالی جرمانہ کردینا ہی کافی ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات کو بات چیت اور ٹھنڈے دماغ سے حل کرنے پر زور دیاجانا چاہئے۔‘‘
قابل ذکر بات یہ ہے کہ خود آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ طلاق اور بالخصوص تین طلاق کے بے جا استعمال کو روکنے کی کوشش کررہا ہے اور اس نے ملک بھر میں اصلاح معاشرہ اور تفہیم شریعت کی مہم چھیڑ رکھی ہے۔ حکومت اگر واقعی مخلص ہے تو اسے اس سلسلے میں بورڈ کے ذمہ داروں سے مشورہ کرنا چاہئے اور شریعت اسلامی کے دائرے میں رہتے ہوئے طلاق کے بے جا استعمال کو روکنے اور مطلقہ کی مشکلات کو حل کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کا احساس ہے کہ اگر حکومت نے اس طرح کا قانون بنایا تو اس سے عورتوں کے لئے مزید دشواریاں پیدا ہوں گی اور مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید الجھ جائے گا۔ 
سوال یہ بھی ہے کہ تین طلاق کو جرم قرار دینے سے متعلق جو مسودہ قانون حکومت پارلیمنٹ میںلانے کی تیاری کررہی ہے، اس کی نوعیت کیا ہوگی اور اس میں مسلم پرسنل لاء کو حاصل دستوری تحفظ کا کس حد تک لحاظ رکھاجائے گا۔ اس مسودہ قانون کی تیاری کے لئے جن وزیروں کا گروپ تشکیل دیاگیا ہے، ان میں سے کوئی بھی اسلامی شریعت کا علم نہیں رکھتا۔ ان وزیروں میں راج ناتھ سنگھ ، سشما سوراج ، ارون جیٹلی ، روی شنکر پرساد اور مختار عباس نقوی شامل ہیں۔ کیا ان میں سے کوئی بھی اس بات کا دعویٰ کرسکتا ہے کہ اسے قانون شریعت کی ذرہ برابر بھی جانکاری ہے ۔ ظاہر ہے صدیوں تک اسلامی شریعت کا حصہ رہ چکے طلاق ثلاثہ کو ختم کرنے کے لئے قانون سازی کرتے وقت حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہوگی کیونکہ اس مرحلے میں مسلم پرسنل لاء کو آئین ہند سے حاصل تحفظ پر آنچ آنے کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ غیرجانبدار مبصرین یہ محسوس کرتے ہیں کہ ایسا قانون بھرپور احتیاط کا تقاضا کرتا ہے تاکہ اس میں مذہبی تفریق کا کوئی پہلو پیدا نہ ہوسکے۔ متاثرہ خواتین کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مسلم مَردوں میں بھی یہ اعتماد برقرار رکھنا ہوگا کہ مذہبی اقلیت کے طورپر اس ملک میں ان کی شناخت پر کوئی حرف نہیں آنے والا ہے۔ 

Ads