Jadid Khabar

دہلی کا دم گھٹ رہا ہے!

Thumb

گزشتہ منگل کی صبح جب راجدھانی دہلی کے باشندے اپنے کام کاج کے لئے گھروں سے نکلے تو انہیں عجیب وغریب تجربات سے دوچار ہونا پڑا۔ بیشتر لوگوں کو آنکھوں میں زبردست جلن محسوس ہوئی اور کئی لوگ بے تحاشہ کھانستے ہوئے نظرآئے۔ ان میں سے کئی بیمار لوگوں کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔ یہ سب اچانک دہلی کی فضا میں چھائی ہوئی زبردست دھند کا اثر تھا۔ شروع میں لوگوں نے یہ سمجھا کہ شاید سردی کی آمد کے ساتھ زبردست کہرا چھاگیا ہے لیکن لوگوں کو سانس لینے میں جس قسم کی پریشانیاں محسوس ہورہی تھیں، وہ بالکل نیا اور پریشان کن تجربہ تھا۔ اس لئے جلد ہی یہ احساس ہوگیا کہ یہ محض کہرا نہیں بلکہ ’اسموگ‘ہے جو زبردست آلودگی اور پالوشن کا نتیجہ ہے۔ شام ہوتے ہوتے پریشانی اس حد تک بڑھ گئی کہ لوگوں نے اسپتالوں میں قطاریں لگادیں۔ حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کو دہلی واین سی آر میں طبی ایمرجنسی کا اعلان کرنا پڑا۔ اسپتالوں میں دل اور سانس کے مریضوں کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی اور لوگ آنکھوں کی جلن دور کرنے کے لئے ’آئی ڈراپ‘ استعمال کرنے لگے۔ اسکولوں کی چھٹیاں کردی گئیں اور دہلی کے باشندوں کو اپنا زیادہ وقت گھر پرگزارنے کی صلاح دی گئی۔ 

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ دہلی اور اس کے آس پاس کے باشندوں کو اس خطرناک گھٹن کا احساس ہوا ہے بلکہ راجدھانی دہلی طویل عرصے سے خطرناک آلودگی کی گرفت میں ہے اور ہر سال سردی کی آمد کے موقع پر فضا میں کہرے کی دبیز چادر دراز ہوجاتی ہے۔ حکومت ہر بار یہ یقین دلاتی ہے کہ وہ جلدازجلد آلودگی پر قابوپالے گی اور آئندہ اس قسم کی پریشانیوں سے دوچار نہیں ہونا پڑے گا۔ لیکن یہ سب سیاست دانوں کی جملے بازی سے آگے نہیں بڑھتا۔ ایک محدود اندازے کے مطابق دہلی کی آبادی اس وقت ڈھائی کروڑ سے زیادہ ہے اور یہاںسڑکوں پر دوڑنے والی گاڑیوں کی تعداد ایک کروڑ سے اوپر ہے۔ ان میںتقریباً 50لاکھ کاریں ہیں اور باقی نقل وحمل کے دیگر ذرائع ہیں، جو خطرناک آلودگی کے لئے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ ہرچند کہ دہلی میں آلودگی پر قابو پانے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ کو سی این جی گیس سے مربوط کیاگیا ہے لیکن پھر بھی آلودگی کسی صورت ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے اور دہلی کے باشندوں پر خطرات بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ حالیہ آلودگی سے پیدا ہونے والے خطرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا موازنہ 1952کے گریٹ لندن اسموگ سے کیاگیا جہاں پی ایم کی سطح 500پار کرنے کی وجہ سے 4ہزار لوگوں کی موت واقع ہوگئی تھی۔ اس سے آگے بڑھ کر آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ نے کہاکہ دہلی اور اس سے متصل شہروں میں اس انتہائی خطرناک آلودگی سے تقریباً30ہزار اموات کا اندیشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آلودگی کو دہلی کے باشندوں کے لئے مہلک ترین تصور کیاجارہا ہے جس کے مضراثرات لوگوں کی آنکھوں اور پھیپھڑوں پر مرتب ہوئے ہیں۔ فی الحال دہلی میں ڈاکٹروں نے صبح کی سیر کرنے والے لوگوں کو گھر پر ہی آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے اور بعض ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر لوگوں کے پاس متبادل موجود ہوںتو وہ کچھ دن کے لئے دہلی سے باہرچلے جائیں۔ دہلی میں ٹرکوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور پارکنگ فیس چارگنا بڑھادی گئی ہے۔ دہلی میں جابجا درختوں پر ٹینکروں سے پانی چھڑک کر آب وہوا تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دہلی میں جنریٹروں کے استعمال پر پہلے ہی پابندی لگی ہوئی ہے ۔اس مرتبہ تعمیراتی کاموں پر بھی اگلے حکم تک روک لگادی گئی ہے۔ آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک بار پھر جفت طاق فارمولہ نافذ کیاگیا ہے تاکہ سڑکوں پر کاروں کی تعداد کو محدود کیاجاسکے۔ 
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اس انتہائی خطرناک آلودگی کا اصل سبب کیا ہے اور اس پر قابو پانے کا کون ساراستہ ہے۔ اس معاملے میں صوبائی اور مرکزی حکومتیں ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرارہی ہیں ۔گزشتہ سال جب سردیوں کی آمد پر دہلی میں آلودگی کا قہر نازل ہوا تھا اورلوگوں کو سانس لینے میں پریشانی ہونے لگی تھی تو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے مصنوعی بارش کرکے حالات کو قابو میں کرنے کی تجویز زیر بحث تھی جس پر اس بار بھی غور کیاجارہا ہے۔ لیکن یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر اس انتہائی خطرناک آلودگی کو کنٹرول کرنے کا فارمولہ کیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ اس معاملے میں محض خیالی گھوڑے دوڑارہے ہیں۔ کوئی گاڑیوںسے برآمد ہونے والے دھوئیں کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے تو کوئی تعمیراتی کاموں سے اڑنے والی دھول اور کوئی فیکٹریوں سے خارج ہونے والی گیس کو اس کی وجہ بتارہا ہے۔ لیکن ابھی تک خود حکومت کے کارندے اس نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں کہ اس کی ناگہانی آفت کا اصل سبب کیا ہے۔ جب کبھی ماحول دوست تنظیمیں یا عدالتیں اس معاملے میں مداخلت کرتی ہیں تو سیاست داں اس میں رخنہ اندازی شروع کردیتے ہیں۔ مثال کے طورپر گزشتہ ماہ دیوالی کے موقع پر جب سپریم کورٹ نے آتش بازی کا سامان بیجنے اور خریدنے پر پابندی لگائی تو اس پر خاصا واویلا مچایا گیا۔ یہاں تک کہ حکمراں جماعت کے لوگوں نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی مذموم کوشش کی اور کہا کہ صرف ہندوتہواروں پر پابندی عائد کی جاتی ہے اور مسلم تہواروں پر کوئی کچھ نہیں کہتا۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے دہلی میں پٹاخوں کی خریدوفروخت پر پابندی کا فیصلہ آلودگی کی سطح کو قابو میں کرنے کے لئے اٹھایا تھا کیونکہ ہر دیوالی کے موقع پر بڑی تعداد میں جو آتش بازی ہوتی ہے، اس سے دہلی کی آب وہوا خطرناک حدوں میں داخل ہوجاتی ہے اور لوگ کئی روز تک مسلسل کھانستے رہتے ہیں۔ آج دہلی کے حالات بے قابو ہونے کے بعد جن سیاست دانوں کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں ان میں سے کئی لوگوں نے سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑائی تھیں اور پابندی کو اپنی تہذیب کے خلاف قرار دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کی پابندی کے باوجود لوگوں نے پڑوسی ریاستوں سے آتش بازی کا سامان خریدا اور خوب دل کی بھڑاس نکالی۔ یہاں تک کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے احکامات کو بھی زائل کردیا۔ 
 حکومت ایک بار پھر گہری نیند سے جاگی ہے اور وہ خطرناک آلودگی کو قابو میں کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتی ہوئی نظرآرہی ہے لیکن یہ سب کچھ ہمیشہ کی طرح وقتی ورزش معلوم ہوتی ہے ۔ دراصل خطرناک آلودگی کو کم کرنے اور کھلی ہوا میں سانس لینے کی ضرورت سب محسوس کرتے ہیں لیکن اس میں کوئی عملی تعاون نہیں دینا چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ماحولیات کے ماہرین راجدھانی دہلی کو گیس چیمبر سے تعبیر کرنے لگے ہیں۔یہ بات سبھی کے علم میں ہے کہ اس وقت دنیا کو سب سے بڑا خطرہ ماحولیاتی آلودگی سے ہے۔ دن بہ دن بڑھتی ہوئی حدت اور آلودگی نے لوگوں کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ گلوبل وارمنگ اور آلودگی کو قابو میں کرنے کی منصوبہ بندی بڑے پیمانے پر کی جارہی ہے۔ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی سے ہونے والی ناگہانی اموات کے تعلق سے گزشتہ دنوں ایک برطانوی طبی جریدے نے ہوش ربا اعدادوشمار پیش کئے تھے۔ ’دی لینسٹ’ نامی طبی جریدے کی رپورٹ کے مطابق 2015میں دنیا بھر میں آلودگی کی وجہ سے موت کو گلے لگانے والوں کی تعداد 90لاکھ تھی جس میں ہندوستان کا حصہ سب سے زیادہ تھا ۔یہاں آلودگی سے پیدا ہونے والے امراض کے سبب 25لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ یہ اعدادوشمار ایڈس، ملیریا اور ٹی بی جیسی مہلک بیماریوں سے ہونے والی اموات کی تعداد سے تین گنا زیادہ ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی اس وقت نوع انسانی کو درپیش خطرات میں سب سے سنگین خطرہ ہے لیکن اس کی طرف ہماری توجہ محض رسمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دہلی کے گیس چیمبر میں تبدیل ہونے کا تماشہ پوری بے حسی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

Ads