Jadid Khabar

طلاق ثلاثہ بل: نظریاتی جنگ کا دوسرا پڑاؤ

  • 15 Jan 2018
  • ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
  • مضامین
Thumb

توقع کے مطابق آر ایس ایس کی سیاسی ونگ بی جے پی کی حکومت نے لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل پیش کردیا جو اکثریت سے پاس بھی ہوگیا، غالب گمان یہی ہے کہ راجیہ سبھا میں بھی یہ بل پاس ہوجائے گا۔ اس بل کو متعارف کراتے ہوئے وزیر قانون روی شنکر پرساد نے یہ کہا کہ ’’اس قانون سے ہماری مسلم بہنوں کو ظلم سے نجات ملے گی‘‘۔ کیا یہ باعث حیرت نہیں ہے کہ آر ایس ایس کی تاسیس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ معاشرے میں غیر برہمنوں کی طرف سے اٹھنے والی مساوات کی آواز کو دبایا جائے اور خواتین کی تعلیم کی مخالفت کی جائے؟ ایسا نہیں ہے کہ آر ایس ایس کا نظریہ اب بدل چکا ہے، وہ آج بھی اسی ’’تذکیری تفوق‘‘ کے قائل ہیں، لیکن ذرائع ابلاغ، عدالت اور پارلیمنٹ نے جنسی عدم مساوات کا الزام مسلمانوں کے سر لگا دیا ہے۔ ہندو وادی طاقتوں نے طلاق ثلاثہ کی مخالفت اس لئے کی کہ اس کا تعلق مسلمانوں سے ہے، جب کہ ’’لبرلز‘‘ نے ہندو توا کا ساتھ اس لئے دیا کہ ذرائع ابلاغ میں مستقل طلاق ثلاثہ کو جنسی مساوات کے خلاف قرار دیا جارہا تھا اور جنسی مساوات لبرلزم کی بنیاد ہے، یہ الگ بات ہے کہ سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے جنسی مساوات کے اصول کو بنیاد نہیں بنایا تھا، یوں اس معاملے میں ہندو توا عناصر اور لبرلز ساتھ ساتھ آگئے۔
پارلیمنٹ میں جب سے یہ بل پاس ہوا ہے سوشل میڈیا سے لے کر سڑکوں تک ہندووادی جشن منارہے ہیں، کچھ خواتین کو برقع پہن کر خوشی میں رقص کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، یہ ملک گیر جشن اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لڑائی مسلم خواتین کے حقوق کے لئے لڑی ہی نہیں گئی۔ اگر طلاق ثلاثہ ظلم ہے تو یہ ظلم ہندو مردوں پر تو کیا نہیں جاتا، وہ کیوں شاداں وفرحاں ہیں؟جشن میں شریک مسلمان نظر آنے والی خواتین اگر شادی شدہ ہیں، تو کیا کوئی عورت اس بات پر جشن منا سکتی ہے کہ اب وہ اپنے شوہر کو جیل کی ہوا کھلا سکتی ہے؟ اور اگر یہ عورتیں مطلقہ ہیں تو ان کو تو افسوس ہونا چاہئے، کیوں کہ اس قانون کا ان کو فائدہ حاصل نہیں ہوگا، نیز اگر یہ خواتین غیر شادی شدہ ہیں تو نکاح سے پہلے طلاق نہ ملنے پر جشن کے کیا معنی؟ یہ جشن در اصل ایک نظریاتی جنگ کا دوسرا پڑاؤ ہے۔
۱۹۸۵ء میں جب شاہ بانو کیس کا فیصلہ آیا اور مسلمانوں نے ملک گیر تحریک چلا کر راجیو گاندھی حکومت کو مجبور کیا کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون لاکر کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کردے، تو ہندو توا کے حامیوں نے اس کو اپنی شکست سمجھا، وہ چاہتے تھے کہ شریعت کے کسی ایک حکم کو فرسودہ اور غیر منصفانہ قرار دے دیا جائے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ راجیو گاندھی نے بدلے میں انھیں خوش کرنے کے لئے بابری مسجد کے تالے کھلوادیئے۔ یہ طاقتیں خاموش توہوگئیں، لیکن شاہ بانو کیس میں پارلیمنٹ کے فیصلے کو وہ بھلا نہیں پائیں۔ اسی لئے بی جے پی کے انتخابی منشور میں یکساں سول کوڈ کو شامل کیا گیا اور ’’ایک قوم ایک قانون‘‘ کا نعرہ دیا گیا۔ ۲۸/ دسمبر ۲۰۱۷ء میں ہندو توا حامی برہمنوں نے ۱۹۸۵ء کی شکست کا بدلہ لیا ہے، وہ آج اپنے آپ کو یہ تسلی دینے میں بظاہر کامیاب ہوگئے ہیں کہ طلاق ثلاثہ ایک فرسودہ نظام ہے، لیکن وہ یہ بھول گئے کہ شریعت میں بھی طلاق ثلاثہ فرسودہ نظام ہی ہے، انھوں نے ایسی کسی چیز کو غلط ثابت نہیں کیا جس کو شریعت نے اچھا سمجھا ہو۔
جب اتنی بات واضح ہے تو مسلمان شکست خوردگی کے احساس سے نکلیں، وہ اپنی ملی تنظیموں اور خصوصاً مسلم پرسنل لاء بورڈ پر اپنے اعتماد کو مضبوط کریں، ہوسکتا ہے کہ بورڈ کے وکلاء کیس کی بہتر پیروی کرتے لیکن اس غیر انسانی اور غیر دستوری بل کا بورڈ کو ذمے دار قرار دینا بھی نا انصافی ہے۔ بورڈ کی طرف سے آفیشلی یہ مطالبہ کبھی نہیں ہوا کہ طلاق ثلاثہ کو کرمنل ایکٹ کے تحت لایا جائے، اسی طرح طلاق بائن کے تعلق سے نہ بورڈ نے کبھی پیروی کی اور نہی عدالت نے فیصلہ دیا، پارلیمنٹ میں پیش کردہ بل میں طلاق بائن کو بھی قابل جرم مانا ہے، حالاں کہ طلاق بائن (جس میں مرد کو رجعت کا حق حاصل نہیں ہوتا اور طلاق کے بعد مرد اور عورت دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں) کے بارے میں بورڈ نے اپنا موقف رکھا ہی نہیں۔
ہمیں اب مسلم پرسنل لاء بورڈ پر بیجا اعتراضات کرنے کے بجائے اس عظیم ملی ادارے کو مضبوط کرنے کی فکر کرنی چاہئے، اب ہماری توجہ اس پر ہو کہ طلاق سے متعلق اس سیاہ قانون کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ ہم نے اس سے پہلے بھی کچھ تجاویز لکھیں تھی، ذیل میں مزید تجاویز دی جارہی ہیں، ہمیں امید ہی نہیں، یقین ہے کہ بورڈ کے فاضل وکلاء اس تعلق سے لائحہ عمل ترتیب دے رہے ہوں گے۔
۱:- یہ بل اگر راجیہ سبھا میں پاس ہوجاتا ہے تو بورڈ کو سپریم کورٹ ضرور جانا چاہئے اور اس بل کو اس کے تضادات اور اس کے غیر دستوری ہونے کی بنیاد پر چیلنج کرنا چاہئے۔
۲:- فاضل ججوں کے سامنے یہ بات لانی چاہئے کہ طلاق ثلاثہ کو عدالت نے اس لیے غیر قانونی قرار دیا تھا کہ یہ اسلام میں گناہ ہے، یہ دلیل مغربی قانون جو ہندوستان میں بھی رائج ہے کے بنیادی اصول کے خلاف ہے، مغربی ممالک میں زنا قانونا جرم نہیں ہے لیکن اسلام کے ساتھ ساتھ عیسائیت اور یہودیت دونوں ہی کے نزدیک گناہ ہے، بل کہ کہیں دور کیوں جائیں، اسی ملک میں شادی شدہ عورت کے غیر مرد سے جنسی تعلقات کو جو کہ قانونا جرم ہے ناقابل جرم قرار دیئے جانے کی وکالت کی جارہی ہے اور اس کی بنیاد یہی دلیل ہے کہ یہ تعلقات گناہ تو ہوسکتے ہیں لیکن مذہبی گناہ ایک سیکولر ملک میں جرم نہیں ہوتا، تو پھر طلاق ثلاثہ کو جو کہ مذہبی گناہ ہے جرم کیسے قرار دے دیا گیا؟
۳:- عدالت کو یہ بھی بتایا جائے کہ خود اس کا فیصلہ اور اس کے بعد سیاہ بل فرد کی آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے، اگر شوہر نے تین طلاق یا ایک طلاق بائن دے دی اور بیوی اس شوہر کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی، تب بھی وہ مجبور ہوگی کہ اس شخص کے ساتھ رہے کیوں کہ قانون اس طلاق کو طلاق نہیں مانتا، کیا یہ individual choice an autonomy  کے خلاف نہیں ہے؟
۴:- عدالت کو یہ بھی بتایا جائے کہ دستور کی دفعہ ۲۶ کے مطابق ’’ہر ایک مذہبی فرقے کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنے مذہبی امور کا انتظام خود کرے‘‘۔ بورڈ اگر قرآن یا حدیث کے بجائے فقہ حنفی اور فقہ اہل حدیث کی بنیاد پر یہ اپیل کرے کہ حنفی فقہ میں تین طلاق کو تین اور فقہ اہل حدیث میں تین طلاق کو ایک مانا گیا ہے، مسلمانوں کو حق ہے کہ وہ کسی بھی مسلک کی اتباع کرلیں، ایسی صورت میں دونوں فرقوں کے ماننے والوں کو دفعہ ۲۶ کے بموجب اپنے مذہبی معاملات بشمول نکاح وطلاق کا انتظام کرنے کا حق ہے۔ یہ واضح رہے کہ اس حق کو جنسی مساوات کے ساتھ مشروط نہیں مانا گیا ہے۔ اگر ایسا پہلے کرلیا جاتا تو اس بات کا جواب دینے کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ طلاق ثلاثہ قرآن میں نہیں ہے، چوں کہ اس عمل کی بنیاد فقہ ہے اور فرد کو آزادی ہے کہ وہ اس فقہ کو مانے یا نہ مانے۔
۵:- عدالت کو یہ بھی بتایا جائے کہ اگر طلاق ثلاثہ یا طلاق بائن کو غیر قانونی قرار بھی دے دیا جائے تو بھی ’’ظالم‘‘ شوہر بآسانی تین سال کی سزا سے بچ سکتا ہے، عام طور پر طلاق شدید غصے میں دی جاتی ہے اور شدید غصے کو سیکشن ۸۴ کے تحت جنون کی ایک قسم مانا گیا ہے اور جنون کی حالت میں کیا گیا جرم جرم نہیں ہوتا۔
۶:- سب سے مضبوط بنیاد جس کا پہلے بھی ہم ذکر کرچکے ہیں یہی لگتی ہے کہ طلاق ایک سول معاملے کے ختم کرنے کا نام ہے، اگر کوئی شخص سول کانٹریکٹ غیر قانونی طور پر ختم کرتا ہے تو زیادہ سے زیادہ اس پر سول عدالت میں کیس چلنا چاہئے۔ سول معاملے کو کرمنل قرار دینا خود سپریم کورٹ کے ماضی میں دیئے گئے فیصلے کے خلاف ہے۔
۷:- مسلم پرسنل لاء بورڈ کو شریعت ایپلی کیشن ایکٹ ۱۹۳۷ کا بھی از سر نو جائزہ لینا چاہئے۔ اس ایکٹ میں اگر کوئی چیز قابل ترمیم ہے تو از خود اس کا نوٹس لے کر، اس میں تبدیلی کی کوشش کرے۔ اس ایکٹ کی شق نمبر دو میں زرعی زمینوں کو وراثت سے علیحدہ رکھا گیا ہے، کیا زرعی زمینوں میں وراثت کے شرعی احکامات جاری نہیں ہوتے؟ کتنے ہی زمینداروں نے اس استثناء کا فائدہ اٹھا کر بیٹیوں کو زرعی زمینوں میں حصہ نہیں دیا، یہ اور اس سے ملتی جلتی کوئی بھی چیز قابل غور ہے تو بورڈ کے ماہرین شریعت اور ماہرین قانون اس پر ضرور غور کریں۔
وزیر قانون روی شنکر پرساد نے اگرچہ اپنی تقریر میں کہا ہے کہ حکومت کا مقصد مسلم پرسنل لاء کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا نہیں ہے، لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ فی الحال طلاق ثلاثہ سے متعلق بل پیش کیا جارہا ہے، تعدد ازواج وغیرہ کو بعد میں دیکھا جائے گا۔ گویا مسلم پرسنل لاء کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی لیکن آہستہ آہستہ اس کی شقوں کو غیر قانونی قرار دیا جاتا رہے کا، یوں یہ پرسنل لاء صرف نام کو قانون رہ جائے گا۔ اس لیے مسلمانان ہند کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ طلاق ثلاثہ نہیں ہے بل کہ ہمارا شرعی اور دینی تشخص ہے، ہمیں اگر اپنے تشخص کے ساتھ اس ملک میں رہنا ہے تو اپنے مسلکی اختلافات کو بھلا کر مسلم پرسنل لاء بورڈ کو مضبوط کرنا ہوگا، تاکہ بورڈ کی قیادت میں ہم اپنے دستوری اور جمہوری حقوق کا دفاع کرسکیں

 

Ads