Jadid Khabar

بی جے پی کو مسلم آبادی بڑھنے کا خوف

Thumb

 انتخابی میدان میں مسلمانوں کا خوف دکھاکر ہندوؤں کے ووٹ بٹورنے کے لیے اب ہندو آبادی گھٹنے اورمسلم آبادی بڑھنے کا شوشہ چھوڑا گیا ہے۔یہ کام کسی اور نے نہیں بلکہ خود وزیراعظم کی سربراہی والی اقتصادی مشاورتی کونسل نے انجام دیاہے۔ کونسل نے حال ہی میں جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا ہے کہ ملک میں 1950سے 2015کے درمیان ہندوؤں کی آبادی تقریباً آٹھ فیصد کم ہوئی ہے جبکہ اس دوران مسلم آبادی میں خاطر خواہ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ مسلم آبادی بڑھنے اور ہندوآبادی کم ہونے کا یہ شوشہ مردم شماری کی کسی رپورٹ کے بغیر چھوڑا گیا ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ 2011کے بعد ملک میں مردم شماری نہیں ہوئی ہے۔کونسل کی سروے رپورٹ کے مطابق1950میں مسلم آبادی 9.84فیصد تھی جو2015میں بڑھ کر 14.09فیصد ہوگئی ہے۔ وہیں اس دوران ہندوؤں کی آبادی 84.68فیصد سے گھٹ کر78.06فیصد ہوگئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میانمار کے بعد صرف ہندوستان میں ہی سب سے زیادہ ہندو آبادی کم ہوئی ہے۔

اس سروے رپورٹ کی اشاعت کے بعد سنگھ پریوار کی وہ فوج سرگرم ہوگئی ہے جو اس ملک کی تمام برائیوں کی جڑ مسلمانوں کو قرار دیتی ہے اور انھیں حرف غلط کی طرح مٹانا چاہتیہے۔لوگ درست ہی کہتے ہیں کہ اگر اس ملک میں مسلمان نہ ہوتے تو بی جے پی کی سیاست ہی پروان نہیں چڑھتی۔ وہ موضوعات کی تلاش میں دردر کی ٹھوکریں کھایا کرتی اور پھر بھی اس کا ووٹ بینک مطمئن نہیں ہوتا۔ اس رپورٹ پر سب سے پہلا ردعمل وشوہندوپریشد کا آیا ہے۔پریشد کے ترجمان ونودبنسل نے کہا ہے کہ ”دنیا بھر میں یہ ریکارڈ موجود ہے کہ جہاں مسلمان بڑھتے ہیں، وہاں غیر مسلم کم ہوجاتے ہیں۔وہ وہاں سے بھاگ جاتے ہیں یا مارے جاتے ہیں۔“ فرض کیجئے کہ اگر ہندوؤں کی آبادی کم ہورہی ہے تو اس کے لیے ذمہ دارکون ہے؟ کیا اس کے لیے بھی مسلمان ہی ذمہ دارہیں۔ درحقیقت ہندوؤں کی آبادی میں کمی کے لیے خودسنگھ پریوار کے لوگ ہیں جو بال بچوں کے جھنجٹ سے بچنے کے لیے شادی ہی نہیں کرتے۔ مگر اس کے لیے ذمہ دار ان مسلمانوں کوہی قرار دیتے ہیں۔یہ عجیب وغریب منطق ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہمختلف اوقات میں کئے گئے سروے یہ ثابت کرچکے ہیں کہ ملک میں مسلم آبادی کی شرح دیگر فرقوں کے مقابلے میں کم ہے، لیکن پھر بھی ان پر ملک کی آبادی میں عدم توازن پیدا کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔مسلمانوں کے تعلق سے جو باتیں بار بار کہی جاتی ہیں، ان میں پانچ سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔مسلمانوں پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ وہ زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں اور آبادی میں اضافہ کے لیے تنہاوہی ذمہ دار ہیں۔ دوسری بات یہ کہی جاتی ہے کہ مسلمانوں کی وجہ سے آبادی کا توازن بگڑ گیا ہے۔تیسراالزام یہ ہے کہ مسلمان جان بوجھ کر اپنی آبادی بڑھارہے ہیں تاکہ آہستہ آہستہ ہندو اقلیت میں آجائیں اور مسلمان ملک کے اقتدار پر قابض ہوجائیں۔ چوتھا الزام یہ ہے کہ مسلمان ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں تاکہ آبادی کو بڑھا سکیں۔ اسی لیے یہ نعرہ لگایا جاتا ہے کہ”ہم پانچ، ہمارے پچیس“۔ پانچویں بات بہت زور وشور سے یہ کہی جاتی ہے کہ اسلام خاندانی منصوبہ بندی کا مخالف ہے، اس لیے مسلمان اس پر عمل نہیں کرتے۔
دراصل اس پروپیگنڈے سے فرقہ پرست اور مسلم دشمن طاقتوں کو آکسیجن ملتی ہے،اس لیے اس کو ہوا دینا فرقہ پرستوں کو سب سے زیادہ راس آتاہے۔ اس قسم کی باتیں اکثر الیکشن کے میدان میں ہی کی جاتی ہیں۔ ہمارے محبوب وزیراعظم نے کسی زمانے میں گجرات اسمبلی کی انتخابی مہم کے دوران’’ہم پانچ، ہمارے پچیس‘‘کا نعرہ مستانہ لگاکر ہندو ووٹوں کی صف بندی کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔اب انھوں نے کہا ہے کہ کانگریس اس ملک کے سارے وسائل ہندوؤں سے چھین کر زیادہ بچے پیدا کرنے والوں کو دے دے گی۔اتنا ہی نہیں وہ اپنے انتخانی جلسوں میں باربار کہہ رہے ہیں کہ ”کانگریس پسماندہ ذاتوں سے ان کا ریزرویشن چھین کر مسلمانوں کو دینا چاہتی ہے اور میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گا۔“اسی ذیل میں انھوں نے مہاراشٹر کے نندوربار میں ایک انتخابی جلسے میں جمعہ کو یہ بھی کہا ہے کہ ”کانگریس ملک سے ہندوؤں کو ہی ختم کردینا چاہتی ہے، کیونکہ اس کے دور میں ہندوؤں کی آبادی کم ہوئی ہے۔“لوگوں کو حیرت اس بات پر ہے کہ یہ ایک ایسے وزیراعظم کابیان ہے جس نے آئین پر ہاتھ رکھ کر سب کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کا حلف اٹھایا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ شکست کے خوف نے انھیں اپنے عہدے کا پاس رکھنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا ہے۔دراصل بھولے بھالے ہندوؤں پر اس پروپیگنڈے کا اثر یوں ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ان کی نفرت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہی دراصل فسطائی جماعتوں کا مقصد بھی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشددکو ہوا دی جائے اور انھیں نرم چارہ بنایا جائے۔ آزادی کے بعد سے مسلسل یہی ہورہا ہے اور کسی بھی حکومت نے اس کا توڑ کرنے کے لیے اصل اعداد وشمار عوام کی عدالت میں پیش نہیں کئے۔
پچھلے دنوں سابق الیکشن کمشنر ڈاکٹر ایس وائی قریشی نے’آبادی کا مفروضہ:اسلام، خاندانی منصوبہ بندی اور ہندوستانی سیاست‘کے عنوان سے انگریزی زبان میں جو کتاب لکھی ہے اس میں انھوں نے یہ نتیجہ اخذکیا ہے کہ”پیدائش کی شرح مسلمانوں میں زیادہ ہے، لیکن اتنی نہیں جتنا کہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔عام طور پر یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ کسی ہندوخاندان میں دوبچے ہیں تو مسلم خاندان میں دس بچے جنم لیتے ہیں۔ڈاکٹر قریشی نے اپنی تحقیق میں لکھا ہے کہ کبھی بھی ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک بچے سے زیادہ کا فرق نہیں رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب مسلمان کافی تیزی سے بلکہ ہندوؤں سے زیادہ خاندانی منصوبہ بندی کو اپنا رہے ہیں۔ یہ شرح گھٹ کر 0.48پرآچکی ہے۔دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ آبادی کا توازن بگڑ رہا ہے۔ اس میں اس حدتک تو سچائی ہے کہ گزشتہ ساٹھ سال میں مسلم آبادی میں چار فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور ہندوؤں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یعنی ہندو 84 فیصد سے گھٹ کر79 فیصد رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کمی صرف مسلمانوں میں نہیں بلکہ تمام قوموں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ مسلمان 9.8فیصد سے بڑھ کر14فیصد ہوگئے ہیں۔ اس سے آبادی کا توازن بگڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کی آبادی ساٹھ سال میں صرف چار فیصد بڑھی ہے۔ اس اعتبار سے ان کے اکثریت بننے میں 600سال لگیں گے-جہاں تک ایک سے زیادہ شادیوں کا سوال ہے تو یہ بھی ایک مفروضہ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ہندوستان کا جنسی تناسب گزشتہ 100سال سے جوں کا توں ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ 2020کے اعداد وشمار کے مطابق 1000مردوں کے مقابلے میں 924عورتیں ہیں۔ ایسے میں دوسری بیوی ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لیکن ان سب حقائق کے باوجود سنگھ پریوارکے لوگ مسلم آبادی بڑھنے اور ہندو آبادی کم ہونے کا ڈھنڈورہ پیٹتے رہیں گے، کیونکہ یہ ان کے لیے ہندوؤں کے ووٹ بٹورنے کا آزمودہ نسخہ ہے۔