Jadid Khabar

سی اے اے:ایک تیر سے کئی شکار

Thumb

معصوم مرادآبادی
 عام انتخابات کا بگل بجنے کے ساتھ ہی ملک میں مثالی ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے۔ملک میں اگلے دومہینے سیاسی ہنگامہ آرائیوں سے عبارت ہوں گے۔ یوں بھی الیکشن کو جمہوریت کا سب سے بڑا جشن کہا جاتا ہے۔حکمراں بی جے پی لگاتار تیسری بار اقتدار میں آنے کے منصوبے بنارہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اس بار بھی مودی ہی ملک کے وزیراعظم بنیں گے۔ اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے بی جے پی نے تمام حربے اختیار کئے ہیں۔ رام مندر کی’پران پرتیشٹھا‘سب سے بڑا حربہ ہے جو اکثریتی طبقہ کے مذہبی استحصال کے لیے روبہ عمل لایا گیا ہے۔ لیکن الیکشن کی تاریخیں قریب آتے آتے حکومت انتخابی بانڈز کے بھنور میں پھنس گئی ہے۔کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اسے دنیا میں ناجائز وصولی کا سب سے بڑا ریکٹ قرار دیا ہے۔ انتخابی بانڈز کی مکمل تفصیل فراہم نہ کرنے کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو ایک بار پھر کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔حکومت کو محسوس ہوتا ہے کہ انتخابی بانڈ زکے اسکینڈل کا بھانڈ ہ پوری طرح پھوٹنے کے بعدوہ کہیں کی نہیں رہے گی۔ اسی لیے عوام کی توجہ اس پر سے ہٹانے کے لیے حکومت نے جو ہتھکنڈے اختیار کئے ہیں ان میں سب سے بڑا ہتھکنڈہ متنازع شہریت ترمیمی قانون(سی اے اے) کا نفاذ ہے، جسے شروع سے ہی مسلمانوں کی شہریت کو خطرے میں ڈالنے والا قانون قراردیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی اے اے کے نفاذ سے متعلق نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے ساتھ ہی مسلمانوں میں ان تمام اندیشوں نے سراٹھالیا ہے، جو اس قانون سے ان کے اندر سرایت کرگئے  تھے۔ حالانکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ کسی کی شہریت لینے والا قانون نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد ان غیرمسلموں کو ہندوستانی شہریت فراہم کرنا ہے، جو پڑوسی ملکوں میں مذہب کی بنیاد پر ستائے جاتے ہیں۔لیکن یہ قانون چونکہ ہندوستانی شہریت کو مذہب سے جوڑتا ہے، اس لیے اس کی خطرناکی سبھی محسوس کرتے ہیں۔ ہندوستان ہی نہیں امریکہ اور یوروپ نے بھی اس قانون کے خلاف آواز بلند کی ہے۔
وزارت داخلہ نے مسلمانوں کو اطمینان دلانے کی کوشش کی ہے کہ”اس قانون سے ان کی شہریت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔یہ شہریت دینے والا قانون ہے، لینے والا نہیں۔“لیکن سب سے بڑاسوال اس وضاحت سے ہی پیدا ہوتا ہے کہ اس قانون کی رو سے ملک کے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو تو شہریت ملتی ہے، لیکن مسلمان اس سے کیوں محروم کردئیے گئے ہیں۔دراصل 2019میں جب یہ قانون پارلیمنٹ سے منظور ہوا تھا تووزیرداخلہ نے یہ کرونالوجی سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ پہلے سی اے اے آئے گا،پھر این آرسی اور اس کے بعد این پی آر۔ بعدکو انھوں نے سی اے اے کے حوالے سے جومسلسل بیانات دئیے وہ مسلمانوں کے خدشات کو بڑھانے والے تھے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی کوئی ان کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہے۔
 سی اے اے نافذ ہونے کے بعدجن مذاہب کے لوگوں کو اس کا فائدہ پہنچے گا، ان میں ہندو، سکھ، عیسائی، بودھ، جین اور پارسی مذاہب کے ماننے والے شامل ہیں اور جن ملکوں کے باشندوں کو کسی دستاویزی ثبوت کے بغیرآن لائن ہندوستانی شہریت فراہم کی جائے گی، ان میں پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔مسلمانوں کو اس قانون میں اس لیے شامل نہیں کیا گیا ہے کیونکہ ان تینوں ملکوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے جو ان اقلیتی با شندوں کا جینا حرام کئے ہوئے ہیں۔ خود ہندوستان کی اکثریتی آبادی اپنی اقلیتوں کے ساتھ جو’’حسن سلوک‘‘ کرتی رہی ہے، اس کا تذکرہ کرنا یہاں بے معنی ہے، کیونکہ یہ ہمارا آج کا موضوع نہیں ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس قانون کا نفاذ ۹۱۰۲ میں اسی وقت ہوگیا تھا جب پارلیمنٹ سے پاس ہونے کے بعد اس پر صدرجمہوریہ کی مہر لگی تھی، لیکن اس قانون کے خلاف بے نظیر احتجاج کے پیش نظر حکومت نے اس کے ضابطے وضع کرنے کاکام 
 انتخابات کے وقت کے لیے چھوڑ دیاتھا تاکہ مذہبی بنیادوں پر الیکشن میں اس کا فائدہ اٹھایا جاسکے۔ حالیہ نوٹیفیکیشن اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اس کے اجراء کے بعد ایک بار طلباء برادری، سول سوسائٹی اور شہری حقوق کی تنظیمیں سرگرم عمل ہوگئی ہیں اور اس کے خلاف مسلسل آواز بلند کی جارہی ہے۔ 
قابل ذکر بات یہ ہے کہ متنازع شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کا نوٹیفیکیشن عام انتخابات سے عین قبل کیا گیا ہے۔ سبھی جانتے ہیں جو اعلانات چناؤسے پہلے کئے جاتے ہیں، ان کا مقصد چناؤ میں فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔حکمراں بی جے پی کو اس میں جو مہارت حاصل ہے، وہ کسی دوسری پارٹی کو نہیں ہے۔ کانگریس کا یہ الزام حق بجانب ہے کہ یہ’’چناؤ سے پہلے ملک اور خاص طورپر مغربی بنگال اور آسام میں ووٹوں کی صف بندی کرنا ہے۔“اس بحث سے قطع نظر کہ اس قانون کا فائدہ پڑوسی ملکوں میں رہنے والے غیرمسلموں کو کتنا ہوگا اور وہ کس حد تک خود کو محفوظ کرپائیں گے، یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ جب سے یہ قانون پارلیمنٹ سے پاس ہوا ہے، اس پر سب سے زیادہ احتجاج شہری حقوق کے محافظوں اور مسلمانوں  نے کیا ہے۔حکومت اس احتجاج کی بے مثال کامیابی سے اس حد تک خوفزدہ ہوگئی تھی کہ اس میں سرگرم حصہ لینے والوں کے خلاف غیرقانونی سرگرمیوں سے متعلق قانون یو اے پی اے کے تحت کارروائی کی گئی۔ ان میں سے کئی لوگ ابھی تک سلاخوں کے پیچھے ہیں۔اسی دوران فروری 2020کے اواخر میں شمال مشرقی دہلی میں خوفناک فساد برپا ہوا، جس کی زد میں آکر پچاس سے زائد بے گناہ لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ اس معاملے میں دہلی پولیس نے 758 مقدمات درج کرکے جن دوہزار سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا، ان میں  بیشتر مسلمان ہیں۔ ان میں سے کئی مقدمات میں عدالتیں دہلی پولیس کو پھٹکار لگاچکی ہیں، کیونکہ ان مقدمات میں شواہد اور گواہوں کا زبردست فقدان ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ عام انتخابات سے عین پہلے سی اے اے نافذ کرنے کا سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی کو مغربی بنگال میں ہوگا۔مغربی بنگال اس وقت حکمراں جماعت کے سب سے زیادہ نشانے پر ہے۔وہاں سندیش کھالی کے عنوان پر سیاسی شعبدے بازی عروج پر ہے۔واضح رہے کہ مغربی بنگال کے کئی لوک سبھا ممبران وزیراعظم اور وزیرداخلہ سے شہریت ترمیمی قانون نافذ کرنے کامطالبہ کررہے تھے۔ اسی لیے نوٹیفیکیشن جاری ہوتے ہی مغربی بنگال بی جے پی نے جشن منایا۔واضح رہے کہ سی اے اے نافذ ہونے سے مغربی بنگال کی متوا فرقہ کو شہریت ملے گی، جس کی آبادی دس لاکھ سے زائد ہے۔ 2019میں جب یہ قانون پارلیمنٹ سے منظور کیا گیا تھا تو بی جے پی نے متوا فرقہ سے وعدہ کیا تھا کہ سی اے اے کے توسط سے انھیں شہریت دی جائے گی۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال کے نادیہ، شمال مغرب 24پرگنہ ضلعوں کی کم ازکم چار لوک سبھا سیٹوں میں یہ فرقہ جیت ہار طے کرسکتا ہے۔
متنازع شہریت قانون نافذ ہونے کے بعد سب سے زیادہ چہ میگوئیاں مسلم حلقوں میں ہورہی ہیں۔ سرکاری ذرائع مسلمانوں کومطمئن کرنے کے لیے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس قانون کا اثر ان پر نہیں پڑے گا، کیونکہ یہ قانون شہریت دینے والا ہے، شہریت لینے والا نہیں ہے۔اس لیے مسلمانوں کی شہریت پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔اصل سوال مسلمانوں کی شہریت کا نہیں ہے بلکہ اس ذہنیت کا ہے جس کی کوکھ سے اس قانون نے جنم لیا ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہوئی ہے کہ اس ملک میں پہلی بار ایک ایسا قانون وجود میں آیا ہے جو شہریوں کی درجہ بندی مذہب کی بنیاد پر کرتا ہے۔ہمارے دستور میں شہریت کی بیناد مذہب کہیں بھی نہیں ہے۔ اس قانون میں مسلمانوں کے سوا ملک کے تمام فرقوں کو شامل کیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے اس قانون کو ملک کی سب سے بڑی عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے اور وہاں کم وبیش 200عرضیاں زیرسماعت ہیں۔ اقوام متحدہ کے شہریت سے متعلق ادارے نے بھی اس قانون کے خلاف ایک عرضی سپریم کورٹ میں دائر کی ہے۔ ان عرضیوں کی سماعت کے لیے آئندہ 19/مارچ کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ میں سی اے اے کی مختلف دفعات کو چیلنج کیا گیا ہے۔