Jadid Khabar

غزہ میں نسل کشی کا نیا باب

Thumb

عارضی جنگ بندی کو مستقل جنگ بندی میں بدلنے کی مہذب دنیا کی امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے اسرائیل نے ایک بار پھر غزہ میں آگ برسانا شروع کردی ہے۔ جمعہ کی صبح جنگ بندی کی معیاد ختم ہونے کے بعد غزہ پر دوبارہ وحشیانہ بمباری شروع کردی گئی ہے۔ابتدائی حملوں میں 100سے زیادہ فلسطینی باشندوں کی شہادت کی خبرہے اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب غزہ کے اسپتال زخمیوں کا علاج کرنے سے معذور ہیں۔ بیشتر اسپتال اسرائیلی بمباری میں تباہ ہوچکے ہیں اور جو باقی ہیں، ان کے پاس دوائیں اور آلات نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ غزہ میں شہیدوں کو دفن کرنے کے سازوسامان کے بھی لالے ہیں۔ اسرائیل نے گزشتہ سات اکتوبر سے غزہ میں جو ہزاروں ٹن بارود برسائی، اس کے نتیجے میں پندرہ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ ان میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی تھی۔ جام شہادت نوش کرنے والے کمسن بچوں کی تصویریں دیکھ کر دنیا چیخ اٹھی تھی اور سب کو یہی امید تھی کہ قیدیوں کے تبادلے کے نام پر جو عارضی جنگ بندی ہوئی ہے، وہ ایک پائیدار حلمیں بدل جائے گی، لیکن اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے سرپہ غزہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا جو جنون سوار ہے، اس نے انھیں وحشی بنادیا ہے۔ 
 اسرائیلی وزیردفاع نے پہلے ہی کہا تھا کہ”انسانی بنیادوں پر وقفہ ختم ہونے کے بعد پورے غزہ پر شدید حملے کئے جائیں گے اور یہ جنگ منطقی انجام تک ضرور پہنچے گی۔“اس سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے بھی کہا تھا کہ’’وہ حماس کے مکمل خاتمہ تک جنگ جاری رکھیں گے اور اسے صفحہ ہستی سے مٹا کر ہی دم لیں گے۔“یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اسرائیل نے حماس کو مٹانے کے لیے غزہ میں جوآخری درجہ کا ظلم وستم ڈھایا ہے، اس میں اسے کس حد تک کامیابی ملی ہے۔ اس کا جواب صفر میں ہے، کیونکہ اب تک اسرائیل اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوپایاہے۔ اس نے اس عرصے میں جو کچھ کیا ہے، اس کے نتیجے میں غزہ کے عام باشندوں کی ہی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور ان کی زندگی جہنم بن گئی ہے جبکہ حماس کو اس کا جزوی نقصان ہی پہنچا ہے۔اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں ساٹھ فیصد سے زائد مکانوں کو اور رہائشی یونٹ کو تباہ کردیا ہے۔پچاس ہزار سے زیادہ خاندان مکمل طور پر اپنے گھر کھوبیٹھے ہیں جبکہ ڈھائی لاکھ مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔26سے زائداسپتالوں اور 55طبی مراکز کو مکمل طورپر تباہ کیا جاچکا ہے۔ہزاروں شہداء کی لاشیں اب بھی ملبے میں دفن ہیں۔ان کی تلاش اور تجہیز وتکفین سے قبل ہی غزہ پر ایک بار پھر بارود برسنا شروع ہوگئی ہے۔ اس انسانی المیہ کا انجام کیا ہوگا، کسی کو نہیں معلوم۔ اسرائیلی جارحیت میں سب سے بڑا منافقانہ کردار امریکہ ادا کررہا ہے۔امریکی قومی سلامتی مشیر جان کربی نے ایک طرف تو جنگ بندی میں توسیع کی کوششیں جاری رکھنے کی بات کی اور دوسری سانس میں یہ بھی کہا کہ اگر اسرائیل دوبارہ حماس کے پیچھے جانے کا فیصلہ کرے گا توامریکہ اس کی حمایت کرے گا۔
قابل ذکر یہ ہے کہ پچھلے ڈیڑھ ماہ کے دوران غزہ میں جو وحشیانہ بمباری ہوئیہے، اس میں جہاں ایک طرف فلسطینی عوام کو زبردست جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے تو وہیں اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی معیشت کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور اس کی کرنسی دس سال پیچھے کی طرف چلی گئی ہے۔ نتن یاہو کی ہٹ دھرمی اور بے جا ضد کے نتیجے میں خود اندرون ملک ان پر سخت تنقیدیں ہورہی ہیں اور انھیں کچھ حد تک بے عزت بھی ہونا پڑا ہے۔آئیے پہلے اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کو ہونے والے مالی نقصان کا جائزہ لیتے ہیں۔اس کے بعد ایک نظر اس جنگ سے وزیراعظم نتن یاہو اور ان کے حامیوں کو ہونے والے نقصان پر بھی ڈالیں گے۔
صیہونی حکومت کو غزہ کی جنگ کے نتیجے میں ہرہفتہ600 ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اس کی معیشت روبہ زوال ہے۔ اسرائیل کے چینل 12کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وار کیبنٹ کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں جنگ کے اخراجات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو اس جنگ کی وجہ سے ہرہفتہ ایک ارب شیکل (اسرائیلی کرنسی)کا نقصان اٹھانا پڑا ہے جو کہ 600ملین امریکی ڈالر کے برابر ہے۔مذکورہ اخراجات میں صیہونی فوجیوں کی تنخواہیں بھی شامل ہیں جبکہ پروازوں اور ہتھیاروں کی مد میں ہونے والے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔حماس کی طرف سے ’طوفان الاقصیٰ‘ آپریشن شروع ہونے کے بعد صیہونی حکومت نے تین لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ ریزروفوجیوں کو بھی طلب کرلیا تھا، جس کی وجہ سے صرف تنخواہوں کی مدمیں ماہانہ ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑرہا ہے۔علاوہ ازیں ریزرو فوجیوں کی طلبی کی وجہ سے اسرائیل کی دوسری معاشی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئیں، کیونکہ ان فوجیوں کی ایک بڑی تعداد مختلف شعبوں میں کام کر رہی تھی۔وہیں دوسری طرف جنگ کے باعث اسرائیلی کرنسی مسلسل اپنی قدر کھورہی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے بلوم برگ کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد امریکی ڈالر کے مقابلے میں اسرائیلی کرنسی کی قدر میں سات فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔اسرائیل کے بانڈزاور اسٹاکس میں بھی کمی درج کی گئی ہے۔جبکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ غزہ پر جاری جنگ علاقائی تنازعہ کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔
جنگ میں شامل کسی بھی ملک پر اس قسم کے اثرات کوئی انوکھی بات نہیں ہیں۔ جب بھی کوئی ملک جنگ کے میدان میں کودتا ہے تو اس کو چوطرفہ نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے اور وہ ازخود ایک سنگین مسئلہ ہے،کچھ ممالک اسی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ فائدہ ان طاقتوں کو ہوتا ہے جو جنگی سازوسامان تیار کرتی ہیں اور ہتھیاروں کی تجارت پرجن کی معیشت کا دارومدار ہے۔ امریکہ ان ملکوں میں سرفہرست ہے، جو سب سے پہلے اسرائیل کی حمایت میں آگے آیا اور اس نے اپنا سب سے بڑا جنگی بیڑا غزہ کی سرحد پر تعینات کردیا۔اسی طرح برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے بھی اسرائیل کے جنگی جنون کو آگے بڑھایا۔ اگر یہ ملک چاہتے تو اسرائیل کو جارحیت سے روک کر فلسطین کا مسئلہ حل کرنے پر زور دیتے، لیکن ایسا کرنے کی بجائے انھوں نے اسرائیل کی پشت پناہی کو ترجیح دی۔اب اتنی تباہی اور بربادی کے بعد امریکہ اور مغربی دنیا دوریاستی حل کی بات کررہے ہیں، جو اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔
غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والی ہزاروں ہلاکتوں کے خلاف مسلمانوں نے اسرائیل کے حامی برانڈز کے بائیکاٹ کی جو مہم شروع کی تھی، اس سے بھی امریکی اور مغربی مصنوعات کی فروخت متاثر ہوئی ہے۔ عرب ملکوں سے تعلق رکھنے والے صارفین میں اسرائیل کی حامی مغربی کمپنیوں کے برانڈ کے بائیکاٹ کی مہم میں تیزی آرہی ہے۔ اس بائیکاٹ کی زد میں مخصوص مغربی برانڈز کی کھانے پینے کی چیزیں اور گھریلو استعمال کی دیگر اشیاء شامل ہیں۔جن عرب ملکوں میں احتجاجی مظاہروں کی اجازت نہیں ہے، وہاں مغربی اور امریکی فوڈز کا مکمل بائیکاٹ احتجاج کا سب سے انوکھا طریقہ ہے جو مصر، کویت، اردن اور مراقش میں بطور خاص اختیار کیا گیا ہے۔ بائیکاٹ کی اس مہم کی زد میں وہ کمپنیاں بھی آرہی ہیں، جو اسرائیل کے حق میں بیانات دے کر اس جنگ میں اس کی کھلی حمایت کرچکی ہیں اور کچھ ایسی کمپنیاں ہیں، جو اسرائیل کو مالی امداد دینے میں پیش پیش رہتی ہیں۔ بائیکاٹ کا سب سے زیادہ اثرمیک ڈونالڈ،اسٹاربکس اور کے ایف سی جیسے برانڈ پر سب سے زیادہ ہے اور یہ سب امریکی برانڈ ہیں۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ اس کے حامیوں کو بھی مالی نقصان ہورہا ہے۔جیسے جیسے غزہ پر اسرائیلی جارحیت بڑھے گی، ویسے ویسے اس کا نقصان بھی بڑھتا چلا جائے گا۔
اس جنگ کے نتیجے میں امریکی اور اسرائیلی قیادت کی بھی کرکری ہورہی ہے۔ نہ صرف نتن یاہو کی اپنے ملک میں پوزیشن خاصی کمزور ہوگئی ہے بلکہ امریکی صدر جو بائیڈن کو بھی سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر سخت تنقیدوں کے باوجود غزہ میں جو جنگی مہم شروع ہوئی تھی، اس کا خاص مقصد حماس کا نام ونشان مٹانا اور یرغمالیوں کو رہا کرانا تھا، لیکن ڈیڑھ ماہ کی جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کو اپنے مقصد میں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔ یہ امید نہیں تھی کہ اسرائیلی فوج ڈیڑھ مہینے میں بھی حماس کو ختم نہیں کرپائے گی۔ تل ابیب میں مقیم اسرائیلی معاملوں کے ماہر کھیم راج جنگڑ کا کہنا ہے کہ ”اب تو یہ مہم ایک سال کی کارروائی میں بھی ناممکن لگتی ہے۔ کیونکہ حماس کے لڑاکے پانچ سو کلومیٹر سے زیادہ طویل سرنگوں میں روپوش ہوگئے ہیں۔“ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ”اس صورتحال کی وجہ سے اسرائیل میں نتن یاہو کے خلاف ناراضگی بڑھنے لگی ہے۔ اسرائیلی فوج ایک ایسی لڑائی لڑرہی ہے جس سے اس کی پیشانی پر بل پڑنے لگے ہیں اور جسے وہ جیت نہیں پارہی ہے۔“اسرائیل کے تازہ سروے میں نتن یاہو کی پوزیشن کافی کمزورنظر آ رہی ہے۔ان کی پارٹی کے کچھ ممبران نے اسرائیل کی ناکامیوں کے لیے انھیں قصوروار ٹھہراتے ہوئے استعفیٰ بھی دے دیا ہے۔“