Jadid Khabar

مولانا کلیم صدیقی کاقصور کیا ہے؟

Thumb

مشہورومعروف داعی اور مبلغ مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری سے مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہر ہے۔انھیں بدھ کی رات اترپردیش اے ٹی ایس کے انسداد دہشت گردی دستہ نے اس وقت گرفتار کیا ،جب وہ میرٹھ میں ایک پروگرام کے بعد اپنے گھر واپس آرہے تھے۔مولانا کلیم صدیقی پر غیرقانونی تبدیلی مذہب میں ملوث ہونے اور اس کے لیے بیرونی ملکوں سے خطیر رقومات وصول کرنے کاالزام ہے ۔ سبھی جانتے ہیں کہ مولانا کلیم صدیقی ایک سنجیدہ اسلامی اسکالر ہیں۔ ان کا بنیادی کام دیگر مذاہب کے ساتھ مکالمہ قایم کرنا اور اسلام کے بارے میںبرادران وطن کے ذہنوں میں سرایت کرگئی غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔ ان کے اسی مشن سے متاثر ہوکر کئی لوگوں نے اسلام بھی قبول کیا ہے، لیکن جن الزامات کے تحت ان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے، وہ اس اعتبار سے سنگین ہیں کہ ان کی تمام سرگرمیوں کو غیرقانونی قرار دے کر انھیں تبدیلی مذہب کے ایک خطرناک سنڈیکیٹ کا سربراہ قرار جارہا ہے۔حالانکہ انھوں نے اسلام کی تبلیغ کے لیے جو کچھ بھی کیا ہے، اس کی اجازت ہرشہری کوملک کا آئین دیتا ہے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ جون میں ان ہی الزامات کے تحت دہلی سے محمدعمر گوتم اور مفتی جہانگیر قاسمی کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔ یہ دونوں بھی انہی خطوط پر اسلام کے تعارف اور تبلیغ کا کام کررہے تھے، جن پر مولانا کلیم صدیقی گامزن ہیں۔ان سے ہوئی پوچھ تاچھ کے بعد ملک کے مختلف حصوں سے چھ مزید لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ سبھی لوگ ابھی جیل میں ہیں اور انھیں غیرقانونی تبدیلی مذہب کے ایک خطرناک سنڈیکیٹ کا حصہ بتایا جارہا ہے۔جس وقت دہلی میں محمدعمرگوتم اور مفتی جہانگیر قاسمی کو گرفتار کیا گیا تھا ، اسی وقت اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ پولیس مولانا کلیم صدیقی پر بھی ہاتھ ڈال سکتی ہے، لیکن ان کی شخصیت اور عالمی شناخت کی بنیاد پر لوگوں کو یقین تھا کہ شاید پولیس ان کے خلاف کارروائی کی ہمت نہ کرے، مگر یہ خیال غلط ثابت ہوا اور انھیں گرفتار کرکے پہلے عدالتی حراست میں بھیجا گیا اور اس کے اگلے دن پولیس ان کا دس دن کا طویل ریمانڈ لینے میں کامیاب ہوگئی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ 7 ستمبر کو مولانا کلیم صدیقی نے ممبئی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے ایک پروگرام میں شرکت کی تھی۔ اس پروگرام کو بھاگوت کی ’’مسلم دانشوروں سے ملاقات‘‘ کا عنوان دیا گیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ اس ملاقات کے لیے خود موہن بھاگوت کے بھائی مولانا کلیم صدیقی کو مدعو کرنے ان کے گھر گئے تھے۔ حالانکہ کئی حلقوں میں مولانا پر تنقید بھی ہوئی تھی ، لیکن کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے دعوتی مشن کے تحت وہاں گئے تھے۔ بعض لوگوں کا یہ بھی خیال تھا کہ مولاناکلیم صدیقی نے موہن بھا گوت سے ملاقات حفظ ماتقدم کے طورپر کی ہے۔ لیکن یہ خیال غلط ثابت ہوا ، کیونکہ پولیس نے ان کے خلاف جو ابتدائی فردجرم میڈیا کے روبرو پیش کی ہے ، اس میں ان پر تبدیلی مذہب کے ایک خطرناک ریکیٹ میں شامل ہونے کا الزام عائد کیاگیا ہے جس میں کروڑوں کی غیرملکی فنڈنگ ہوئی ہے
۔اے ڈی جی پرشانت کمار کا دعویٰ ہے کہ مولانا کلیم صدیقی کی تنظیم گلوبل پیس سینٹر اور جامعہ امام ولی اللہ لوگوں کو ڈرا دھمکاکر مذہب تبدیل کراتے تھے۔ پرشانت کمار کا یہ بھی کہنا ہے کہ تبدیلی مذہب کے لیے ان کے مختلف بینک کھاتوں میں تین کروڑ روپے کی غیر ملکی فنڈنگ ہوئی ہے۔جن میں ڈیڑھ کروڑ روپے تو بحرین سے ان کے اکاؤنٹ میں بھیجے گئے ہیں۔ اے ڈی جی کا یہ بھی کہنا ہے کہ مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری محمدعمر گوتم اور مفتی جہانگیر قاسمی سے ہوئی پوچھ تاچھ کی بنیاد پر ہوئی ہے۔اے ٹی ایس نے جب ان کے بارے میں چھان بین کی تو پتہ چلا کہ وہ اپنے آبائی وطن مظفرنگر کے پھلت میں جامعہ ولی اللہ کے نام سے ایک ٹرسٹ چلاتے ہیں، جوکہ ملک بھر میں سماجی ہم آہنگی اور دیگر فلاحی کاموں کی آڑ میں تبدیلی مذہب کا ایک سنڈیکیٹ ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مولانا کلیم صدیقی ٹرسٹ چلانے کے علاوہ ملک کے مختلف مدرسوں کے لیے فنڈنگ بھی کرتے تھے۔ان مدرسوں میں وہ پیام انسانیت کے پروگراموں کے تحت دوزخ کا خوف اور روپوں کا لالچ دے کر مذہب تبدیل کراتے تھے۔
حالانکہ ابھی تک ایسا کوئی شخص سامنے نہیں آیا ہے جس نے یہ کہا ہو کہ مولانا کلیم صدیقی نے اپنا مذہب تبدیل کرنے کے لیے اس پر دباؤ ڈالا ہو یا پھر اسے کوئی لالچ دیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی پر دباؤڈال کر یا اسے لالچ دے کر مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرتا ہے تو یہ ایک غیرقانونی سرگرمی ہے، جس کے لیے قرار واقعی سزا ملنی چاہئے۔ لیکن اگر کوئی اپنی مرضی سے اپنا مذہب تبدیل کرتا ہے اور کوئی شخص اس میں تعاون کرتا ہے تو اس کوئی پر قانونی گرفت نہیں ہونی چاہئے، کیونکہ ہندوستان کا آئین اس ملک میں بسنے والے ہر شہری کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ جو چاہے مذہب اختیار کرے ۔ مدہب کے  معاملے میں حکومت کو مداخلت کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔
سبھی جانتے ہیںکہ ہندوستان کا دستور اپنے شہریوں کو اس بات کی پوری اجازت دیتا ہے کہ وہ جس مذہب کوچاہے اختیار کرے اور اس کی ترویج اوراشاعت میں حصہ لے۔ اسی دستوری آزادی کا فائدہ اٹھاکر ہمارے ملک میں عیسائی مشنریاں انتہائی غریب اور پسماندہ بستیوں میں کام کرتی ہیں اور لوگوں کو عیسائیت کی طرف راغب کرتی ہیں۔لیکن جب سے ملک میں بی جے پیمکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے ، اس نے بہت سے ایسے کام کئے ہیں جو غیر دستوری اور غیر جمہوری ہیں۔ ان ہی میں ایک کام ہے اس ملک میں بسنے والی اقلیتوں کا راستہ روکنا۔حکومت وقت چاہتی ہے کہ اس ملک میں ایک مذہب ، ایک زبان اور ایک کلچر کی حکمرانی ہو۔ یعنی صرف اکثریت کے مذہب ہی کو فروغ حاصل ہو اور اس کے ماننے والوں کو ہرقسم کا تحفظ فراہم کیا جائے۔ جبکہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو اس بات کی قطعی اجازت نہ ہو کہ وہ اپنے مذہب اور کلچر کی تبلیغ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں سے متعلق ہرشے کو ’ جہاد‘ کا نام دے کر ملیا میٹ کرنے کی کوششیں عروج پر ہیں۔نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے بلکہ انھیں مختلف عنوانات کے تحت داروگیر کے مراحل سے بھی گزارا جارہا ہے ۔ اس جبر کا ایک ہی مقصد ہے کہ مسلمان صرف اپنی جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ پرہی راضی ہوجائیں اور ایک شہری کے طورپر اپنے تمام بنیادی دستوری حقوق سے دستبرداری کا اعلان کردیں ۔تبدیلی مذہب کے نام پر علمائے کرام کی گرفتاریاں اور ان کے ساتھ بدترین مجرموں جیسا سلوک یہ ثابت کرتا ہے کہ اب ملک میں آئین وقانون کا راج ختم ہواچاہتا ہے۔
مولانا کلیم صدیقی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعہ مذہب تبدیل کرانے کے ثبوت کے طور یہ کہا جارہا ہے کہ ان کے اکاؤنٹ میں تین کروڑ کی رقم بیرونی ممالک سے آئی ہے جس میں ڈیڑھ کروڑ روپے صرف بحرین سے آئے ہیں۔ یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جو رقم کسی کے بینک اکاؤنٹ میں جمع ہوتی ہے وہ اس کا پورا حساب کتاب رکھتا ہے اور اس سے انکم ٹیکس محکمہ بھی واقف ہوتا ہے۔ اگر تین کروڑ کی خطیر رقم ان کے اکاؤنٹ میں مشتبہ لوگوں نے جمع کی تھی تو اس کی چھان بین کیوں نہیں کی گئی؟یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث لوگ کبھی بھی بینک کے ذریعہ لین دین نہیں کرتے اور وہ حوالہ ریکٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ اس ملک میں کتنے ہی مذہبی اور غیرمذہبی ادارے ایسے ہیں جو غیرملکوں سے چندے حاصل کرتے ہیں اوروہ وزارت داخلہ سے خصوصی اجازت حاصل کرکے ایسا کرتے ہیں۔ اگر ایسے ہی کسی ذریعہ سے مولانا کلیم صدیقی کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم دینی تعلیم کے لیے جمع ہوئی ہے تو وہ غیرقانونی کیسے ہوگئی؟اگر وہ واقعی غیر ملکی فنڈنگ حاصل کررہے تھے تو اس کی تحقیقات ای ڈی یا پھر انکم ٹیکس محکمے کو کرنی چاہئے تھی، لیکن انھیں اترپردیش اے ٹی ایس کے انسداد دہشت گردی دستہ نے ریمانڈ پر لیا ہے۔اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ وہ لوگوں کا مذہب تبدیل کرارہے تھے تو تبدیلی مذہب کا معاملہ دہشت گردی کیسے ہوگیا؟۔ یہ دراصل ہر مسلمان کو دہشت گرد اور ملک دشمن ثابت کرنے کی فرقہ وارانہ ذہنیت کا نتیجہ ہے جس میں حکومت کی پوری مشینری ملوث ہے۔

 

Ads