Jadid Khabar

پارلیمنٹ میں بحث سے حکومت کو گھبراہٹ کیوں؟

Thumb


سرمائی اجلاس کے پہلے ہی دن راجیہ سبھاسے اپنے ایک درجن ممبران کی معطلی نے اپوزیشن کوچراغ پا کردیا ہے۔ اس کارروائی کے ردعمل میں اپوزیشن نے پورے اجلاس کابائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔حالانکہ یہ معطلی گزشتہ اجلاس میں بعض ممبران کے ’نامناسب‘رویہ کی وجہ سے عمل میں آئی ہے، لیکن اس کارروائی کے خلاف تمام اپوزیشن پارٹیاں متحد ہوگئی ہیں اورانھوں نے اسے حکومت کے غیرجمہوری عمل سے تعبیر کیا ہے۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائیڈو کا کہنا ہے کہ ان ممبران کی معطلی اس وقت تک واپس نہیں ہوگی، جب تک یہ ممبران معافی نہیں مانگیں گے، جبکہ اپوزیشن ممبران کا اصرارہے کہ وہ مفاد عامہ کے موضوعات پر حکومت کی توجہ مبذول کراتے رہیں گے اور اپنے اس عمل کے لیے معافی ہرگز نہیں مانگیں گے۔اس طرح سرمائی اجلاس کے آغاز میں ہی راجیہ سبھا میں تعطل پیدا ہوگیا ہے۔
پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن حکومت کے رویہ کو دیکھ کراندازہ ہوتا ہے کہ وہ اب اپنے کسی عمل پر کوئی تنقید برداشت نہیں کرنا چاہتی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپوزیشن کی ہر بات حکومت کو ناگوار گزرنے لگی ہے اور وہ ایک ایسا ایوان تشکیل دینا چاہتی ہے، جہاں مخالفت کی کوئی آواز ہی نہ اٹھے۔راقم نے اجلاس شروع ہونے کے موقع پر یہ منظر خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ راجیہ سبھا میں لنچ کے بعد ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو وزیرزراعت نے تینوں متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے کا بل پیش کیا۔اس کے بعد اپوزیشن رہنما ملک ارجن کھڑگے نے جیسے ہی ان قوانین کے مضر اثرات اور حکومت کی کوتاہیوں پر تنقید شروع کی تو ڈپٹی چیئرمین نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا اور دوبارہ وزیرزراعت کو اپنی بات کہنے کا موقع دیا۔جب ایوان میں اس پرہنگامہ شروع ہوا تو ایوان کی کارروائی ملتوی کردی گئی اور اس طرح تینوں متنازعہ قوانین کو واپس لینے کی کارروائی کسی بحث ومباحثہ کے بغیر محض چار منٹ میں پوری ہوگئی۔ یہی سب کچھ ایوان زیریں لوک سبھا میں بھی ہوا اورمحض سات منٹ میں سب کچھ تمام ہوگیا۔
یہ وہی پارلیمنٹ ہے جہاں یو پی اے کے دور میں قانون سازی پرگھنٹوں بحث ہوا کرتی تھی اور بی جے پی ممبران زیربحث قانون کے مختلف پہلوؤں پر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیاکرتے تھے، لیکن اب پارلیمنٹ میں یہ سب نہیں ہوتا بلکہ حکومت آناً فاناً سب کچھ منظور کرالینا چاہتی ہے اورکسی بھی قسم کی تنقید کو بالائے طاق رکھ کر جمہوریت کے تسلسل کا اعلان کرنا چاہتی ہے، جبکہ پارلیمنٹ بحث ومباحثے کی سب سے معتبر جگہ ہے اور ماضی میں سیاست دانوں نے اس روایت کو بڑی محنت سے پروان چڑھایا ہے۔ ظاہر ہے جب ایوان میں مفادعامہ کے موضوعات پر بحث نہیں ہوگی اور حکومت عددی طاقت کے زعم میں سب کچھ ختم کرنے پر آمادہ ہوجائے گی تو پھر ہم کس منہ سے خود کودنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا باشندہ کہیں گے؟ تینوں زرعی قوانین کی واپسی کے لیے بھی وہی طریقہ کار بروئے کار لایا گیا، جو گزشتہ سال ان قوانین کو پاس کرانے کے لیے اپنایا گیا تھا۔ یعنی نہ تو ان قوانین کو پاس کراتے وقت اپوزیشن کی رائے کو اہمیت دی گئی اور نہ ہی ان قوانین کی واپسی کے وقت ان کی سنی گئی۔ حکومت کی خودسری نے یہ دن دکھائے کہ اسے تینوں متنازعہ قوانین واپس لینے پڑے۔جن قوانین کو کسانوں کے حق میں قرار دیا جارہا تھا، انھیں کسانوں نے یکسر مسترد کردیا اور ان قوانین کے خلاف ایسی تحریک چھیڑی کہ حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔حالات اس درجہ بے اطمینانی کے تھے کہ جب وزیراعظم نے خودقوم کے نام خطاب میں ان قوانین کی واپسی کا اعلان کیا تو کسانوں کو اس پر یقین نہیں آیا اور انھوں نے کہا کہ جب تک حکومت انھیں پارلیمنٹ میں واپس نہیں لے گی، وہ اپنی تحریک جاری رکھیں گے، لہٰذا حکومت نے سرمائی اجلاس کے پہلے ہی روز ان قوانین کی واپسی کا بل دونوں ایوانوں میں پیش کیا۔مگر اس دوران اپوزیشن کی زبان بند کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں جو کچھ ہوا اس نے سب ہی کو حیرت زدہ کردیا۔
پارلیمنٹ سے بطورصحافی میرے تعلق کا دورانیہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔میں نے اس عرصے میں یہاں بڑے اہم مباحث کا عینی مشاہدہ کیا ہے۔ جب میں نے پارلیمنٹ کی رپورٹنگ شروع کی تھی تو ملک میں ٹی وی چینلوں کا کوئی وجود نہیں تھا اور نہ ہی لوک سبھا اور راجیہ سبھا ٹی وی شروع ہوئے تھے۔ نہ تو پارلیمانی کارروائی براہ راست ٹیلی کاسٹ ہوتی تھی اور نہ ہی اس کو کیمرے میں قید کیا جاتا تھا۔سب لوگ اخبار،دوردرشن یا ریڈیوکے توسط سے ہی پارلیمنٹ کی کارروائی سے واقف ہوتے تھے۔میں نے دیکھا ہے کہ کسی بھی مسودہ قانون پر اپوزیشن رہنما کئی کئی دن تقریریں کرتے تھے اور حکومت انھیں غور سے سنتی تھی اوراس کے بعداپوزیشن کے مشورے سے ضروری ترمیمات کی جاتی تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب پارلیمنٹ میں بڑے بڑے تجربہ کار اور نامی گرامی سیاست داں موجود تھے۔ وہ چندر شیکھر ہوں یا اٹل بہاری واجپئی۔ سومناتھ چٹرجی ہوں یا غلام محمود بنات والا۔ ان لوگوں کے تجربوں سے حکومت فائدہ اٹھاتی تھی۔ گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ کے دوران سب سے اچھی تقریریں  مجھے پارلیمنٹ میں ہی سننے کو ملیں۔ اب نہ ان جیسے سیاست داں ہیں اور نہ ہی حکومت کے اندر اتنا تحمل کہ وہ تنقید کو برداشت کرسکے۔ حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جو اپوزیشن میں رہنے کے دور میں ہرروز پارلیمنٹ میں ہنگامہ کرتے تھے اور حکومت کو گھٹنوں کے بل چلنے پر مجبور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے، لیکن آج جب یہ اقتدار میں ہیں تو انھیں اپوزیشن لیڈروں کی صورتیں بری لگتی ہیں۔ موجودہ حکمرانوں کے دور میں یہ کتنا بڑا تضاد ہے۔ جمہوریت کی بقاء اور تسلسل کے لیے یہ بے حد ضروری ہے کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی مضبوط آواز ہونی چاہئے، تاکہ وہ حکومت کے ہرعمل پر نگاہ رکھے اور اسے عوام دشمن کاموں سے باز رکھ سکے۔مگر یہ کیسی حکومت ہے جسے اپوزیشن کا وجود ہی گوارا نہیں ہے۔
یہ بات اب پوری طرح آشکارا ہوچکی ہے کہ تینوں زرعی قوانین جنھیں حکومت نے مخالف آوازوں کو نظرانداز کرکے زورزبردستی پاس کرایا تھا پوری طرح کسانوں کے مفادات کے خلاف تھے اور ان کا براہ راست فائدہ سرمایہ داروں کو پہنچ رہا تھا، لیکن حکومت نے عددی طاقت کے بل پر ان متنازعہ قوانین کو پارلیمنٹ سے پاس کرالیا۔تینوں بل پاس ہونے کے بعد کسانوں میں زبردست غم وغصہ پھیل گیااور وہ سراپا احتجاج بن گئے۔گزشتہ ایک سال کے دوران ملک گیر سطح پر کسانوں نے جو تحریک چلائی، اس میں حکومت کے جابرانہ طریقوں کی زد میں آکر700 سے زیادہ کسانوں کی موت ہوئی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حکومت نے کسانوں کی تحریک پر کان دھرنے کی بجائے انھیں دہشت گردوں، غنڈوں اور موالیوں سے تشبیہ دے کر انھیں ڈرانے کی کوشش کی۔سینکڑوں کسانوں کی موت ہوجانے کے باوجود اسے کوئی احساس ندامت نہیں ہوا۔حکومت نے کسی ایک کسان کے اہل خانہ کو پُرسہ تک نہیں دیا۔ یہ اقتدار کے گھمنڈ کی سب سے بڑی نشانی ہے۔
ان تینوں قوانین کی واپسی کے بعدیہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ غلط تھا اور اپوزیشن نے ان قوانین پر جو اعتراض درج کرایا تھا، وہ بالکل درست تھا، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس پر پارلیمنٹ میں بحث کی اجازت ہی نہیں دی جارہی ہے۔ حکومت کو ڈر ہے کہ کہیں اس بحث کے دوران اس کی نااہلی ثابت نہ ہوجائے۔حالانکہ یہ اسی وقت ثابت ہوگیا تھا جب وزیراعظم نے تینوں قوانین کی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے کسانوں سے معافی مانگی تھی۔جمہوریت کے مندر کہے جانے والی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا گلا گھونٹنا کسی بھی طورمناسب نہیں ہے۔ جمہوری قدروں کا فروغ تبھی ممکن ہے جب حکومت خود پر ہونے والی تنقید کو صدق دلی سے قبول کرے اور اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کرے۔

 

Ads