Jadid Khabar

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

Thumb

وزیراعظم نریندرمودی نے حال ہی میں ایک پروگرام کے دوران کہا ہے کہ ہندوستان کی عالمی شبیہ کو خراب کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔حالانکہ انھوں نے اپنے بیان میں کسی خاص واقعہ کی طرف اشارہ نہیں کیا، لیکن سمجھا جارہا ہے کہ ان کا اشارہ اس ردعمل کی جانب تھا جو پچھلے دنوں ہریدوار دھرم سنسد میں کی گئی نسل کشی کی اپیلوں کے بعدعالمی پیمانے پر سامنے آیا ہے۔اس پر وزیراعظم کی تشویش حق بجانب ہے لیکن انھوں نے ایسے عناصر کے خلاف اب تک کوئی بیان نہیں دیا ہے جو پوری دنیا میں ہندوستان کی شبیہ داغدار کرنے میں مصروف ہیں۔حکومت کے طرزعمل سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان عناصر کو اس کی دانستہ یا نادانستہ حمایت حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق جج فالی نریمان نے  کہا ہے کہ بدقسمتی سے حکمراں جماعت میں اعلیٰ عہدوں پر فائزافراد نفرت انگیزتقریروں پر نہ صرف خاموش ہیں بلکہ وہ اس کی حمایت بھی کررہے ہیں۔انھوں نے ایک ویبینارسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ بھی ہیں، جنھوں نے حقیقت میں پورے فرقہ کے قتل عام کا مطالبہ کیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے حکام تیار نہیں ہیں۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا طوفان بڑھتا ہی چلاجارہا ہے۔ روزکوئی نہ کوئی ایسی خبر آتی ہے جو اس طوفان بلاخیز میں اضافہ کردیتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض عناصر مسلمانوں کو حرف غلط کی طرح مٹانے پر کمربستہ ہیں۔ان کی زبان، لب ولہجہ اور عزائم دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اندرمسلم دشمنی کا زہر اس حد تک سرایت کرگیا ہے کہ وہ اس میں خوداپنے وجود کو بھی جلاکر خاک کردینا چاہتے ہیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ نفرت کی یہ آنچ ملک کی یکجہتی اور سلامتی تک آپہنچی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے فوجی افسران اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔آپ کو یاد ہوگا کہ ہریدوار دھرم سنسد کی اشتعال انگیزی اور اس کے مضراثرات کے خلاف سب سے پہلے دوسابق فوجی سربراہوں نے ہی زبان کھولی تھی اور اب تین سبکدوش اعلیٰ فوجی افسران نے اس کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور دھرم سنسد کی تقریروں کو قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بتایا ہے۔اتنا ہی نہیں انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مسلح افواج کی جنگی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے، کیونکہ آزادی کے بعد اس طرح کی صریح غیرآئینی اور نفرت انگیزتقریریں پہلے کبھی نہیں کی گئیں۔
آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر نفرت کا یہ طوفان اسی طرح ٹھاٹھیں مارتا رہا تو پھر اس ملک کے اتحاد اوریکجہتی کا کیا ہوگا؟کیا ملک اپنے محور پر باقی رہے گا یا پھر یہاں سب کچھ جل کر راکھ ہوجائے گا؟ یہی وجہ ہے کہ دوراندیش ہیں اور ملک کی سلامتی کی فکر رکھنے والے عناصربار بار حکومت کو خبردار کررہے ہیں کہ اب بھی وقت ہے کہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائے ورنہ کل بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ نفرت کا کاروبار کرنے والوں سے حکومت کی چشم پوشی کا ہی نتیجہ ہے کہ اب فرقہ پرست اور فسطائی ٹولہ مسلم خواتین پر وحشیانہ انداز میں حملہ آور ہورہا ہے۔مسلم خواتین کی نیلامی کے بازار سجانے والوں نے پہلے ’سلی ایپ‘بنایا، جب حکومت بیدار نہیں ہوئی تو وہ اور زیادہ جارحانہ انداز میں ’بلی بائی‘ ایپ کے ذریعہ نمودار ہوئے اور اب’کلب ہاؤس‘ کے نام سے انھوں نے شرانگیزی اور ذہنی غلاظت کے تمام ریکارڈ  توڑڈالے ہیں۔اگرحکومت اب سے چھ ماہ پہلے ہی خواب غفلت سے بیدار ہوجاتی تو نوبت یہاں تک نہیں پہنچتی۔ ایسی تمام غلیظ حرکتیں کرنے والوں کو اس بات پر فخر ہے کہ ’سیاں بھئے کوتوال تو ڈرکاہے کا۔‘نفرت کے بڑھتے ہوئے اس کاروبار کے خلاف ملک کے سرکردہ شہریوں نے بارہا وزیراعظم کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور وہ انھیں چٹھیاں لکھ لکھ کر نفرت کی اس مہم کے خلاف متنبہ کیا ہے، لیکن وزیراعظم مسلسل خاموش ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اس معاملے پر لب کشائی نہ کرنے کی قسم کھارکھی ہے۔ ارباب اقتدار کی اسی سردمہری سے پریشان ہوکر اب کچھ لوگوں نے ملک کی سب سے بڑی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔
 سب سے پہلے ہریدوار کی نام نہاد دھرم سنسد کے خلاف سینئر صحافی قربان علی کی عرضی پرسپریم کورٹ حرکت میں آیااوربدترین اشتعال پھیلانے والے یتی نرسنگھا نند اور وسیم تیاگی کو گرفتار کرکے جیل بھیجاگیا۔ اس کے بعد اب ملک کے کئی سرکردہ فوجی افسران نے سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر دھرم سنسد کی تقریروں کو قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے اپنی عرضی میں کہا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کے اس گھناؤنے کاروبار کا اثر محض قومی یکجہتی پر ہی نہیں پڑرہا ہے بلکہ اس سے عالمی برادری میں ہندوستان کی شبیہ داغدار ہورہی ہے اور اس کا فائدہ براہ راست ہندوستان مخالف طاقتوں کو پہنچ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے مسلح افواج کی کارکردگی بھی متاثر ہورہی ہے۔ جس کاخدشہ تینوں سابق فوجی افسروں نے سپریم کورٹ کے روبرو اپنی عرضی میں ظاہر کیا ہے۔
تینوں سبکدوش اعلیٰ فوجی افسران نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔عرضی دائر کرنے والے میجرجنرل ایس جی وومبٹکرے،کرنل پی کے نائراور میجر پریادرشی چودھر ی اعلیٰ پایہ کے سبکدوش فوجی افسران ہیں اور انھوں نے ملک کی سرحدوں پر اہم خدمات انجام دی ہیں۔انھوں نے ایڈووکیٹ اس جگدیش کے توسط سے دائر کی گئی عرضی میں سوشل میڈیا پرگردش کرنے والی ویڈیوز کا حوالہ دیا ہے جس میں اقلیتی طبقوں کی نسل کشی کی اپیل کی گئی ہے۔ اس عرضی کا اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں ہریدوار کی دھرم سنسد میں کی اس تقریر کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں پولیس اور فوج سے اقلیتوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس قسم کا ایک پروگرام دہلی میں بھی منعقد ہوا تھا جس میں سریش چوانکے نے ہندو راشٹر قایم کرنے کے لیے مرنے اور مارنے کی باتیں کہی تھیں۔سبکدوش فوجی افسران نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اس قسم کی ملک مخالف اور فرقہ وارانہ تقریریں نہ صرف ملک کے فوجداری قانون کے منافی ہیں بلکہ دستور کی دفعہ ۹۱ کی بھی خلاف ورزی کرتی ہیں۔یہ تقریریں نہ صرف ملک کے سیکولر تانے بانے کو داغدار کرتی ہیں بلکہ امن عامہ کو بری طرح متاثر کرنے کے شدید امکانات رکھتی ہیں۔درخواست گزاروں نے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات پرروک نہیں لگائی گئی تو اس سے مسلح افواج کے حوصلے اور ان کے آپسی میل جول پر سنگین اثر ات مرتب ہوں گے۔
یہاں سوال یہ ہے کہ ان سابق فوجی افسران کو اس بات کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ انھوں نے ملک کے فرقہ وارانہ تانے بانے کو برقرار رکھنے کے لیے ملک کی سب سے بڑی عدالت کا دروازہ کیوں کھٹکھٹایا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ فوج کے ان افسران نے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کی بازی لگائی ہے اور وہ اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ اگر ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوئی تو اس سے سرحد پار بیٹھے ہوئے ہمارے دشمنوں کو کتنا فائدہ پہنچے گا۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ ملک کے اندریگانگت اور یکجہتی کی فضا قایم رکھنا کتنا ضروری ہے، کیونکہ ہم اندرونی سلامتی کے بغیر اپنی سرحدوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔اندرونی خلفشار کا سب سے بڑا فائدہ مخالف قوتوں کو پہنچتا ہے۔اگرفرقہ پرست اور فسطائی عناصر یہ سوچتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکیاں دے کر اور ان کے خلاف اعلان جنگ کرکے محفوظ ومامون رہیں گے تویہ ان کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے، کیونکہ اگر آپ کسی چڑیا کے گھونسلے میں بھی ہاتھ ڈالیں گے تو وہ چونچ ضرور مارے گی۔ یہ چونچ اتنی بھاری  بھی پڑسکتی ہے کہ آپ کا ہاتھ کاٹنے کی نوبت آجائے۔ اس لیے کسی کو قتل عام کی دھمکی دے کر خود کو محفوظ سمجھنا شترمرغ کی چال توہوسکتی ہے،پرامن بقائے باہم کا اصول ہرگز نہیں ہوسکتی۔
ہریدوار کی نام نہاد دھرم سنسد میں مسلمانوں کے خلاف آخری درجے کی جو زہر افشانی کی گئیہے، اس کی بازگشت عالمی پیمانے پر بھی سنائی دی رہی ہے۔ اس مسئلہ پر امریکی پارلیمنٹ میں بھی بحث کی تیاری ہورہی ہے۔ ’دی ٹیلی گراف‘ کی اطلاع کے مطابق امریکہ میں مقیم ہندوستانی تارکین وطن گروپوں کے ساتھ’جینوسائڈ واچ‘اور ’امینسٹی انٹرنیشنل‘ جیسی حقوق انسانی کی تنظیمیں ہندوستان میں مسلمانوں کی نسل کشی کی اپیل پرامریکی پارلیمنٹ میں بحث کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس سماعت کا مقصدامریکی پارلیمنٹ میں ایک قرار داد پاس کرانا ہوگاجس میں ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کو متنبہ کیا جائے گاکہ انھیں نسل کشی سے متعلق اپیل اور اشتعال انگیزی کو روکنا ہوگا۔امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی جس نے گزشتہ دوسال سے ہندوستان کو ’خاص تشویش والے ملک‘ کے طورپر نشان زد کرنے کیاہے، وہ بھی اس معاملے کی سماعت کرسکتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں امریکی ہولو کاسٹ میوزیم نے قتل عام کے خطرات سے دوچار ملکوں کی فہرست میں ہندوستان کو دوسرے نمبر پر رکھا ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نام نہاد دھرم سنسد کے ٹھیکیداروں نے ہندوستان کی امیج کو کتنا نقصان پہنچایا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہے جانے والے اس ملک کی حیثیت عالمی برادری میں کتنی لچر ہوگئی ہے۔ یہ مودی راج میں ہندوستان کی عالمی تصویر ہے جو دن بہ دن دھندلی ہوتی جارہی ہے، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وزیراعظم اس پر تشویش کا اظہار تو کررہے ہیں، لیکن اس کا ازالہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

 

Ads