Jadid Khabar

کیا’عبادت گاہ ایکٹ‘ختم ہوجائے گا؟

Thumb

 مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے عبادت گاہ ایکٹ کے تناظر میں کہا ہے کہ ”کوئی بھی قانون عدالتی جانچ پڑتال سے ماوراء نہیں ہے۔“ان کا یہ بیان اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ مرکز نے اس معاملے میں جواب داخل کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے جو مہلت مانگی ہے وہ آئندہ  12دسمبر کو ختم ہورہی ہے۔امت شاہ کے بیان میں مرکز کے موقف کی جھلک صاف نظرآرہی ہے۔ عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق ایکٹ کی دستوری حیثیت پر سپریم کورٹ میں جو ناجائزسوال کھڑے کئے گئے ہیں، ان پر مرکزی حکومت ابھی تک کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے بچتی رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس ایکٹ کی دستوری حیثیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، ان کا براہ راست تعلق حکمراں جماعت سے ہی ہے۔ 
 گزشتہ ہفتہ اس معاملے کی سماعت کے دوران سالسٹر جنرل تشار مہتا نے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ کے روبرو اس معاملے کو التوا میں ڈالنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھاکہ مجھے  تفصیلی جواب داخل کرنے کے لیے حکومت سے اعلیٰ سطحی مشورہ کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔ بنچ نے انھیں 12دسمبر تک کی مہلت دیتے ہوئے اس پر آئندہ سال جنوری میں سماعت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔واضح رہے کہ اس معاملہ میں سپریم کورٹ گزشتہ سال مارچ کے مہینے سے مرکزی حکومت کے جواب کا انتظار کررہا ہے۔
سبھی کو معلوم ہے کہ جس وقت ایودھیا تنازعہ اپنے عروج پر تھا تو مستقبل میں اس قسم کے  تباہ کن تنازعات سے بچنے کے لیے1991میں اس وقت کی نرسمہاراؤ سرکار نے پارلیمنٹ سے ایک خصوصی ایکٹ منظور کرایا تھا۔اس ایکٹ کی رو سے ملک کی آزادی کے وقت جو عبادت گاہ جس حالت میں تھی، اس کی وہی حالت برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔بابری مسجدمعاملے کو اس قانون سے اس لیے الگ رکھا گیا تھا کیونکہ یہ معاملہ اس وقت عدالت میں زیرسماعت تھا۔اس قانون کے منظور ہوجانے کے بعد لوگوں کو یقین ہوچلا تھا کہ اگر بابری مسجد پر کوئی آنچ آئی بھی تو اس قانون کی رو سے ملک کی دیگر تاریخی مسجدیں محفوظ ہوجائیں گی۔اس وقت بعض دانشوروں کا بھی یہی خیال تھا کہ اگر بابری مسجد سے دستبرداری کی صورت میں دیگر عبادت گاہوں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن دوراندیش لوگوں کی اس وقت بھی یہی رائے تھی کہ بابری مسجد کا معاملہ اس ملک میں سیکولرازم کی سب سے بڑی آزمائش ہے، کیونکہ اس وقت بھی وشوہندو پریشد کے ہاتھوں میں ایسی تین ہزار مسجدوں کی فہرست تھی جو ان کے خیال میں مندروں کوتوڑ کربنائی گئی تھیں اورجن کی’واپسی‘کے لیے وہ تحریک چلارہے تھے۔لیکن بابری مسجد کی اراضی رام مندر کی تعمیر کے لیے ہندوفریق کے سپرد کئے جانے کے بعد تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک پٹارہ سا کھل گیا ہے۔ آئے دن کسی نہ کسی مسجد کے مندر ہونے کی بات کہہ کر مقامی عدالتوں میں جھوٹے مقدمات دائر کئے جارہے ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عدالتیں عبادت گاہ تحفظ  ایکٹ کی روشنی میں مسترد کرنے کی بجائے انھیں سماعت کے لیے منظور کررہی ہیں۔ ان حالات کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ ملک کی سبھی تاریخی مسجدوں کے نیچے ایک مندر تلاش کرکے مسلمانوں کو ان عبادت گاہوں سے محروم کردیا جائے گا۔
آپ کو یاد ہوگا کہ سپریم کورٹ کی دستوری بنچ نے جب بابری مسجد کی اراضی فریق مخالف کے سپرد کرنے کا فیصلہ سنایا تو اس میں دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی تسلیم کیا تھاکہ عدالت کو اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر بنائی گئی تھی۔لیکن بابری مسجد کا فیصلہ ہوجانے کے بعد جو لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ اب یہ تنازعہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا ہے اور مسلمان چین کی نیند سوسکیں گے، انھیں اس وقت اپنی غلطی کا احساس ہوا جب سپریم کورٹ کے فیصلے سے تحریک پاکر شرپسندوں نے دیگر مسجدوں پربھی سوال کھڑے کرنے شروع کردئیے۔ اس  سلسلہ کی سب سے خطرناک سازش بنارس کی گیان واپی مسجد کے خلاف کی گئی ہے۔ مقامی عدالت کی مدد سے یہ معاملہ اس حد تک قانونی پیچیدگیوں میں الجھادیا گیا ہے کہ اس کا حشر بھی بابری مسجد جیسا ہوتا ہوانظر آرہا ہے۔ خدا کرے ایسا ہرگز نہ ہو، لیکن اس گتھی کو جس انداز میں الجھایا گیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔بنارس کی گیان واپی مسجد ہی نہیں، متھرا کی شاہی عیدگاہ، بدایوں کی شمسی جامع مسجد کے بعد ابھی حال ہی میں منگلور(کرناٹک) کی ملالی مسجد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی گئی ہے۔ایڈیشنل سول جج نے ملالی مسجد کے پیروکاروں کی اس درخواست کو خارج کردیا جس میں ہندو تنظیموں کے مقدمہ کی پائیداری کو چیلنج کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ ہندو تنظیموں کی طرف سے مسجد کا سروے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے مسجد کے پیروکاروں کی اس معاملے کی سماعت وقف ایکٹ کے مطابق وقف ٹریبونل کے ذریعہ کرانے کی دلیل بھی خارج کردی۔یہ عدالتی فیصلہ بنارس کی گیان واپی مسجدکے معاملے میں کئے گئے خطوط پر دیا گیاہے۔کیونکہ ملالی مسجد کے نیچے بھی ایک مندر ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے دنوں جس وقت گیان واپی مسجد کے خلاف سازشوں کا بازار گرم تھا تو مسلم حلقوں اور سیکولر عناصر نے زور دے کر کہا تھا کہ1991کے عبادت گاہ ایکٹ کے تحت تمام عبادت گاہیں محفوظ ہیں اور ان کی حالت تبدیل نہیں کی جاسکتی۔لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ متعلقہ جج نے کہا کہ مذکورہ ایکٹ عدالتی سروے کرانے میں رکاوٹ نہیں ہے۔ اس کے بعد اس ایکٹ کی خلاف ورزیوں کے معاملات بڑھنے شروع ہوئے اور اب اس کی دستوری حیثیت کو ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل راکیش دویدی نے سپریم کورٹ کی بنچ کو بتایا کہ1991کے ایکٹ برائے مذہبی مقامات کی حیثیت کو پارلیمنٹ میں ناکافی بحث کے بعد منظور کیا گیا تھا، اس لیے اس ایکٹ کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ اس سے قومی اہمیت کے سوال جڑے ہوئے ہیں۔اس کے بعد مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کا تازہ بیان زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
سپریم کورٹ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق قانون کو چیلنج کرنے والی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک ایسے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جس کو خود سپریم کورٹ نے تسلیم کیا ہے کہ یہ ہندوستان کے اس عزم کا اظہار ہے کہ ملک میں تمام مذاہب برابر ہیں۔واضح رہے کہ بابری مسجد مقدمہ کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے اپنے تبصرے میں کہا تھا کہ ”یہ قانون دراصل اس بات کا اقرار ہے کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ملک کے تمام مذاہب کو یکساں احترام اور تحفظ فراہم کرنے کی ہے اور یہ ہندوستانی آئین کی بنیادی خصوصیت بھی ہے۔“
اس سلسلے میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ میں داخل درخواست میں کہا ہے کہ اس قانون کی بنیادی حیثیت اور اس پر عدالت عظمیٰ کے تبصرے کے باوجود اگر درخواست کنندگان کے دعوؤں کو تسلیم کیا گیا تو اس سے نئے مسائل اور تنازعات کھڑے ہوجائیں گے۔ بورڈ نے یہ بھی کہا کہ ان مفادات عامہ کی درخواستوں کے پس پردہ درخواست دہندگان کے سیاسی مقاصد کارفرما ہیں۔ اس طرح کے تنازعات دراصل سماج کے تانے بانے کو متاثر کرتے ہیں اور سماج کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کردیتے ہیں، جس کا مظاہرہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد قتل وغارت گری کی شکل میں سامنے آیا تھا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ1991کے قانون کا بنیادی مقصد ہی یہ تھا کہ مستقبل میں اس طرح کے دعوؤں پر روک لگائی جائے، کیونکہ مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق تنازعات بہت حساس ہوتے ہیں،جو قانون کی بالا دستی کو نہ صرف چیلنج کرتے ہیں بلکہ سماج کے امن وسکون کو بھی درہم برہم کردیتے ہیں۔“