Jadid Khabar

کسانوں کی محاذآرائی اور حکومت کا غرور

Thumb



اگر یہ کہا جائے کہ اونٹ پچھلے ساڑھے چھ سال میں پہلی بار پہاڑ کے نیچے آیا ہے تو بے جا نہیں ہوگا۔ کسانوں نے راجدھانی کا محاصرہ کرلیا ہے اور وہ نئے زرعی قوانین کی واپسی کے مطالبے پر مضبوطی سے قائم ہیں۔حکومت ان قوانین میں ترمیم پر تو راضی ہوگئی ہے مگر ان کی واپسی پر تیار نہیں ہے۔ مذاکرات کی نصف درجن کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینے والے صاحب بہادربے بسی اور بے کسی کی حالت میں ہیں، لیکن وہ اب بھی اقتدار کے گھمنڈ سے باہر آنے کو تیار نہیں ہیں۔انھیں کوئی یہ بتانے والا نہیں ہے کہ حکومت کا کاروبار صرف عددی طاقت کے بل پر نہیں چلتا بلکہ اس کے لئے عوامی مقبولیت درکار ہوتی ہے۔ اصل حکومت وہ نہیں ہوتی جو ڈنڈے کے زور پر چلائی جاتی ہے بلکہ اصل حکمراں وہ ہوتا ہے جو عوام کے دلوں پر راج کرتا ہے۔متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے کے لئے کسانوں نے احتجاج کی جو راستہ اختیار کیا ہے،اس نے ملک گیر شکل اختیار کرلی ہے۔پنجاب ، ہریانہ ،اترپردیش  اور مدھیہ پردیش سمیت ملک بھر کے کسان دہلی کی سرحد پر ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں۔ان کی تحریک دن بہ دن آگے بڑھ رہی ہے۔ کسانوں کے مطالبات کو بین الاقوامی تنظیموں کی حمایت بھی حاصل ہورہی ہے۔کسانوں کے احتجاج کو دوہفتے پورے ہوچکے ہیںاور ان کے حوصلے اور انتظامات اتنے بلند ہیں کہ وہ مہینوں ڈٹے رہ سکتے ہیں۔ان کے اتحاد اور یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کی کوششیں کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔حکومت کے کارندوں سے چھ دور کی بات چیت بے نتیجہ رہی ہے۔ مذاکرات ناکام ہونے کی بڑی وجہ صاحبان اقتدار کا وہ گھمنڈ ہے جو پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت کے خمار سے شروع ہوکر اسی پر ختم بھی ہوتا ہے۔
جس وقت کسانوں نے ہریانہ سرحد پر اپنا احتجاج شروع کیا تو سرکاری مشینری نے اسے لاٹھیوں اور پانی کی بوچھاروں سے سرد کرنے کی کوشش کی ، لیکن ایک بزرگ سکھ کی طرف اٹھنے والی لاٹھی حکومت کو اتنی بھاری پڑی کہ اب تک اس کا بھگتان کرنا پڑرہا ہے۔ آنسو گیس اور پانی کی بوچھاریں بھی ناکافی ثابت ہوئیں۔ پھر شاہین باغ کی طرح کسانوں کی تحریک کو بدنام کرنے اورانھیں خوفزدہ کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ جس طرح شاہین باغ کے مظاہرین کو دہشت زدہ کرنے کے لئے ان پر ملک دشمنی کے الزامات لگائے گئے تھے، اسی طرح پنجاب کے کسانوں کو ’’خالصتانی‘‘ کہہ کر پکارا گیا ۔یہ الزام حکمراں طبقہ کو بھاری پڑاہے ۔یہ بھی کہا گیا کہ احتجاج کرنے والے کسان نہیں بلکہ ایک سیاسی پارٹی کے کارکنان ہیں اور ان کا کسانوں کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لیکن گراؤنڈ رپورٹوں نے ثابت کیا کہ نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کی راہ اختیار کرنے والے دراصل کسان ہی ہیں اور انھوں نے مجبور ی کی حالت میں اس راہ کا انتخاب کیا ہے۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کے گزشتہ اجلاس میں حکومت نے زرعی قوانین پاس کرانے کے لئے چورراستوں کا استعمال کیا تھا۔جس انداز میں ان قوانین کو پارلیمنٹ سے پاس کرایا گیا، اس کی جمہوری تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان قوانین کونافذ کرنے سے قبل کسانوں کے کسی گروپ سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔ محض سرمایہ داروں کے مفادات کی تکمیل کے لئے ان قوانین کو کسانوں پر مسلط کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔یہی وجہ ہے کسانوں نے امبانی گروپ کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے اور اب ان کا نشانہ ملک بھرمیں ریل روکو تحریک شروع کرنے کا ہے۔یہ بات آج تک سمجھ میں نہیں آسکی ہے کہ موجودہ حکومت آخر کس کے مفادات کی تکمیل میں لگی ہوئی ہے۔ کیونکہ جن لوگوں نے اسے ووٹ دے کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا ہے، انھیں مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ عام آدمی کی آزمائشوں اور مشکلات کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا چلا جارہا ہے۔ ایسے قوانین اور ضابطے وضع کئے جارہے ہیں کہ عوام کی کمر ٹوٹتی چلی جارہی ہے۔وزیراعظم باربار یہی کہتے ہیں کہ ان کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہے۔انھوں نے پارلیمنٹ کی نئی اور انتہائی مہنگی عمارت کے’ بھومی پوجن‘ کی تقریب میں گرونانک کے اس قول کا حوالہ دیا کہ ’’جب تک دنیا رہے تب تک مذاکرات جاری رہنے چاہئے ۔ ‘‘لیکن یہ کیسی حکومت ہے کہ کسی بھی قسم کا قانون بنانے سے پہلے متعلقہ لوگوں سے مذاکرات کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتی۔ جب کشتی منجدھار میں پھنستی ہے تو اسے مذاکرات کی یادآتی ہے۔
حکومت کے کارندوں کا اب بھی یہی خیال ہے کہ کسانوں کی تحریک کے پیچھے کانگریس کا ہاتھ ہے۔ اس تحریک کی قیادت کیونکہ پنجاب کے کسان کررہے ہیں اور وہاں کانگریس برسراقتدار ہے، اس لئے اس خیال کو زیادہ تقویت ملتی ہے۔ہوسکتا ہے کہ اس تحریک کے کچھ سیاسی مقاصد بھی ہوں ۔ کسانوں کی اس تحریک کو اپوزیشن جماعتوں کی تائید اور حمایت کے خلاف بھی حکومت اور گودی میڈیا نے اپنی بھڑاس نکالی ہے۔ لیکن اس میں نیا کچھ بھی نہیں ہے ۔ جب بھی حکومت کے خلاف کوئی تحریک زور پکڑتی ہے تو اسے اپوزیشن کی حمایت حاصل ہونا ایک فطری بات ہے۔ خود بی جے پی جب اپوزیشن میں تھی تو وہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتی تھی۔اب اگریہی کام کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں کررہی ہیں تو اس پر بی جے پی لیڈروں کے پیٹ میں مروڑکیوں ہورہی ہے۔
 سب سے بڑی سوال یہ ہے کہ اگر کسانوں کی یہ تحریک کانگریس نے شروع کرائی ہے تو حکومت کے پاس اس کا کیا جواب ہے کہ نئے زرعی قوانین کے خلاف سب سے پہلا احتجاج اس کی سب سے مضبوط حلیف پارٹی اکالی دل(بادل)نے کیوں کیا؟ اور اس مسئلہ پر حکومت سے اپنی حمایت کیوں واپس لی ؟ ظاہر ہے یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب بی جے پی کے پاس نہیں ہے۔وہ اپنے خلاف اٹھنے والی ہرآواز کو ملک دشمنی سے تعبیر کرنا جانتی ہے۔یہ کسی کو دبانے اور کچلنے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج اور ان کی پرامن تحریک کو کچلنے کے لئے حکومت نے یہی حربہ اختیار کیاتھا۔ یہاں تک کہ اس تحریک میں سرگرم حصہ لینے والوں کو شمال مشرقی دہلی کے فسادات کا کلیدی مجرم قرار دے کر سنگین دفعات کے تحت گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا ۔ اتنا ہی نہیں انھیں ایک بین الاقوامی سازش سے جوڑنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کی گئی۔ آج بھی اترپردیش اور ملک کے دیگر حصوں میں اس تحریک میں حصہ لینے والوں کی قرقیاں اور گرفتاریاں ہورہی ہیں۔
گزشتہ جمعرات کو کسانوں کی تحریک کے دوران دہلی کے ٹیکری بارڈر پر اس وقت عجیب وغریب منظر دیکھنے کو ملا ، جب کسانوں نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری اور ان کی ہراسانی کے خلاف احتجاج کیا۔اس اعتبار سے کسانوں کا یہ احتجاج حکومت کی ظالمانہ روش کے خلاف ایک مضبوط آواز کی شکل اختیار کررہا ہے۔ٹکری بارڈر پر دھرنے پر بیٹھے ہوئے کسانوں کے اسٹیج اور خواتین کے ہاتھوں میں شرجیل امام اور عمر خالد کے علاوہ بھیما کورے گاؤں کے ملزمان کے پوسٹر تھے ، جن پر انھیں رہا کرنے کے مطالبات لکھے ہوئے تھے۔ اس پروگرام کا اہتمام کسانوں کی تنظیم بھارتیہ کسان یونین ایکتانے کیا تھا۔ گرفتار کارکنوں کی تصاویر کے ساتھ ایک بڑی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے سیکریٹری جوگندر سنگھ نے کہا کہ’’ آج زندہ رہنے کا حق، زندگی کی بہتری کے لئے لڑنے کا حق اور انسانیت کے وقارکے لئے سنگھرش کرنے کا دن ہے۔ یہ دن وہ کسان منارہے ہیں جو اپنے حقوق کے لئے لڑرہے ہیں۔ ‘‘مجموعی طور پر کسانوں کی یہ تحریک حکومت کی جابرانہ اور ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف ایک مضبوط محاذ کی شکل اختیار کرچکی ہے اور اس کا دائرہ دن بہ دن بڑھتا چلا جارہا ہے۔ گزشتہ ساڑھے چھ سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ صاحب بہادر کی کشتی ہچکولے کھارہی ہے۔کسانوں نے اب کی بار ایسے بیج بوئے ہیں کہ ان کے پھل مظلوموں کو ضرور ملیں گے۔

 

Ads